داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
25 مئی 1955 کو چترال کے خوبصورت گاؤں کوشت میں محمد بیگے قبیلے کے شیر دونی خان لال کے ہاں پیدا ہونے والا عبد الولی خود خاموش رہتا ہے، اس کی کارگزاری اور خدمت بولتی ہے۔ انہوں شعر وشاعری اور نثر نگاری میں جب قدم رکھا تو جاں بوجھ کر خاموش تخلص اختیار کیا، جو آگے جاکر اس کے نام کا اٹوٹ حصہ بن گیا۔
ان کی تحریریں اخبارات اور رسائل و جرائد میں شائع ہوئیں، ریڈیو پاکستان سے باقاعدہ کے ساتھ نشر ہوتی رہیں، مگر انہوں نے اپنی تحریروں پر کچھ نہیں کہا۔ ریڈیو کو بھی اپنی آواز نہیں دی۔ پروگراموں کے پروڈیوسر کہتے ہیں کہ ان کو “مائیکو فوبیا” ہوگیا ہے (Mico Phobia)۔ وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں ادیب، شاعر اور صحافی مائیک سے دور ہی رہتا ہے، کبھی مائیک کے قریب نہیں جاتا۔ وہ خود نہیں بولتا، اس کا مسودہ (script) بولتا ہے، اور نشریاتی اداروں میں مسودہ نویس، سکرپٹ رائٹر کا الگ مقام ہوتا ہے۔ عبد الولی خاموش نے گریجویشن کے بعد محکمہ سماجی بہبود میں ملازمت اختیار کی۔
سماجی بہبود کے شعبے میں حقوق نسواں اور حقوق اطفال کے کاموں میں بھی اپنا حصہ ڈالا، معذوروں کی بحالی کا کام بھی دلچسپی کے ساتھ کیا، منشیات کی لعنت سے نئی نسل کو دور رکھنے کے لیے بھی کئی منصوبوں میں حصہ لیا۔ 2015ء میں 60 سال کی عمر پوری کرکے رسمی ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی، تاہم سماجی بہبود اور فلاح انسانیت کے لیے آپ کا کام جاری ہے۔ 27 جولائی 1997ء کے روزنامہ سرحد پشاور کے ادارتی صفحے پر خاموش کا کالم شائع ہوا تھا۔ اس کالم میں لکھتے ہیں: «خدمت خلق کے مقدس کام کی ابتدا دین اسلام نے کی۔ ہمارے رہبر اعظم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کے سامنے خدمت خلق کا وہ نمونہ پیش کیا جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی، جو رہتی دنیا تک ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بڑھیا کا سامان اپنے کندھے پر اٹھا کر لے جاتے ہیں، اس میں عار محسوس نہیں کرتے۔ اس مثال سے خدمت خلق کی اہمیت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔»
عبد ال ولی خاموش اپنے گاؤں کوشت میں جاگیردار ہیں۔ بہت بڑے گھر اور عالیشان باغ کے ساتھ سرسبز و شاداب زمینات کے مالک ہیں، مگر شہر آ کر انہوں نے ایک چھوٹے کمرے کو اپنی کل کائنات بنایا ہوا ہے۔ یہ کمرہ کسی بڑی یونیورسٹی کی لائبریری کا منظر دکھاتا ہے۔ خاموش نے کمال خاموشی کے ساتھ اسلامی تاریخ، ملکی تاریخ اور چترال کی تاریخ کے اہم واقعات پر اہم دستاویزات، اخبارات، رسائل، جرائد اور کتابوں کا ذخیرہ جمع کرکے ترتیب کے ساتھ رکھا ہے۔ اخباری تراشوں کی الگ فائلیں ہیں، جن میں اہم واقعات یا ادبی، ثقافتی اہمیت کی چیزوں کا ریکارڈ رکھا گیا ہے۔ فیچر، کالم اور مضامین کے تراشے رکھے ہوئے ہیں۔ ہرچیز کا باقاعدہ کیٹلاگ ہے۔ ایسے ذخیرہ کار عموماً کنجوس ہوتے ہیں، اپنا کام کسی کو نہیں دکھاتے، مگر خاموش صاحب کا ایسا مزاج نہیں۔ وہ ریکارڈ نکال کر دوست کو دینے میں بھی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
خاموش صاحب کے مضامین اور کالم کے موضوعات ادب، ثقافت اور تاریخ کے گرد گھومتے ہیں۔ مثلاً چترال کے قدیمی بندوق پولتائی پر ان کا مضمون معلوماتی بھی ہے، دلچسپ بھی ہے۔ آب زمزم پر ان کا کالم ایک تحقیقی کاوش ہے۔ خالد کی یاد میں ایک طویل مضمون ہے، جس میں جوان مرگ شاعر خالد بن ولی کی شخصیت پر محبت کے پھول نچھاور کیے گئے ہیں۔ اس طرح چترال میں سیاحت کے فروغ پر انہوں نے قلم اٹھایا۔ بعض کالم ایسے بھی ہیں جو حالات حاضرہ یا اہم واقعات کا احاطہ کرتے ہیں، مثلاً فٹ بال کا دلچسپ مقابلہ، خصوصی افراد کا عالمی دن، ایک مثالی طالب علم، ماں کی گود سے مکالمہ، ہندوکش کلچرل کانفرنس وغیرہ۔ ایسی مثالیں ہیں، ان کے مضامین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ایک مختصر کالم میں ان کو سمونا ممکن نہیں ہے۔ خاموش کی شاعری صرف کھوار زبان میں ہے۔ ان میں نظمیں بھی ہیں، غزلیں بھی ہیں، اور یہ ایسا مواد ہے جو کسی مشاعرے میں نہیں پڑھا گیا، کسی مجلس میں نہیں گایا گیا، کسی کیسٹ یا میموری کارڈ میں نہیں ڈالا گیا۔ یہ تمام مواد خاموش کی طرح خاموش رہتی ہے۔ شاعر کا مصرعہ اس پر صادق آتا ہے:
«خاموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زبان میری»
عبد ال ولی خاموش نے 20 سال ریڈیو پاکستان چترال میں بچوں کے پروگرام میں دلچسپ مسودے لکھے۔ انجمن ترتی کھوار کے ممبر کی حیثیت سے 1978 سے 2026 تک ہر بڑے پروگرام کے اہتمام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1990ء اور 1995ء میں دوسری اور تیسری ہندوکش کلچرل کانفرنس کا پورا سیکرٹریٹ سنبھالا۔ 1995ء میں اسٹیٹ ہائی سکول چترال کی گولڈن جوبلی تقریبات کے انتظامات میں پیش پیش رہے۔ 1993ء سے 2026ء تک منشیات کی لعنت کے خلاف آگاہی پھیلانے کے وسیع تر پروگرام میں علمی اور ثقافتی مواد کے ذریعے حصہ لیتے آرہے ہیں۔
خاموش جیسی ہشت پہلو شخصیت کا وجود چترال کے لیے غنیمت سے کم نہیں۔ ایسی شخصیات کی قدر ہونی چاہیے، ورنہ کسی دن ان کی آواز آئے گی: “انشاجی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا۔”

