داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
ہمارے ہاں نظم و نسق کے لیے سروس ڈیلیوری (Service delivery) کی انگریزی ترکیب استعمال ہوتی ہے، اور یہ ترکیب اس قدر زیادہ استعمال ہوتی ہے کہ اب نظم و نسق کی دیسی ترکیب انجان اور نامانوس لگتی ہے۔ مسئلہ کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ہو، نلکوں میں پانی آنے کا ہو، ہسپتال اور سکول میں مطلوبہ سہولیات کی دستیابی کا ہو، ہر مسئلے پر وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے دفتر کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ یہ مسائل اور ان جیسے دیگر مسائل گاؤں اور محلے میں موجود محکمے کا ذمہ دار افسر حل کر سکتا ہے۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ہر مسئلے کا حل دارالحکومت میں ہونے کا خیال کیوں بٹھایا گیا؟ اس پر ہمارے بزرگوار سید مظہر علی شاہ نے بار بار توجہ دلائی ہے۔
بات یہ ہے کہ 1970ء تک ریاستی نظم و نسق کا برسوں پرانا نظام کامیابی کے ساتھ چلتا تھا۔ اس کے بعد پرانے نظام میں رفتہ رفتہ دراڑیں پڑنی شروع ہوئیں۔ گزشتہ 56 سالوں کے اندر نظم و نسق کا پرانا نظام ختم ہو گیا، اب اس کے آثار بھی باقی نہیں رہے، اس لئے دفتری نظام میں خلل پیدا ہوا، سروس ڈیلیوری کا پورا سسٹم نیست و نابود ہو گیا۔
ایسا کیوں ہوا؟ سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ دارالحکومت والوں کو خیال آیا کہ لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے ہمارا محتاج ہونا چاہیے، یہیں سے خرابی پیدا ہوئی، اس کی جڑیں پھیل گئیں اور ناسور بن گئیں۔
سکول یا واٹر ٹینک کے لیے گاؤں کا بے چارہ آدمی بلا معاوضہ اپنی زمین دے دیتا ہے۔ متعلقہ محکمہ اسکیم مکمل ہونے کے بعد پی سی فور کی رو سے اس کو درجہ چہارم کی ایک ملازمت دے دیتی ہے۔ یہ کام پہلے گاؤں کی سطح پر ہوتا تھا، متعلقہ افسر کو اختیارات حاصل تھے۔ اب یہ اختیارات متعلقہ افسر کے پاس نہیں ہیں، اس وجہ سے بیچارہ آدمی صوبائی دارالحکومت کے بار بار چکر لگاتا ہے۔ سول سیکرٹریٹ کی راہداریوں میں اس طرح کے معمولی مسائل لے کر ہزاروں درخواستی ہر روز خوار و زار پھرتے ہیں۔
اس طرح کے سیکڑوں کام ایسے ہیں جو نصف صدی پہلے گاؤں کی سطح پر حل ہوتے تھے، اب ان کے لیے دارالحکومتوں کی خاک چھاننے کی ضرورت پڑتی ہے، اور سروس ڈیلیوری کا ستیا ناس ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
سرکاری فائلوں میں اختیارات کا ارتکاز اور اختیارات کی منتقلی کے دو اصول پائے جاتے ہیں۔ ارتکاز یہ ہے کہ تمام اختیارات دارالحکومت کی سطح پر مرتکز یا منجمد ہوں، منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ فیلڈ میں کام کرنے والے حکام کے ہاتھوں میں اختیارات دے دیئے جائیں۔
میری عمر کے جن شہریوں نے 1960 کے عشرے کا دفتری نظام دیکھا ہے، وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ گاؤں اور محلے کے تمام مسائل نائب تحصیلدار حل کرتا تھا۔ اگر کسی مسئلے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے منظوری لینے کی ضرورت ہوتی تو تحصیلدار کے پاس مجسٹریٹ درج اول کے اختیارات ہوتے تھے۔ گاؤں کے عام آدمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی، صوبائی دارالحکومت جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
قدرتی آفات کی صورت میں ہنگامی منصوبہ (Contingency Plan) کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے مقامی مجسٹریٹ درجہ اول متاثرہ آبادی کی مدد کرتا تھا، اور بحالی کے تمام اقدامات کے ساتھ متاثرہ آبادی کی مدد کرتا تھا۔ اس کے پاس اختیارات بھی ہوتے تھے، وسائل بھی ہوتے تھے۔ وہ بالائی حکام کو جوابدہ تھا، آڈٹ اور محتسب کو جوابدہ تھا۔ اس زمانے میں متاثرہ عوام کو دفتری بھول بھلیوں میں نہیں الجھایا جاتا تھا، ہر کام گھر کی دہلیز پر انجام پاتا تھا۔
نصف صدی گزرنے کے بعد نظم و نسق میں بے شمار خرابیاں جگہ پا گئی ہیں۔ کچھ اختیارات مقامی حکام سے لے کر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کے اراکین اور سینیٹ کے ممبروں کو دی گئی ہیں۔ وہ سب بڑے شہروں کی بلند و بالا کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔ کچھ اختیارات صوبائی سطح کے افسروں کو دیدیئے گئے ہیں، وہ اپنے دفترات تک محدود ہیں، اس لیے مقامی سطح پر عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ہڑتال کرنا پڑتا ہے، روڈ بلاک کرنا پڑتا ہے۔ انفرادی مسئلہ ہو تو بیچارے لوگ خودکشی کی دھمکی دیتے ہیں اور اپنے اوپر بھرے بازار میں تیل چھڑک کر خودکشی کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
یہ دفتروں سے باہر نظر آنے والے احوال ہیں۔ دفتر کے اندر جھانکیں تو فائل کاغذ پر ہو یا کمپیوٹر کے اندر ہو، دونوں صورتوں میں دفتری نظام کے تحت 1960 کے عشرے کی طرح سرخ فیتے میں ایک افسر کی میز سے دوسرے افسر کی میز تک نہیں جاتی۔ عرض گزار یا متاثرہ فریق کو خود جا کر منت سماجت، سفارش یا چائے پانی لگا کر اپنی فائل ایک میز سے دوسری میز تک پہنچانا پڑتا ہے۔
مثالیں بہت ہیں، مگر کالم کا دامن تنگ ہے۔ روئیداد خان کی کتاب “اے ڈریم گان ساور” اور ڈاکٹر عشرت حسین کی کتاب “گورننگ دی ان گورنیبل” میں حقائق موجود ہیں۔ نظم و نسق کی بہتری اور سروس ڈیلیوری کی کامیابی کے لیے 1960 کے دور کا دفتری نظام واپس لانے کی ضرورت ہے، دوسری کوئی صورت نہیں۔

