kalash

KP Assembly Approves Kalash Marriage Bill

Peshawar, July 20, 2026: The Khyber Pakhtunkhwa Assembly has passed the Kalash Marriage Bill 2026, introducing a legal framework for marriages and family matters within the Kalash community.

Under the new law, marriages will only be valid if both parties give their free and mutual consent. The bride and groom must be at least 18 years old, mentally competent, and not fall within prohibited degrees of relationship. The bill also prohibits first-cousin marriages within the Kalash community.

The legislation makes the registration of all Kalash marriages mandatory through a designated local marriage registrar. Official records of marriages, divorces, and related family matters will be maintained by the relevant authorities.

Kalash Marriage Bill: Minimum Age and Other Key Points

The bill states that divorce, khula, and the dissolution of marriage will be handled in accordance with Kalash customs and traditions. In the event of a husband’s death, inheritance and property rights will also be determined under the community’s traditional system.

The law provides penalties, including fines, for violations such as failure to register marriages or providing false information.

The bill was introduced in the provincial assembly by Local Government Minister Meena Khan Afridi and is aimed at providing legal recognition to the Kalash community’s marriage customs and family laws.

KP Assembly Refers Kalash Marriage Bill to Committee for Vetting

2 thoughts on “KP Assembly Approves Kalash Marriage Bill”

  1. دو چیزوں کیلئے میں نے یہ خبر تفصیل سے پڑھی۔ دونوں باتیں ناپید تھیں۔ کسی مخصوص کمیونٹی کی ایک رسم کیلئے آپ قانون سازی کررہے ہیں تو پہلے اس کمیونٹی کو ڈیفائن کرتے ہیں، وہ کسی اور دستاویز میں ہوگیا ہو تو مجھے علم نہیں لیکن اس قانون کے تناظر میں نہیں ہوا، دوسرا یہ قانون کس پر نافذ ہوگا۔ کالاش پر۔ کالاش کی تعریف ہونی چاہئے۔ کیا ان پر بھی لاگو ہوگا جو مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ نکتہ واضح نہیں کیا گیا ہے تو اس پر عمل درآمد میں پیچیدگیاں ہوں گی

  2. خیبر پختونخوا اسمبلی میں کالاش برادری کی شادی بیاہ کی رسومات سے متعلق ایک بل پیش کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی کھڑا ہو گیا ہے: جن لوگوں کی صدیوں پرانی تہذیب، شناخت اور روایات اس بحث کے مرکز میں ہیں، ان کی آواز کہاں ہے؟ یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ کالاش کے مستقبل، ان کے رسم و رواج اور ان کی ثقافتی شناخت پر قانون سازی کی بحث جاری ہے، مگر چترال کے وہ نمائندے، جنہیں اس آواز کو ایوان تک پہنچانا چاہیے تھا، کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔

    ایک قبائلی پختون قانون ساز مینا خان آفریدی کالاش شادی کی رسومات سے متعلق بل پیش کر رہا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ بل پیش کرنے والے کا تعلق کس قوم یا علاقے سے ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک منفرد اور قدیم ثقافت کے بارے میں فیصلے کرتے وقت اس ثقافت کے اپنے لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنایا گیا ہے یا نہیں؟

    کالاش کوئی سرکاری فائل کے چند صفحات نہیں کہ انہیں دفعات اور شقوں میں بند کر دیا جائے۔ یہ ایک زندہ تہذیب ہے، ایک جیتی جاگتی شناخت ہے، جس کے رسم و رواج، روایات اور سماجی اقدار کو سمجھنے کے لیے صرف اختیار کافی نہیں، شعور اور تعلق بھی ضروری ہے۔ مگر یہاں منظر کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ چترال کے نمائندوں کی خاموشی بھی اپنی ایک الگ کہانی بیان کر رہی ہے۔ جب کالاش کی صدیوں پرانی ثقافت اور ان کے رسم و رواج پر قانون سازی ہو رہی ہے، چترال کے منتخب نمائندے اپنی اپنی مصروفیات اور آرام دہ سیاسی دائروں میں نظر آتے ہیں۔

    مہتر فاتح الملک علی ناصر ایم۔پی۔اے، چئیرمین ڈیڈک و صدر پاکستان تحریک انصاف لوئیر چترال اپنی مہتری کے تاریخی سائے اور موروثی وقار کے حصار سے باہر نکلنے کی فرصت نہیں نکال پا رہے۔ ثریا بی بی اپنی ڈپٹی اسپیکرشپ کے منصب کی مصروفیات میں ہیں، جبکہ باقی تین خواتین اراکین اسمبلی، جو خواتین کی مخصوص نشستوں کے ذریعے ایوان تک پہنچی ہیں، اپنی محفوظ نشستوں کے اطمینان میں گم دکھائی دیتی ہیں۔

    مگر سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب چترال کی ایک منفرد تہذیب کے مستقبل پر بحث ہو رہی ہے تو چترال کی آواز کہاں ہے؟ جب کالاش کے رسم و رواج سے متعلق فیصلے لکھے جا رہے ہیں تو وہ نمائندے کہاں ہیں جنہیں اس ثقافت کا مقدمہ ایوان میں پیش کرنا چاہیے تھا؟ یہ خاموشی محض خاموشی نہیں؛ یہ نمائندگی کے دعوے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اور دوسری طرف کالاش ثقافت سے متعلق قانون سازی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ صرف ایک بل نہیں، بلکہ نمائندگی کے دعوے کا امتحان ہے۔ اگر کسی علاقے کے منتخب نمائندے اپنے ہی علاقے کی ایک منفرد تہذیب کے معاملے میں خاموش رہیں، تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ وہ ایوان میں آخر کس کی آواز بن کر بیٹھے ہیں؟

    میں تو کالاش کے لوگوں سے یہی کہوں گا کہ جب یہ نام نہاد نمائندے اگلی بار ووٹ مانگنے آپ کی چوکھٹ پر آئیں تو ان سے سوال ضرور کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کالاش تہذیب، ثقافت اور شناخت کی کوئی حقیقی فکر نہیں؛ انہیں صرف کالے چشمے لگا کر کالاش گوم کی سیر کرنے اور تصویریں بنوانے کا شوق ہے۔ جو لوگ آپ کی ثقافت کے محافظ بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان سے پوچھیں کہ انہوں نے اس تہذیب کے تحفظ کے لیے حقیقت میں کیا کیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest