Faizi 1

کالاش تہوار

داد بیداد


ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
ہر سال مئی کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے ضلع لوئیر چترال میں کا لا ش قبیلے کا دوسرا بڑا تہوار منا یا جا تا ہے کا لاش کے شمسی کیلنڈر کا پہلا تہوار دسمبر کے مہینے میں ہوتا ہے اس کا نا م چا و مو س ہے دوسرا تہوار مو سم بہار میں آتا ہے جس کو ژوشی کہا جاتا ہے البتہ با ہر کے لو گ اس کو چلم جوش بھی کہتے ہیں

کا لاش دستور اور لغت کے بے شمار نا موں میں اس طرح بے جا تخریفات کی گئی ہیں 2026میں ژوشی کا تہوار 12مئی سے شروع ہو رہا ہے عام لو گ اور با ہر سے آنے والے سیا ح ژوشی کو محض رقص اور گیتوں کا تہوار سمجھتے ہیں مگر یہ تہوار محض نا چ گانوں تک محدود نہیں ہے کا لاش دستور کے مطا بق اس میں گیا رہ مختلف رسومات ادا کی جا تی ہیں رقص ان میں سے ایک ہے،

ان رسومات میں اہم رسومات وہ ہیں جن کا تعلق با ہمی محبت اور رشتوں کے احترام سے منسلک ہوتا ہے مثلاً تہوار کا آغاز ہونے کے بعد دودھ پلا نے کی رسم آتی ہے جس کو شیر پی پیک کہتے ہیں اس رسم میں گھروں اور مو یشی باڑوں کے باہر ایک دوسرے کو دودھ پلا تے ہیں اس مقصد کے لئے ہر گھر سے دودھ کے بر تن اٹھا کر چھوٹے بڑے اور مر د و زن با ہر آجا تے ہیں جن گھروں میں دودھ دینے والے مو یشی نہیں ہو تے ان کو دوسرے لوگ دودھ کا تحفہ بھیجتے ہیں جو با ہمی ہمدردی کی علا مت ہو تی ہے ایک اور رسم گل پا ریک شی شاؤ بھی با ہمی ہمدردی کا روشن استعارہ ہے اس رسم میں اخروٹ کی گری اور گندم کے آٹے کی لذیذ روٹیاں پکا کر بیا ہی گئی بیٹیوں اور ان کی اولا د کے گھروں میں بطور تحفہ بھیجی جا تی ہیں ہر گھر سے اگر 50روٹیاں دوسروں کو بھیجی جا تی ہیں تو اتنی ہی روٹیاں ان کے ننھیالی اور سسرالی رشتوں کی طرف سے آتی ہیں اس طرح با ہمی میل جو ل اور محبت کا اظہار ہوتا ہے

ژوشی کی 6رسومات ایسی ہیں جن کا تعلق دیو تا وں کی خوشی حا صل کرنے سے ہے ایک رسم ایسی ہے جس کے ذریعے زچگی کے عمل سے گذر کر بشا لی سے آئی ہوئی خواتیں اور نو مو لود بچوں کو کا لا ش قبیلے میں داخل کرنے کی رسم ادا کرتے ہیں دسمبر کے تہوار سے ژوشی تک نو مو لود بچوں اور ان کے ماوں کی بڑی تعداد اس رسم کی منتظر ہو تی ہے اس رسم کو پوشن پاری کا نا م دیا جا تا ہے جہاں تک رقص اور گیتوں کا تعلق ہے ان کو کا لاش دستور میں عبادت کا درجہ حا صل ہے گیت ایسے بھی ہیں جو مر نے والوں کی روحوں نے خواب میں آکر مخصوص لو گوں کو سنا ئے انہوں نے گا کر مشہور کر دیا ان کی اہمیت بہت زیا دہ ہے رقص کی مختلف اقسام کا تعلق ماحول اور فطرت کے منا ظر سے ہے، رقص کے دوران، جا نوروں، درندوں اور پرندوں کی نقلیں اتار ی جا تی ہیں اوہو، ہو کی آواز یں بد روحوں اور درندوں کو دور بھگا نے کے لئے نکا لی جا تی ہیں

ایک رقص میں زیا دہ سے زیا دہ 50لڑ کیاں بھی ایک دوسرے کا بازو تھا م کر حصہ لیتی ہیں کم سے کم تعداد 3لڑ کیوں کی ہو تی ہیں صرف کسی کے مر نے پر جو رقص ہو تا ہے اس میں لڑ کیاں دو دو کی ٹو لیاں بنا تی ہیں، شی شک چاہ نٹ اور درازائیلیک مشہور رقصوں کے نا م ہیں 1970سے پہلے کا لا ش کلچر پر جو فلمیں بنی ہیں ان میں کالا ش کا قدیم کلچر نظر آتا ہے گذشتہ 50سالوں کے اندر حکومتی اداروں کی ہے مداخلت کی وجہ سے کا لاش کلچر تبدیل ہو چکا ہے اب ژوشی کے مو قع پر پشاور سے پختون فنکاروں کا بڑا طائفہ لا کھوں روپے خر چ کر کے لا یا جا تا ہے جو بی بی شیرین اور شینواری لو نگین جیسے مقبول نغموں کی گونج میں کا لا ش تہوار کو جشن خیبر اور جشن کا بل میں تبدیل کر دیتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ کا لاش تہوار کی اصلیت کو بیرونی مدا خلت سے تحفظ دیکر دنیا کی منفرد ثقافت کو خطرے سے بچا یا جا ئے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest