Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

خواب بے تعبیر

javedدھڑکنوں کی زبان
محمد جاوید حیات ؔ
’’سارے والدین سے میری گذارش ہے کہ اولاد کے لئے خواب دیکھنا چھوڑ دیں ‘‘یہ میرے جیسے ایک ان پڑھ ، مزدور اور مجبور والد کا جملہ ہے ۔ جس نے بڑی افسر دگی ، پژمردگی اور دلل شکستگی سے کہا ۔۔۔’’گود ہری ہلو‘‘یہ یہ ایک ایسی آرزو اور ایک ایسا خواب ہے جو شادی کے بند ھن سے پہلے ہی نظر آتا ہے ۔ شادی کے بعد اولاد کی آمد کی خوشی والدین کی دنیا ہوتی ہے۔ پھر ان کی پرورش اور تربیت میں والدین کیا کیا دکھ اٹھا تے ہیں وہ الگ کا نٹوں کا سیج ہے ۔
حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں ایک نوجوان کے بارے میں شکایت آئی کہ وہ اپنی ماں کو گالیاں دیتا ہے ۔ حضر ت عمرؓ نے اس کو طلب کیا اور ایک مشک میں صرف ہوا بھر کے اس کے پیٹ کے ساتھ باند ھا کہ وہ اس کو ہر حال میں ساتھ لے کے پھرے ۔ نوجوان ایک دن بھی یہ برداشت نہ کر سکا ۔ حضر ت عمرؓ نے فرما یا ۔ نوجوان ایک انسان تجھے 9 مہینے اس طرح اٹھا کے پھرتی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ۔۔۔۔مگر اولاد کو کیا ایسی محسن کو گالیاں دینی چا ہئے ۔ جب اولاد کے بارے میں والدین کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں تو والدین ٹوٹ کے رہ جاتے ہیں ۔ وہ ساری عمر اس دکھ میں گھلتے رہتے ہیں ۔ دوسروں کی کامیابیاں دیکھ کر رشک سے جلتے رہتے ہیں آہ بھرتے رہتے ہیں ۔ آرزو کرتے رہتے ہیں ۔ ان کی زندگیوں میں خوفناک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب وہ اولاد کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ۔ اولاد ان کو ناسمجھ ، جھاٹ اور تنگ دل ہونے کا طعنہ دیتی ہے ۔ آج اگر والدین اپنی اولاد کی کوئی فرمائش پوری نہ کریں تو کل وہ ہی بہانا بنا کے ملامت کریں گے کہ ’’میں آج ڈاکٹر ہوتا ، انجینئر ہوتا، صدر پاکستان ہوتا مگر میرے والدین نے میرا یہ شوق پورا کرنے میں میری مدد نہ کی ۔ حالانکہ نہ ان کے پاس کوئی شوق ہوتا ہے نہ اس شوق کے پوار کرنے کے وہ اہل ہوتے ہیں ۔
آج کی اولاد کے باغی ہونے کی وجہ ان کے والدین ہی ہیں ۔ والدین ان کی مناسب تربیت نہیں کر سکتے ۔ اپنی کمائی کا خیا ل نہیں رکھتے ۔ پھر معاشرہ ، تعلیمی ادارے سب اس میں شامل ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اکثر والدین کے خواب جب ٹوٹتے ہیں تو وہ بکھر کر رہ جاتے ہیں ۔ ان کی زندگیاں بے رونق ، بے مزہ ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ وہ اولاد کی ہر خواہش کو پوری کرنے میں جس طرح زندگی گذاری تھی وہ فضول لگتی ہے ۔وہ اولاد جس کے کھیلونوں کا شمار نہیں ہوتا ۔ اس کے کپڑوں ، جوتوں کی تعداد لا تعداد ہوتی ہے ان کی گڑیوں کی شادی پر پیسے خرچ ہوتے ہیں ۔ ان کی سالگرہ پر رقم خرچ ہوتی ہے ۔ ان کی مسکراہٹ پر گھر بار روشن ہوتا ۔ آج وہ ہر لحاظ سے باغی نظر آتا ہے ۔ ان کے کپڑے وضع ، قطع، نشست وبرخواست ، انداز ، آواز سب ایک جنونی کی بے ترتیب حرکتیں ہوتی ہیں ۔ اور والدین ان کے نزدیک روبوٹ ۔۔۔باپ بیٹھا ہے کوئی بات پوچھتا ہے بیٹا مسیچ کر رہا ہے ماں آنکھیں بیٹی کے چہرے پہ جمائے کسی سوال کے جواب کا منتظر ہے بچی گیم کھیل رہی ہے ۔ یانیٹ پر مصروف ہے ۔ یہ شاید اولا د نہیں خدا کا عذاب ہے۔ غذاب کے لئے کوئی بھی خواب نہیں دیکھا کرتا ۔اور نہ آرزو کرتا ہے ۔
آج کی بے چنیوں کا 90 حصہ اولاد کی وجہ سے ہے ۔ یہ وجہ ہم سب کی ہے ہماری تعلیم تربیت سے خالی رہے ۔ہم انگریزی سیکھنے، سائنس کے ٹر مز یا د کرنے اور ’’ تربیت ‘‘ کی نقل کو تعلیم کانام دیتے ہیں۔ ہم نے تہذیب ثقافت ، شرافت ، مذاہب اور خلاق و کردار کو تعلیم سے نکال دیا ہے ۔اس لئے ایک والد کی گذارش ہوتی ہے کہ آج کے والدین اولاد کے لئے خواب دیکھنا چھوڑ دیں ‘‘ رسول مہربان ؐ نے نوجوان کا ہاتھ اس کے باپ کے ہاتھ میں دے کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے سب کچھ تمہارے باپ کا ہے ۔آج کل کے والد اپنی اولاد سے اس کے رزلٹ کے بارے میں نہیں پوچھ سکتا ۔ اس کی پڑھائی اس کی سرگرمیوں ، اس کی مصروفیات ، اس کے دن ،اس کی راتو ں کے بارے میں نہیں پوچھ سکتا ۔اس کے دوستوں ک اس کی نجی محفلوں اس کی خوراک پوشاک اس کی عادات کے بارے میں جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کہہ سکتا اس لئے وہ خواب نہ دیکھنے کی دھاہی دے رہا ہے ممکن ہے کہ کوئی خوش قسمت ترین والد ایسا ہو جس کا خواب پورا ہو ا ہو ۔اس کی اولد اس کی معیار پر پورا اترے ۔
ہماری تربیت میں بہت ساری خرابیاں ہیں ہم جو ہری کی نظر نہیں کرھنتے اولاد کو حالت کے لئے تیار نہیں کرسکتے ۔ان کو خلاق وکردار کا سبق نہیں پڑھاسکتے بس خواب دیکھا کرتے ہیں حالانکہ خالی ’’ توقع نہیں ‘‘ توکل ‘‘ کی ضرورت ہے جس ہستی کے ہاتھ میں ان کا مستقبل ہے ۔ اس کے سامنے سر بہ سجود ہونے کی ضرورت ہے والد کو صالح ہونے کے لئے دعا کر نے کی ضرورت ہے ۔اگر ایسا کرسکیں تو پھر شکوہ کرنے کاموقع نہیں آئے گا ۔اور نہ کوئی دھائی دے گا کہ ’’خواب دیکھنا چھورڈدو‘‘ قرآن حکیم نے اولاد کو فتنہ سے تعبر کی اس لئے کہ اولاد ہمیں اللہ کی یاد سے عافل کرتی ہے ۔اولاد کو نعمت سمجھ کے رب کے حوالہ کرناچاہیے کیونکہ تمام خیر اس کے ہاتھ میں ہے۔

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!