خانہِ حکمت کے قیام کو 49ویں امام سے جوڑنے کا دعویٰ مسترد

ذوالفقار احمد
اسلام آباد، 4 جون 2026: اسماعیلی نیشنل کونسل برائے پاکستان کے ایک سینئر عہدیدار نے جمعرات کو خانہِ حکمت گروپ کے اس دعویٰ کی تردید کی کہ اس کے قیام کو شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام مولانا شاہ کریم الحسینی نے منظور کیا تھا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر چترال ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کونسل کے عہدیدار نے اس دعویٰ کو “مکمل من گھڑت” قرار دے کر کہا کہ اس کا مقصد اسماعیلی برادری کے افراد کو گمراہ کرنا ہے۔

یہ ردِعمل خانہِ حکمت کے ایک نمائندے کی جانب سے مرحوم ناصرالدین ہنزائی کے قائم کردہ تحقیقی ادارے کو 49ویں امام سے منظور شدہ ادارے کے طور پر پیش کرنے کی نئی کوشوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس نمائندے کا کہنا ہے کہ راولپنڈی ریجنل کونسل کے ذریعے پہنچنے والے فرمان کے ذریعے امام کی منظوری ملی ہے۔

نیشنل کونسل نے کہا کہ یہ دعویٰ نہ صرف غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ اسماعیلی برادری کے ادارہ جاتی نظام کے اندر “بنیادی طور پر ناممکن” بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: “اس دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں کہ خانہِ حکمت کو مولانا شاہ کریم الحسینی نے منظور کیا، یا ایسا کوئی فرمان راولپنڈی ریجنل کونسل کے ذریعے پہنچایا گیا۔ امام کے فرامین نیشنل کونسل برائے پاکستان کے ذریعے جاری ہوتے ہیں اور ریجنل کونسلز کے قائم کردہ نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر کے تمام جماعت خانوں تک پہنچائے جاتے ہیں، کسی ایک ریجنل کونسل کے ذریعے نہیں۔”

عہدیدار نے گروپ پر الزام لگایا کہ وہ امامت کی مشروعیت کا لبادہ اوڑھ کر انھی اداروں کو نظرانداز کر رہا ہے جو اس کی نمائندگی کے لیے بنائے گئے ہیں۔

“جو وہ پیش کر رہے ہیں وہ غلط فہمی نہیں، کھلا جھوٹ ہے،” عہدیدار نے کہا۔ “اگر ایسا کوئی فرمان ہوتا تو وہ ملک بھر کے ہر جماعت خانے تک پہنچایا جاتا۔ اس کا دستاویزی ثبوت، ادارہ جاتی ریکارڈ اور پوری برادری میں اس کا علم ہوتا۔ کچھ بھی موجود نہیں۔”

نیشنل کونسل کی تنقید صرف طریقہ کار تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک تنظیم جو خود کو امامت کا منظور شدہ ادارہ کہتی ہے، وہ بیک وقت انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ریاستی کارروائی کا شکار کیسے ہو سکتی ہے۔

عہدیدار نے بتایا کہ خانہِ حکمت پر 2013 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی لگائی گئی تھی، اور تنظیم کی قانونی تاریخ ہی اس کے موجودہ دعووں کی نفی کرتی ہے۔

“امامت کے ادارے پوری دنیا میں، بشمول پاکستان، قابلِ احترام اور تسلیم شدہ ہیں،” عہدیدار نے کہا۔ “اگر نام نہاد خانہِ حکمت واقعی امام سے منظور شدہ ادارہ ہوتا تو اس پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت کبھی پابندی نہ لگتی۔ ان کا دعویٰ اپنی تضادات کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔”

عہدیدار کے مطابق اسماعیلی نیشنل کونسل نے 2013 کی پابندی نہ صرف قبول کی بلکہ اس کی حمایت بھی کی، اور برادری کے افراد کو مشورہ دیا کہ وہ اس تنظیم سے دوری اختیار کریں اور اس کی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں۔

عہدیدار نے خانہِ حکمت کے نمائندے کی جانب سے شفیق سچدینا کا نام استعمال کرنے کی کوش کو بھی مسترد کر دیا۔

“اگر وہ واقعی اپنے بیانیے پر یقین رکھتے ہیں تو سچدینا زندہ ہیں۔ پھر گروپ ان سے سامنے آ کر یہ تنازع ختم کیوں نہیں کرواتا اگر خانہِ حکمت واقعی جائز ادارہ ہے،” عہدیدار نے کہا۔ “اس کے بجائے ہم غیر مصدقہ دعوے، پرانے الزامات کا اعادہ، اور امامت کے اداروں پر برادری کے اعتماد کو استعمال کرنے کی کوشیں دیکھ رہے ہیں۔”

غیر معمولی سخت الفاظ میں عہدیدار نے خانہِ حکمت پر جماعت کے افراد کو کنفیوز کرنے اور اپنے مفادات آگے بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی مہم چلانے کا الزام لگایا۔

“یہ گروپ اپنے ذاتی مفادات کے لیے جماعت کو گمراہ کر رہا ہے،” انہوں نے کہا۔ “اس کے دعوے بے بنیاد، جھوٹے اور قائم شدہ حقائق کے خلاف ہیں۔ برادری کو کسی بھی ایسی تنظیم سے انتہائی محتاط رہنا چاہیے جو امام یا امامت کے سرکاری اداروں سے من گھڑت تعلق جوڑ کر مشروعیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔”

کونسل کے عہدیدار نے خبردار کیا کہ خانہِ حکمت کو منظور شدہ جماعتی ادارہ ظاہر کرنے کی کوئی بھی آئندہ کوش ناقابلِ قبول ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest