DPO Resham Jehangir chairs a meeting of SHOs to review anti-narcotics drive in Lower Chitral.

DPO Removes SHO Over Poor Performance in Anti-Drugs Drive

Staff Correspondent

Chitral, July 14, 2026: District Police Officer (DPO) Lower Chitral Resham Jahangir on Tuesday chaired a performance review meeting of station house officers (SHOs) to assess anti-narcotics operations across the district.

During the meeting, the SHO of Lotkoh was awarded a certificate of appreciation and a cash prize for effective action against drug traffickers.

Meanwhile, the SHO of Drosh Police Station was immediately transferred to the police lines over unsatisfactory performance.

Addressing the meeting, DPO Resham Jahangir reiterated the district police’s zero-tolerance policy against narcotics, stating that protecting children and the younger generation from the menace of drugs remains the department’s top priority.

She warned that there would be no safe haven for drug traffickers in Lower Chitral, adding that offenders would be brought to justice.

The DPO also emphasized that outstanding performance would continue to be recognized, while negligence and poor performance would invite swift disciplinary action.

1 thought on “DPO Removes SHO Over Poor Performance in Anti-Drugs Drive”

  1. واہ! اسے کہتے ہیں پولیسنگ ہمارے ہاں اکثر پولیسنگ فائلوں میں ہوتی ہے۔ اجلاس ہوتے ہیں، چائے کے کپ خالی ہوتے ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، اور پھر سب کچھ ویسے ہی چلتا رہتا ہے جیسے چلتا آیا ہے۔ مجرم بھی مطمئن، غافل اہلکار بھی مطمئن، اور عوام صرف یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ قانون آخر جاگے گا کب؟ پھر کبھی کبھار کوئی افسر آتا ہے جو یاد دلاتا ہے کہ پولیس صرف وردی، گاڑی اور پروٹوکول کا نام نہیں۔ پولیس کا مطلب ہے فیصلہ کرنا، ذمہ داری لینا اور وہاں ہاتھ ڈالنا جہاں مسئلہ چھپا ہو۔

    لوئر چترال کی ڈی پی او ریشم جہانگیر نے تعیناتی کے چند دنوں میں یہی کر کے دکھایا ہے۔ نہ لمبی تقریریں، نہ رسمی جملوں کی بارش۔ سیدھا کام۔ کارکردگی کا جائزہ لیا، اچھا کام کرنے والے افسر کو عزت دی، اور جس کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی تھی اسے فوری جواب دہی کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ وہ چیز ہے جسے عام زبان میں پولیسنگ کہتے ہیں۔ کیونکہ ادارے صرف انعام دینے سے نہیں چلتے، کبھی کبھی آئینہ دکھانے سے بھی چلتے ہیں۔ اگر ایک افسر دن رات کام کرے اور دوسرا کرسی پر بیٹھ کر وقت گزارے تو دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک انصاف نہیں، بلکہ ناانصافی ہے۔

    ریشم جہانگیر نے اپنی فورس کو ایک واضح پیغام دیا ہے: وردی عزت ہے، لیکن یہ چھتری نہیں۔ عہدہ اختیار ہے، لیکن یہ احتساب سے آزادی کا پرمٹ نہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف جنگ میں سب سے پہلی ضرورت یہی ہے کہ قانون کے محافظ خود اپنے معیار پر پورا اتریں۔ جب تھانے کی سطح پر سستی ہوگی تو گلیوں میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہوں گے۔ اور جب اوپر سے واضح حکم آئے کہ غفلت برداشت نہیں ہوگی، تو نیچے تک پیغام پہنچتا ہے۔

    چترال کو ایک ایسے پولیس سربراہ کی ضرورت ہے جو صرف پریس نوٹ نہ لکھے بلکہ نظام کو حرکت دے۔ ریشم جہانگیر نے ابتدائی دنوں میں کم از کم یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دفتر کی کرسی کو آرام گاہ بنانے نہیں آئی ہیں۔ اب اصل امتحان باقی ہے۔ ایک اچھی شروعات کو مستقل مزاجی میں بدلنا ہوگا۔ کیونکہ عوام تالیاں ایک دن بجاتے ہیں، لیکن امن اور انصاف کے لیے روزانہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر باقی افسران بھی سمجھ جائیں کہ کارکردگی پر عزت ملتی ہے اور غفلت پر کارروائی ہوتی ہے، تو شاید چترال پولیس صرف نام کی نہیں بلکہ حقیقت میں ایک مثالی پولیس بن سکے۔

    فی الحال، ریشم جہانگیر نے ایک بات تو واضح کر دی ہے: کچھ کرسیاں صرف بیٹھنے کے لیے نہیں ہوتیں، کچھ کرسیاں فیصلے کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ریشم جہانگیر، اپنا کام جاری رکھیں۔ چترال کے لوگ اس کوشش میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیونکہ ایک مضبوط پولیس سربراہ صرف جرائم کے خلاف نہیں لڑتا، وہ ادارے کے اندر پیدا ہونے والی کمزوریوں کے خلاف بھی جنگ کرتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایک مضبوط ڈنڈا ہی وہ چیز ہوتی ہے جو بکھرے ہوئے نظام کو سیدھا کھڑا کر دیتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest