Beneath the barren peaks of the Hindu Kush, the river bends through a peaceful scene of lowing cattle, maize fields, and the serenity of Chitral’s ancient tribal palace.
But in 1895, this tranquil valley echoed with gunfire as a meagre British garrison held out against thousands of mountain tribesmen in a defiant six-week siege, one only lifted by the daring of the relief force.
The campaign in what is now north-western Pakistan was hailed as a “glorious episode” in the history of the Empire – with a Victoria Cross awarded, brutal bayonet fighting and starving survivors left like “walking skeletons”.
More than 120 years on, Chitral is once again the centre of a battle raging on the Pakistani frontier – this time over British-backed plans to save a war memorial raised for the heroes of the siege from destruction.
Read full story at source


کیا خوب تماشا ہے! برطانوی فوج چترال میں داخل ہوئی، مقامی سیاست میں مداخلت کی، ایک بارہ سالہ لڑکے کو اپنے پسندیدہ حکمران کے طور پر تخت پر بٹھایا، مقامی مزاحمت کا سامنا کیا، خون بہایا، قلعہ گھیر لیا—اور اب ایک صدی بعد اسی فوجی مداخلت کی یادگار کو ’’چترال کا ورثہ‘‘ قرار دے کر چترال منتقل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
گویا چور گھر میں داخل ہو، گھر کے مالک سے لڑے، اپنی مرضی کا بچہ تخت پر بٹھائے، جاتے جاتے دیوار پر ایک تختی لگا جائے اور سو برس بعد واپس آ کر کہے: ’’ہم نے تمہیں بچایا تھا۔‘‘ اس سے زیادہ نفیس سامراجی مذاق شاید ممکن ہی نہ ہو۔
1895ء کا چترال کوئی ایسا تخت نہیں تھا جو برطانوی تاج کی آمد کا منتظر ہو۔ وہاں اپنی سیاست تھی، اپنے حکمران تھے، اپنی رقابتیں تھیں، اپنی طاقتیں تھیں اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگ تھے۔ برطانوی سلطنت روسی پیش قدمی کے خوف، سرحدی سیاست اور اپنے ہندوستانی مفادات کا تھیلا اٹھائے چترال میں داخل ہوئی۔ مقامی اقتدار کی کشمکش دیکھی اور فیصلہ فرمایا:
’’یہاں بھی ہماری ضرورت ہے۔‘‘ پھر وہی ہوا جو سلطنتیں ’’مدد‘‘ کے نام پر کرتی ہیں۔ جسے پسند کیا، اسے تخت دیا۔ جس کے پیچھے طاقت تھی، اسے ’’قانونی‘‘ بنا دیا۔ جس نے مزاحمت کی، اسے ’’قبائلی حملہ آور‘‘ لکھ دیا۔ اور جس فوج نے اس سارے کھیل کو ممکن بنایا، اس کے لیے یادگار تعمیر کر دی۔
یہ تاریخ نہیں؛ یہ سلطنتی حساب کتاب ہے۔ بارہ سال کا بادشاہ، بالغ سلطنت۔ ذرا منظر دیکھیے۔ ایک طرف برطانوی سلطنت—جس کے پاس فوج ہے، توپ ہے، افسر ہیں، منصوبہ ہے اور ہندوستانی سلطنت کی پوری طاقت ہے۔ دوسری طرف بارہ سال کا لڑکا۔ اور پھر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ برطانوی فوج نے ’’چترال کو بچایا‘‘۔
کس سے؟ یہ سوال پوچھتے ہی پوری داستان کا ملمع اترنے لگتا ہے۔ بارہ سالہ شجاع الملک کو تخت پر بٹھانا کسی آزاد چترالی عوامی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی تخت نشینی تھی جسے برطانوی طاقت کی پشت پناہی حاصل تھی، ایسے وقت میں جب سلطنت اپنے شمال مغربی سرحدی مفادات کو محفوظ کرنا چاہتی تھی۔
یعنی بچہ مقامی تھا، تخت مقامی تھا، مگر طاقت کا ہاتھ کہیں اور تھا۔ یہی سامراج کا کمال تھا: حکمران آپ کا، حکم ہمارا۔ تاج آپ کا، فیصلہ ہمارا۔ قلعہ آپ کا، فوج ہماری۔ پھر جب تاریخ لکھی گئی تو مداخلت ’’مدد‘‘ اور سیاسی سرپرستی ’’نجات‘‘ بن گئی۔
چترال نے کس کو خوش آمدید کہا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جسے اس رومانوی سامراجی داستان میں بڑی مہارت سے غائب کر دیا جاتا ہے۔ چترال کے لوگوں نے برطانوی فوجی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی۔ انہوں نے اپنی سرزمین پر آنے والی ایک بیرونی طاقت کی فوج کا مقابلہ کیا۔
مگر فاتح کی تاریخ میں یہ مزاحمت عموماً ’’قبائلی حملہ‘‘ بن جاتی ہے۔ کیونکہ سامراجی لغت میں جس طرف سلطنت کھڑی ہو، وہاں ’’نظم و قانون‘‘ ہوتا ہے؛ اور جس طرف مقامی بندوق ہو، وہاں ’’بغاوت‘‘۔ چترال کے عام آدمی کے لیے معاملہ مگر اس سے کہیں زیادہ سادہ تھا: باہر سے فوج آئی تھی۔ اور وہ اس کے خلاف لڑ رہا تھا۔ بس۔ اسے پیچیدہ بنانے کے لیے صرف ایک سلطنتی مورخ درکار ہوتا ہے۔
آج شہزادہ سراج الملک یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ برطانوی فوج نہ آتی تو ان کا خاندان اور ان کی ریاست شاید بچ نہ پاتی۔ یہ ان کے خاندان کی یادداشت ہے، اور خاندان کو اپنی تاریخ یاد رکھنے کا پورا حق ہے۔ مگر، جنابِ شہزادہ، ایک بنیادی فرق ضرور ملحوظ رکھیے: آپ کے دادا کا تخت بچنا اور چترال کا بچنا ایک ہی بات نہیں۔
آپ کے خاندان کا اقتدار برقرار رہا—یہ ایک تاریخی حقیقت ہو سکتی ہے۔ لیکن اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ پورا چترال برطانوی فوجی مداخلت سے ’’بچایا‘‘ گیا؟ یہ بھی تو ممکن ہے کہ ایک خاندان کا تخت بچا، اور اسی کے ساتھ ایک بیرونی سلطنت کا سرحدی مفاد بھی محفوظ ہوا۔
تاریخ میں دونوں باتیں بیک وقت سچ ہو سکتی ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک خاندان کی سیاسی بقا کو پورے چترال کی اجتماعی نجات بنا کر پیش کیا جائے۔ چترال صرف ایک تخت کا نام نہیں۔ چترال وہاں کے لوگوں کا بھی نام ہے۔ اور اگر وہاں کے لوگ بیرونی فوجی مداخلت کے خلاف لڑ رہے تھے تو ان کی مزاحمت کو نظرانداز کرکے صرف شاہی خاندان کی بقا کو ’’چترال کی آزادی‘‘ کہنا تاریخ نہیں، شاہی خاندانی بیانیہ ہے۔
یہ یادگار چترال کیوں جائے؟ یہ سوال خود اس سارے تنازعے کا سب سے بڑا طنز ہے۔ یادگار نوشہرہ میں کھڑی ہے۔ ایک صدی سے۔ وہاں کی زمین، وہاں کی آبادی اور وہاں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے گرد مقامی قبریں پھیل چکی ہیں۔ نسلیں اسے دیکھ کر جوان ہوئی ہیں۔
اب کہا جا رہا ہے کہ اسے چترال منتقل کیا جائے کیونکہ جنگ چترال میں ہوئی تھی۔ تو پھر اس منطق کو دنیا بھر میں نافذ کر دیجیے۔ ہر تاریخی یادگار کو اس مقام پر واپس بھیج دیجیے جہاں اس کا موضوع پیش آیا تھا۔ پھر دنیا کے آدھے عجائب گھر خالی ہو جائیں گے اور باقی آدھے اپنی عمارتیں ڈھونڈتے پھریں گے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یادگار کو بچایا جائے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس تاریخ کی علامت بنا کر پیش کیا جائے۔ اگر یہ برطانوی فوجی مہم کی یادگار ہے تو نوشہرہ اس کے لیے ایک قابلِ فہم مقام ہے۔ اگر یہ برطانوی سامراجی سرحدی پالیسی کی یادگار ہے تو نوشہرہ ہی اس کی مناسب جگہ ہے۔
اگر یہ ایک شاہی خاندان کی نجی تاریخی یادگار ہے تو خاندان اپنے خرچ پر چترال میں ایک نئی یادگار تعمیر کر سکتا ہے۔ مگر اسے چترال کی اجتماعی میراث قرار دینا؟ یہ تاریخ کو الٹا کھڑا کرنا ہے۔ سامراج کا سب سے بڑا ہتھیار توپ نہیں، کہانی ہے۔ برطانوی فوج چلی گئی۔ سلطنت ختم ہوگئی۔ نوآبادیاتی حکومت ختم ہوگئی۔ مگر کہانی باقی رہ گئی۔
کہانی یہ کہ: ہم آئے۔ ہم نے بچایا۔ ہم نے بہادری دکھائی۔ ہم نے ایک ریاست کو قائم رکھا۔ اور اب، سو برس بعد، اسی کہانی کو نئے پتھر، نئی عبارت اور نئی تعبیر کے ساتھ چترال تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی سامراج کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
فوج چلی جاتی ہے، مگر فاتح کا بیانیہ مقامی زبان میں بولنے لگتا ہے۔ پتھر کو رہنے دو ۔اس یادگار کو گرانا نہیں چاہیے۔ اسے محفوظ کرنا چاہیے۔ مگر نوشہرہ میں۔ اسے بحال کیجیے، اس کے کتبے محفوظ کیجیے، اس کی تعمیراتی تاریخ محفوظ کیجیے، 1895ء کی فوجی مہم کو دستاویزی شکل دیجیے۔ لیکن ساتھ ایک ایسی تختی بھی نصب کیجیے جو پوری حقیقت بیان کرے۔
یہ برطانوی ہندوستان کی فوجی مہم کی یادگار ہے۔ یہ اس دور کی علامت ہے جب برطانوی سلطنت نے اپنے سرحدی مفادات کے تحت چترال کی سیاست میں مداخلت کی۔ یہ اس فوجی محاصرے اور جنگ کی یادگار ہے جس میں برطانوی افواج نے مقامی مزاحمت کا سامنا کیا۔
یہ ایک ایسی تخت نشینی کی یاد بھی ہے جس میں ایک بارہ سالہ لڑکے کو برطانوی طاقت کی پشت پناہی حاصل ہوئی۔ اور یہ بھی لکھا جائے کہ چترال کے لوگوں نے اس بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی۔ پھر اسے وہیں رہنے دیں۔ نوشہرہ کے آسمان کے نیچے۔ تاکہ ہر آنے والا اس پتھر کو دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ انگریز چترال کے محسن تھے، بلکہ یہ سمجھے کہ سلطنت کس طرح اپنی مداخلت کو نجات، اپنی فوج کو امن، اور اپنے سیاسی مفاد کو تاریخ کا مقدس باب بنا دیتی ہے۔
اور اگر شہزادہ سراج الملک اسے چترال لے جانے پر اصرار فرمائیں تو ایک سوال ساتھ لے جائیں: آپ اپنے دادا کا تخت بچانے والے انگریزوں کو یادگار دینا چاہتے ہیں—یا ان چترالیوں کو بھی یاد رکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے اسی فوج کے خلاف اپنی زمین پر مزاحمت کی تھی؟ دونوں تاریخیں ایک ساتھ مٹائی نہیں جا سکتیں۔ ایک کو یادگار مل سکتی ہے۔
دوسرے کو تاریخ۔ اور تاریخ، جنابِ شہزادہ، آخرکار تخت سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ یہ ستون چترال کی آزادی کی علامت نہیں؛ یہ برطانوی سامراجی مداخلت کا پتھر کا ثبوت ہے۔ اسے نوشہرہ میں رہنے دیجیے۔ وہیں رہ کر یہ زیادہ سچی بات کہتا ہے۔
شہزادہ صاحب، اپنا خیال رکھیے۔ یہ خوش فہمی اب چھوڑ دیجیے کہ چترال میں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اور آپ کے خاندان کی روایت ہی چترال کی تاریخ ہے۔ وہ زمانہ گزر چکا۔ اب سوال بھی ہوگا، حساب بھی ہوگا، اور وہ تاریخ بھی کھولی جائے گی جسے شاہی قصوں اور سامراجی تمغوں کے نیچے دبا دیا گیا تھا۔
اب نہ تخت کی چلے گی، نہ تاج کی—چترال اپنی تاریخ خود لکھے گا۔ اور اس تاریخ میں انگریز کا محاصرہ ’’نجات‘‘ نہیں، سامراجی مداخلت لکھا جائے گا؛ اور اس کا ستون چترال میں نہیں، اسی جگہ کھڑا رہے گا جہاں وہ آج کھڑا ہے۔ اب چترال کسی کا باپ دادا کا تخت نہیں—چترال چترالیوں کا ہے۔
There is something deeply misguided, and almost impressively theatrical, about the campaign to haul a 30 foot Victorian monument from Nowshera to Chitral and present the exercise as “heritage preservation.”
Before anyone uproots several tons of imperial nostalgia and drags it across the mountains, one simple question might be worth asking:
Why, exactly, should Chitral want it? The monument is associated with the British military intervention during the crisis and siege of Chitral in 1895. In plain English, it is a relic of British imperial power. It is old. It is imposing. It is Victorian. And apparently, that is now enough to qualify something for a place of honour in Chitral.
Its age makes it worth preserving. Its historical connection makes it worth studying. Its 30 foot height makes it useful for tourism.
None of these things makes it something Chitral needs to celebrate. There is a rather important difference between preserving history and glorifying it.
The British Army did not arrive in Chitral after receiving an invitation to organise a cultural exchange programme. Its intervention was part of the strategic calculations of British India on the North West Frontier.
British troops became deeply involved in the political crisis surrounding the Mehtarship and supported a settlement favourable to British interests, including the installation of a very young ruler, approximately a twelve year old boy.
That is not exactly the kind of episode that requires a giant monument saying, “Well done, gentlemen.”
But imperial history has always had a remarkable talent for turning intervention into adventure and occupation into heroism. The defence of the fort, military sorties, mine destruction and arduous relief expeditions were transformed into stories of British courage, endurance and military genius.
What conveniently disappears from this heroic version is the inconvenient fact that many Chitralis resisted the British intervention.
They were not background extras in a British adventure film. Muhammad Isa Khan occupies an important place in the memory of those who view the events of 1895 from the Chitrali rather than the imperial perspective. For many Chitralis, the figure worthy of admiration is not necessarily the British officer defending an imperial position, but the local man resisting foreign military power.
Which makes the proposed monument rather awkward. Why should Chitral receive a colossal Victorian monument associated with the very military power that intervened in its political affairs?
Because it is old? Preserve it. Because it is historically important? Document it. Because it is 30 feet tall? Put a ticket booth beside it. But please do not quietly transform “this happened here” into “this deserves our honour.”
Monuments are not neutral pieces of furniture. They are statements about public memory. They tell future generations whom we decided was worthy of a pedestal.
The role of the Mehtar dynasty also deserves something more than romantic storytelling. Its relationship with British power was shaped by imperial politics, and the succession crisis cannot be understood without acknowledging British military and political influence. Installing a child ruler under imperial protection was hardly an uncomplicated triumph of indigenous sovereignty.
Siraj ul Mulk may regard the monument as an important historical artefact. That is his right. But one family’s interpretation of history should not automatically become Chitral’s official memory.
Chitral is not the private museum of the Mehtar family. Its history belongs to its people.
Preserve the monument. Study it. Document it. Put it in a museum if appropriate. Explain exactly what it represents. But if Chitral is going to remember 1895, it should remember both sides of the fort walls.
And perhaps the most revealing part of this whole exercise is that preserving colonial history so enthusiastically seems to suit Siraj ul Mulk rather well. After all, his family was among the beneficiaries of the political settlement that followed 1895, while ordinary Chitralis were certainly not the principal beneficiaries of British intervention.
Siraj may have inherited the political arrangements that emerged after 1895, but that chapter belongs to history now. Modern Chitral is not anyone’s private estate, hereditary museum or family project.
Chitral is ruled by its people, and it will be shaped by its people. Not by Siraj. Not by his family. And certainly not by a colonial monument being presented as Chitral’s heritage.