Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

Rs3,553 million budget presented in District Council

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے منظور شدہ گرانٹس کے تقابلی جائزے سے یہ واضح ہو تا ہے کہ ترقیاتی فنڈ زیادہ ہونے کی بجائے 23کروڑ سے گھٹا کر 16ر دی گئی ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اسی طرح اخراجات جاریہ کیلئے بھی ضلع کو رواں سال ملنے والی رقم گذشتہ سالوں سے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2015-16کے اے ڈی پی کی مد میں صوبائی حکومت کی طرف سے 50% عدم آدائیگی کی بنا پر 2016-17کے اے ڈی پی فنڈ سے 50% رقم مذکورہ سکیموں پر خرچ کیا گیا اور 2016-17کے فنڈ سے خرچ شدہ رقم کی نسبت نشاندہی شدہ سکیموں کیلئے بھی متعلقہ فورم سے رقم کی منظوری دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے دوران ایک کروڑ اٹھاسٹ لاکھ روپے آفات سماوی میں متاثرہ روڈز ، بلڈنگز اور واٹر سپلائی اسیکمز کی بحالی کیلئے رکھے گئے تھے لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر وہ رقم استعمال نہیں ہو سکے تھے ۔ یہ رقم رواں مالی سال کے دوران متعلقہ محکموں کو جاری کئے جائیں گے ۔ ضلع ناظم نے سال6-17 کا ریوائزڈ بجٹ بھی منظور ی کیلئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہماری ضرورت کے مطابق فنڈ جاری نہیں کئے ۔ ہم نے صوبائی حکومت سے چار کروڑ پچاسی لاکھ پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے ستاون لاکھ اکتالیس ہزار روپے جاری کئے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گذشتہ سال 58.109ملین روپے گرانٹ دینے کا وعدہ کیا تھا جبکہ مالی سال کے اختتام پر انہوں نے صرف 14.412ملین روپے جاری کئے ۔ جس کی وجہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی بجلی لائن اور واٹر سپلائی سکیم کے کام نہیں کئے جا سکے ۔ ضلع ناظم نے کہا کہ صوبائی حکومت نے موجودہ سسٹم کے ذریعے بلدیاتی نمایندگان کو مصیبت سے دوچار کر دیا ہے ۔ خصوصا ضلع کونسل کے ممبران انتہائی مشکل سے دوچار ہیں ۔ اس موقع پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مولانا محمودالحسن نے کہا کہ جمہوری حکومتیں بلدیاتی نمایندگان کو بالکل قبول نہیں کرتیں ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت ہر سال بجٹ کے سلسلے میں جھوٹ اور دھوکا دہی سے کام لے رہا ہے اور وہ فنڈ فراہم نہیں کر رہا ۔ جس کا وہ وعدہ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزید یہ تضحیک برداشت نہیں کریں گے اور اجتماعی استعفیٰ دے کر موجودہ حکومت کی دوغلے معیار کو دُنیا کے سامنے واضح کریں گے ۔ اجلاس میں اکاؤنٹس کمیٹی کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور اس ا مر کا اظہار کیا گیا کہ سابقہ بجٹ کے اخراجات کی تفصیل کونسل میں پیش کی جائے ۔ اجلاس میں سی اینڈ ڈبلیو اور پبلک ہیلتھ کو دوبارہ صوبائی حکومت کی طرف سے اپنی تحویل میں لینے کے عمل کو انتہائی نامناسب قدم قرار دیا گیا ۔ اس موقع پر چترال کے ساتھ ترقیاتی بجٹ میں امتیازی سلوک کرنے کے خلاف کورٹ میں جانے کے حوالے سے بات کی گئی ۔ بجٹ اجلاس میں ممبران ڈسٹرکٹ کونسل رحمت غازی ، عبد الطیف ، فدائے مصطفی ایڈوکیٹ ، شیر محمد ، غلام مصطفی ،مولانا محمودالحسن ، رحمت الہی اور محمد حسین نے حصہ لیا ۔ کنوئنیر نے اجلاس بدھ تک ملتوی کردی۔]]>

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!