javed2

ہمارے بچے اور ہمارے ثقافتی اقدار

دھڑکنوں کی زبان

محمد جاوید حیات

ثقافت کسی بھی قوم اور مخصوص جغرافیے میں رہنے والوں کی پہچان ہوتی ہے۔ ثقافت ایک وسیع تصور ہے۔ ثقافت کے زندہ اور جاندار اقدار قائم رہتے ہیں، بعض وقت کے ساتھ مٹ بھی جاتے ہیں، لیکن زندہ قومیں کوشش کرکے اپنی اقدار کی حفاظت کرتی ہیں۔ چترال اپنی مخصوص اور منفرد ثقافت کی وجہ سے پہچان رکھتا ہے۔ ان ثقافتی اقدار میں مخصوص لباس، شائستہ نشست و برخاست، مہذب طور طریقے، نرم لہجہ، شیریں زبان، ادب و احترام قابلِ رشک حد تک قابلِ تقلید ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہاتھوں مٹتا جارہا ہے۔ اس تباہی میں والدین کا سب سے بڑا کردار ہے۔

ہم نیم تعلیم یافتہ والدین نے سب سے پہلے لباس کی ثقافت کو روندا۔ اپنے بچوں کو قومی لباس سے بچپن ہی سے محروم رکھتے ہیں اور پینٹ شرٹ کا عادی بناتے ہیں۔ جوان بچیاں تک پینٹ شرٹ پہننے لگی ہیں، دوپٹے کا تصور ختم ہوگیا ہے۔ دینی تعلیمی اداروں کے علاوہ کوئی بچی برقعے کو اپنے لباس کا حصہ نہیں سمجھتی۔ کوشش کرکے ننگے سر رہتی ہے اور تنگ لباس میں خوش ہے۔ ساتھ ناخن بڑھانا اور تراش خراش سے اپنے آپ کو روبوٹ بنانا جسے میک اپ کا نام دیا جاتا ہے، عام ہوگیا ہے۔ وہ لباس جو قومی اور علاقائی شناخت تھا، خواب بن گیا ہے۔ بچے اور جوان سب چترالی لباس چھوڑ چکے ہیں۔ کوئی جوان شلوار قمیص میں نظر نہیں آتا، ٹراوزر کے نام پر پاجامہ پہنتا ہے۔ “ہیپی اسٹائل” ہے۔ بالوں کے لیے پراندہ یا پونی وغیرہ استعمال کرتا ہے۔ چترالی ٹوپی، چترالی بنیان، چترالی مفلر، چترالی جرابیں اور دستانے کوئی استعمال نہیں کرتا۔ اب شدید سردی میں بھی کٹ جرابیں استعمال ہوتی ہیں۔ سر ننگا، پینٹ شرٹ اور کبھی کوئی جیکٹ پہنی جاتی ہے۔

دوسری یلغار زبان پر ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر انگریزی نے ہمیں جکڑ لیا ہے، ہماری قومی زبان بھی بے قدر و قیمت ہوگئی ہے۔ ہم انگریزی زبان کو صلاحیت، قابلیت، معیار، تعلیم، ذہانت اور مرتبہ قرار دیتے ہیں۔ جس کو انگریزی آتی ہے، وہ ہمارے نزدیک سب کچھ ہے۔ بے شک موجودہ دور میں یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے، بین الاقوامی رابطے کی زبان ہے، اور دوسرے ملکوں میں بھی اسے اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہی کل معیار بن گیا ہے۔ ہمیں اپنی زبان کھوار کے الفاظ تک نہیں آتے۔ ہم نے رشتوں کے نام، دنوں کے نام، القاب و آداب سب کچھ انگریزی سے مستعار لے لیے ہیں اور یہ استعمال کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے اسکولوں کا میڈیم انگریزی ہے، اردو میں ہمارے بچوں کو گنتی تک نہیں آتی۔

تیسری یلغار ادب و آداب پر ہے۔ ہمارے ہاں رشتوں کے نام اور قدریں تک بدل گئی ہیں۔ کسی کا تعارف، احترام اور عزت مفقود ہے۔ فاصلے بڑھ رہے ہیں، بے چینیاں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے کو قبول کرنے کا تصور تک مٹ گیا ہے۔ نافرمانیاں، گستاخیاں، تحقیر و تذلیل، تلخ لب و لہجہ اور نفرت ہمارا رویہ بن گیا ہے۔ آج کا بچہ ان سب آداب سے ناآشنا ہے۔ ان کو یہ سمجھایا نہیں جاتا کہ یہ پھوپھو ہے، یہ باجی ہے، یہ چچا، خالو، مامو، ممانی ہیں، یہ رشتے کا بھائی ہے۔ ان کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ ایسے بھی کوئی رشتے ہوتے ہیں۔ یہی بچہ گھر سے کلاس روم پہنچتا ہے، جہاں اسے صرف کتابی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کو کبھی اخلاقی اقدار نہیں پڑھائے جاتے۔ یا تو استاد کو توفیق نہیں ہوتی یا استاد بھی اسی افراتفری کا شکار ہے۔

ایک بڑی تباہی یہ ہے کہ بچے کے کردار کی نگرانی اور تربیت کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس کی چال ڈھال، اندازِ گفتگو، شائستگی، مروّت، دیانتداری اور صداقت جیسے اوصاف پر توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کا کردار سراسر نقل پر مبنی ہوتا ہے اور صحبت کا اس پر برا اثر پڑتا ہے۔ اکثر گھروں میں، خاص کر سردیوں میں، گاؤں کے نوجوان باری باری گھروں میں کریم بورڈ، تاش وغیرہ کھیلتے رہتے ہیں۔ رات گئے تک ان محفلوں میں گیتوں کی گونج، سگریٹ کا دھواں اور فضول گپ شپ لگی رہتی ہے۔ بچے بھی ان محفلوں میں شریک رہتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ ایک بے ہنگم شور میں بدل گیا ہے۔ ہر جگہ بگاڑ ہے۔ معاشرہ امیر زادوں اور غربت کے ماروں میں تقسیم ہوگیا ہے، جس سے مایوسی کا ماحول ہے۔ امیر زادے کردار سے خالی ہوتے جارہے ہیں اور غریب زادے ان کی نقل کرتے ہیں۔ ہمارے بچے صبر، برداشت، تحمل اور سمجھوتے سے عاری ہیں۔ اس لیے ٹینشن، خودکشیاں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے جو گھروں کے بعد تربیت گاہ کا کام کرتے تھے، اب استاد بھی اس طرف توجہ نہیں دیتے۔ کلاس روم میں زندگی اور اقدار نہیں پڑھاتے، صرف روٹین کا کام ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہماری اقدار خود ہمارے ہاتھوں مٹتی جارہی ہیں اور اس کے ہم ہی مجرم ہیں۔ بیٹی کے سر سے دوپٹا ہم ہی سرکاتے ہیں، ان کے چہروں سے شرم و حیا کی روشنی ہم ہی بجھاتے ہیں۔ ہماری دلیل ہوتی ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔ زمانہ کہیں نہیں بدلا، ہم نقال ہیں، ہم فکری اور ذہنی غلام ہیں۔ ہم نے فیشن کو صلاحیت سمجھ رکھا ہے۔ آہستہ آہستہ ہماری مادری زبان، ثقافت اور اقدار مٹ جائیں گے جس کے مجرم ہم ہی ہوں گے۔

ہماری بچیوں نے ڈھولک کی تھاپ پر ناچنا شروع کردیا ہے۔ ہم نے مہندی کی رسم اپنالی ہے اور کہتے ہیں کہ اس میں تھرکنا لازمی ہے۔ ہم سالگرہ دھوم دھام سے منانے لگے ہیں۔ ہم نے شادی بیاہ کو اپنی ثقافت سے خالی کردیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو موسیقی کی محفلوں میں لے جاکر نچاتے ہیں اور ان کو تالیاں بجا کر داد دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں کے ذہنوں سے کھوار زبان کی اہمیت نکال دی ہے، قومی لباس کا احترام چھین لیا ہے اور اپنی قومی تشخص و وقار کی پہچان ختم کردی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کا خواب صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار لفظ انگریزی بول لیں اور اغیار کی نقل کریں۔ ہماری تعلیم کا مقصد بھی یہی کچھ رہ گیا ہے۔ اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی مٹتی ثقافت کے مجرم ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اتنی قصوروار نہیں جتنے ہم ہیں۔

1 thought on “ہمارے بچے اور ہمارے ثقافتی اقدار”

  1. محمد جاوید حیات نے ایک ایسی تحریر لکھی ہے جسے پڑھ کر لگا جیسے چترال کی ثقافت نہیں، کسی “بوٹانی باغ” کے نایاب درختوں کی نسل کشی ہو رہی ہو۔ ہر سطر میں ایسا محسوس ہوا کہ ثقافت آخری ہچکی لے رہی ہے، اور جاوید بھائی اسے اپنے چترالی مفلر سے کفن دے کر دفن کر رہے ہیں۔

    موصوف نے چترال کے نوجوانوں کو ایک ایسی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے جیسے وہ کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہوں۔ پینٹ شرٹ پہننے والے، ناخن تراشنے والے، اور دوپٹے کو “مرضی” سے اوجھل کرنے والی لڑکیاں — سب گویا کسی ثقافتی عدالت کے کٹہرے میں موجود ہیں۔ اگر ان پر مقدمہ چلایا جائے تو شاید انگریزی بولنے پر عمر قید، اور جینز پہننے پر سزائے موت تجویز ہو۔

    جاوید حیات کے نزدیک ثقافت کا پہلا قلعہ ٹوپی، بنیان، اور جرابیں ہیں۔ اگر آپ نے چترالی ٹوپی نہیں پہنی تو آپ نے قبیلے کو شرمندہ کر دیا۔ حالانکہ یہ وہی قبیلہ ہے جو صدیوں سے پہاڑوں میں جیتا آیا ہے، سرد و گرم چکھا ہے، اور آج اسے لباس کی بنیاد پر شرم دلائی جا رہی ہے۔

    دوسری طرف، اگر لڑکیاں پینٹ شرٹ پہن لیں، یا دوپٹے کے بغیر باہر آ جائیں، تو جاوید بھائی کو لگتا ہے جیسے قیامت قریب آ گئی ہو۔ ارے بھائی، جس زمانے میں لڑکیاں اپنی مرضی سے خلع لے سکتی ہیں، ووٹ ڈال سکتی ہیں، نوکریاں کر سکتی ہیں، وہاں دوپٹہ نہ پہننے پر اتنا واویلا کیوں؟ یہ فیشن ہے، آزادی ہے، ذاتی پسند ہے — کوئی مذہبی بغاوت نہیں۔

    زبان کا معاملہ اور بھی دلچسپ ہے۔ جاوید کی تحریر میں زبان کو لے کر ایسا منظرنامہ کھینچا گیا ہے جیسے کھوار زبان ICU میں پڑی ہو، اور ڈاکٹر انگریزی بول رہا ہو، اس لیے مریض مر رہا ہے۔ انگریزی بولنا کب گناہ بن گیا؟ یہی وہ زبان ہے جس میں سائنس ہے، ٹیکنالوجی ہے، دنیا کی معیشت اور AI ہے — اور بدقسمتی سے جاوید صاحب کے اپنے قارئین کی اکثریت بھی اسے ہی سمجھتی ہے۔ لیکن نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بچہ “ماموں” کی جگہ “ماماں” کہے، “ہیلو” بولے تو غسلِ ثقافت واجب ہو جائے۔

    تحریر کا ایک اور پہلو ادب و آداب پر ہے۔ اب اگر کوئی بچہ چاچو کو “چاچو” کی جگہ “انکل” بول دے، تو یہ گستاخی ہو گئی؟ استاد اگر اخلاقیات نہ پڑھائے تو کلاس روم مدرسہ نہیں بنے گا؟ سوال یہ ہے کہ کیا ادب و آداب تھوپنے سے پیدا ہوتے ہیں؟ کیا ہر وہ بچہ جو “ہاؤ آر یو” کے ساتھ “سلام” کہے، بے ادب ہے؟ ادب دل میں ہوتا ہے، رویے میں ہوتا ہے، نہ کہ صرف زبان اور کپڑوں میں۔

    اور پھر نوجوانوں کی تفریح۔ جاوید صاحب نوجوانوں کی گپ شپ، تاش، سگریٹ، اور گلی کے نکڑ پر بیٹھنے سے ایسے پریشان ہیں جیسے ان کے صوفے پر کسی بچے نے جمپ لگا دی ہو۔ ارے حضور، انہیں نہ پارک ملا، نہ کلچرل سینٹر، نہ لائبریری، نہ آرٹ گیلری، نہ سپورٹس کمپلیکس۔ تو وہ کہاں جائیں؟ سردی میں بیٹھ کر چائے پی کر فلسفہ تو نہیں بگھار سکتے۔

    جاوید حیات کی تحریر کا اختتام گویا ایک ایف آئی آر ہے — جس میں ہر ماں باپ، ہر استاد، اور ہر بچہ مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم واقعی اپنی ثقافت کے مجرم ہیں؟ یا یہ سوال ہی بکواس ہے؟

    ثقافت تب مرتی ہے جب اس کے خودساختہ محافظ اسے میوزیم کا fossil بنا کر رکھ دیں۔ ثقافت تب مری ہوئی لگتی ہے جب کوئی جاوید حیات اسے “مفلر-ٹوپی-دوپٹہ-بنیان-ادب-ادب-ادب” کی جکڑ میں قید کرنا چاہے۔ جبکہ زندہ ثقافت وہ ہے جو نسلِ نو کے ساتھ سانس لے، جو تبدیلی کو دشمن نہیں، روحِ رواں مانے۔ جو خیالات میں وسعت لائے، اور صرف کپڑوں یا زبان سے کردار کا فیصلہ نہ کرے۔

    جاوید حیات کی تحریر دراصل ایک مظلوم نوحہ ہے — جو مستقبل سے اتنی خائف ہے کہ ماضی کی دیواروں سے لپٹ کر رو رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ چاہتے کیا ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد ٹوپی پہن کر قرضِ حسنہ کے لیکچر دے؟ یا یہ کہ وہ دنیا میں کچھ کرے، کچھ بنے، خواب دیکھے اور وہ خواب پورے کرے — چاہے وہ پینٹ شرٹ میں ہو، چاہے “ہیپی اسٹائل” میں؟

    اگر واقعی ثقافت بچانی ہے تو اس کا پہرہ مفلر سے نہیں، ذہن سے دیں۔ ورنہ اگلی نسل جاوید حیات جیسے کالم پڑھ کر صرف ہنسے گی — اور “لائک” کی جگہ “LOL” لکھے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest