داد بیداد
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
باپ کی وفات کے 43 سال بعد علمی اور ادبی حلقوں نے ان کی یاد میں مجلسِ مذاکرہ منعقد کر کے ہونہار اور حساس بیٹے کو اظہارِ خیال کی دعوت دی تو کلاس روم کے پختہ کار استاد مائیک کے سامنے آ کر بمشکل 20 سیکنڈ تک بولے تو ان کی ہچکی بندھ گئی۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی رواں ہوئی، گلوگیر آواز میں منتظمین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ ایک صاحب نے کہا، تقریر کرتے تو بہتر ہوتا۔

ہم نے جواب دیا، آنسوؤں کے موتی الفاظ سے کئی گنا زیادہ قوتِ اظہار رکھتے ہیں۔ جدا ہونے والے کو پُرنم آنکھوں سے جو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، زبان پر آنے والے الفاظ سے وہ خراجِ عقیدت پیش نہیں کیا جا سکتا۔ شاعر نے آہِ سرد کو بھی آواز و الفاظ کا متبادل قرار دیا ہے:
ضعف سے گریہ مبدل بہ دمِ سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا
بات ہو رہی ہے چترال پریس کلب کے ہال میں ماہرِ تعلیم اور نامور ادیب، دانشور غلام عمر مرحوم کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ مذاکرہ کی، جو مرحوم کے دوست، شعبۂ جغرافیہ، پشاور یونیورسٹی کے سابق سربراہ، پروفیسر اسرار الدین نے چترال پریس کلب کے تعاون و اشتراک سے منعقد کی۔
مجلسِ مذاکرہ میں چترال کے دور دراز علاقوں اور ٹاؤن کی مضافاتی بستیوں سے اہلِ علم احباب، ادیبوں اور شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ استاد الاساتذہ، معروف دانشور مکرم شاہ صاحب نے صدارت فرمائی۔ انجمنِ ترقیِ کھوار کے صدر عبدالولی خان عابد ایڈووکیٹ اس مجلس کے مہمانِ خصوصی تھے، اور غلام عمر مرحوم کے بڑے صاحبزادے محمد زکریا عمر کو مہمانِ اعزاز بنایا گیا۔ معروف ماہرِ تعلیم، اینکر اور براڈ کاسٹر عالمگیر بخاری نے پروگرام کی کمپیئرنگ کی۔
مولانا خلیل احمد نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، عنایت اللہ اسیر نے نعتِ شریف کے ذریعے بارگاہِ رسالت میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا، جبکہ سینئر استاد افتخار الدین نے مرحوم غلام عمر کی روح کو ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے حاضرین کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بجا طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ چترال کی ریاستی دور کے استاد، پرنسپل اور ریاست کے انضمام کے بعد ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز کی حیثیت سے علاقے کی تعلیمی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے والی گنتی کی چند شخصیات میں غلام عمر مرحوم کا نام آتا ہے۔ وہ صرف استاد، معلم، مربی اور منتظم ہی نہیں تھے، بلکہ ایک ادیب، محقق اور ادب و ثقافت کو فروغ دینے والے دانشور بھی تھے۔
مجلسِ مذاکرہ کے محرک، میزبان اور سرپرست پروفیسر اسرار الدین نے غلام عمر مرحوم کے ساتھ اپنے خاندانی، ذاتی اور علمی و ادبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 48 سال کی مختصر عمر میں تعلیمی منصوبہ بندی، علمی تحقیق اور ثقافتی اداروں کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ ان کے دوسرے ہم عصر، ان کے مقابلے میں دگنی عمر پا کر بھی انجام نہ دے سکے۔
غلام عمر مرحوم 1936ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایون کے مشہور قصبے کے علمی خانوادے سے تھا۔ ان کے والد، حاجی ارسلہ خان، ریاستی انتظامیہ میں شاہی قلعہ کے اس شعبے کے منتظم تھے، جس کا نام سن کر آج کل بڑے بڑے لوگوں کی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں۔ وہ ’’توشہ خانہ‘‘ کے منتظم تھے۔
غلام عمر نے سٹیٹ ہائی سکول چترال سے میٹرک پاس کرنے کے بعد جہانزیب کالج سوات سے گریجویشن اور پشاور یونیورسٹی سے فارسی ادب میں ایم اے کے ساتھ بی ایڈ بھی پاس کیا۔ چترال آ کر شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔ یہاں انہوں نے اپنے آپ کو کلاس روم اور دفتر تک محدود نہیں رکھا، بلکہ قدیم شعراء کے مخطوطوں کو تلاش کیا، فارسی اور کھوار کے جو شعراء بقیدِ حیات تھے، ان سے ملاقاتیں کیں، چترال کی لوک کہانیوں کا مواد جمع کر کے اپنی کتاب ’’لوک ورثہ‘‘ اسلام آباد سے چھپوانے کا انتظام کیا۔ میرزا محمد سیر کے فارسی اور کھوار کلام کا اردو ترجمہ کر کے تحقیقی نقطۂ نظر سے اس کا مقدمہ لکھا۔ ’’بابا سیر‘‘ کے نام سے یہ کتاب بھی لوک ورثہ، اسلام آباد نے شائع کی۔
شہزادہ حسام الملک کی وفات کے بعد انجمنِ ترقیِ کھوار کی تنظیمِ نو کر کے ضلع بھر کے شعراء اور فنکاروں کو اس پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ یوں مختصر زندگی میں بڑے معرکے سر کیے۔ شاید ان کا وجدان گواہی دیتا تھا کہ زندگی زیادہ مہلت نہیں دے گی۔
صدرِ مجلس، استاد الاساتذہ مکرم شاہ نے غلام عمر مرحوم کے ساتھ ایک ہی دفتر میں کئی سال کام کرنے کے خوشگوار تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس زمانے میں موٹروں کے راستے بھی نہیں تھے، گاڑیاں بھی نہیں تھیں۔ ہم سکولوں کے معائنہ کے لیے چترال کے طول و عرض میں پیدل سفر کرتے تھے۔ غلام عمر صاحب کی خوبی یہ تھی کہ وہ نرم خوئی اور نرم گوئی میں بے مثال تھے۔ انہوں نے انتظامی عہدوں پر کام کرتے ہوئے ہر ایک سے پورا کام لیا، مگر کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ کسی کو ایذا دینا ان کی کتاب میں نہیں تھا۔
دل جوئی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے سب سے کام لینے کا ہنر ان کو آتا تھا۔ میری لینڈ، امریکہ سے آئے ہوئے پاکستانی امریکن وکیل اور کھوار کے صاحبِ طرز شاعر صالح نظام صالح نے شگفتہ، برجستہ اور نپے تلے الفاظ میں اپنے پڑوسی اور والدِ گرامی قاضی صاحب نظام کے ادبی رفیق غلام عمر کی بھولی بسری یادوں کو تازہ کر کے محفل میں نئی روح پھونکی۔
سینئر صحافی، شاعر اور ادیب محکم الدین محکم نے غلام عمر کے خاندان، ان کی شخصیت، خدمات اور سوانحِ حیات پر مبسوط مقالہ پڑھا اور بتایا کہ ہائی سکول چترال، دروش، بونی، ایون کے پرنسپل اور تین بار ضلعی افسرِ تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ انجمنِ ترقیِ کھوار کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے علم و ادب کی شاندار خدمت کی۔
تقریب میں انجمنِ ترقیِ کھوار کے صدر عبدالولی خان عابد ایڈووکیٹ، نائب صدر عنایت اللہ اسیر، ادیب، شاعر اور محقق محمد عرفان، علمی شخصیت ضیاء الدین اور راقم الحروف نے بھی اپنے تاثرات بیان کیے۔ کہنہ مشق شاعر الطاف حسین خیاب نے کھوار میں مرثیہ کلام پیش کیا۔
مذاکرے کی محفل اس وقت زعفران زار بن گئی، جب ایک مقرر نے غلام عمر مرحوم کی زندگی کا ایک ادبی واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ شاعری میں تشبیہات و استعارات پر بات ہو رہی تھی۔ پشاور سے آئے ہوئے شاعر نے کہا، کھوار کی تشبیہات میں کوئی بلند خیالی اور نزاکت نہیں ملتی۔ مثلاً ایک شاعر کہتا ہے کہ محبوب کے ہونٹوں کی رنگت سے رنگ لے کر گاؤں کی مٹی سرخ ہو گئی ہے۔
غلام عمر نے کہا، پشتو میں بہت نازک تشبیہات ملتی ہیں:
’’سترگی ڈکی طمانچے دی، زما محبوبہ زیڑہ آلوچہ دہ او نہ دا چنار ٹکی پہ اور بل، یمہ د ټرک ډرائیور یم۔‘‘
اتنی بلند خیالی اور نزاکت ہے کہ بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔
یوں غلام عمر مرحوم کی یاد میں منعقد ہونے والی یہ نشست حسین یادیں چھوڑ کر اختتام کو پہنچی۔
