Woman issued over Rs100,000 power bill

BILL اس کے بعد بلوں کا سلسلہ شروع ہوا اور میں بل ادا کرتی رہی۔ میں نے مورخہ 5جون 2015 کو مبلغ 18,000/- روپے کا بل واپڈا کو ادا کیا۔ اسطرح مورخہ 18/09/2015 کو ایس ڈی اؤ پیسکو چترال نے مجھ سے مبلغ 40 ہزار روپے بقایاجات کے نام سے جمع کرانے کے لئے کہا تو میں نے جی پی او چترال میں 40,000/- روپے کا بل جمع کرایا ۔ ماہ نومبر میں ایک اور بل مبلغ 1,06,343/- روپے کا مجھے موصول ہوا تو میں بل جمع کرانے سے انکاری ہوئی توایس ڈی اؤ پیسکو اور اُس کا دیگر عملہ مورخہ 28/11/2015 کو بجلی کا کنکشن بھی منقطع کردیا اور ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر 500گھرانوں کے بلوں کو اکھٹا کیا جائے تو اتنے بل نہیں بن سکتے ہیں۔ میں کوئی فیکٹری نہیں چلارہی ہے اور نہ ہی بجلی سے کوئی کاروبار کررہی ہوں۔ میری تین ممبران پر مشتمل چھوٹی فیملی ہے جس میں ضروریات زندگی کے محدود سامان ٹیلی وژن اور فریج موجود ہیں۔ میرا شوہر بچوں کے نان نفقہ پیدا کرنے کے سلسلے میں ملک سے باہر سعودی عرب میں محنت مزدوری کررہاہے۔ میں اُس کی غیر موجودگی میں اپنے تین بچوں کے ہمراہ اپنے گھر میں رہائش پذیر ہوں۔ محکمہ پیسکو / واپڈا کے ذمہ داروں کی جانب سے مجھے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان کا بھی خطرہ ہے۔ پورے محلے کے میٹر کہیں دور کھمبے میں نصب شدہ ہیں اور واپڈا کے اہلکار اپنی مرضی سے بجلی کا میٹر تبدیل کرتے رہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ واپڈا کے اہلکار ضرور کوئی ڈیفالٹر میٹر میری میٹر کی جگہ نصب کئے ہونگے اور اُس کے بقایا جات میرے کھاتے میں ڈال رہے ہونگے۔ میں وزیر اعظم پاکستان ، چےئرمین واپڈا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ ،ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے قابل رحم حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ واپڈا / پیسکو کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاکر ناجائز طور پر وصول شدہ زائد رقم مجھے واپس دلوائی جائے۔ نیز محکمہ پیسکو / واپڈا کے ظلم و ستم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مجھے اور میری فیملی کو محفوظ فرمائی جائے جوکہ پاکستان کے آئین کے مطابق مجھے حاصل ہیں اور فوری طور پر بجلی کنکشن بحالی کی جائے۔ ]]>

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *