shams

چترال میں ذات پات کے نام پر تنظیمی سرگرمیاں

میری ڈائری کے اوراق سے

شمش الحق قمر

آج کچھ فرصت میسر آئی تو فیس بک پر محد اسلم صاحب کا ایک جاندار اور فکرانگیز مضمون پڑھنے کا موقع ملا۔ اس تحریر نے مجھے اپنے خیالات کے دریچے کھولنے پر آمادہ کیا، چنانچہ اسی موضوع کو اپنی ڈائری کے اوراق میں سمیٹتے ہوئے چند گزارشات قلم بند کر رہا ہوں۔

محترم لکھاری کے مضمون کا حاصل یہ ہے کہ چترال میں برادریوں اور ذات پات کے نام پر تنظیمیں قائم ہونے سے معاشرتی تقسیم کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں بعض چھوٹی برادریاں خود کو نسبتاً کمزور محسوس کرتی ہیں۔ موصوف کی رائے ہے کہ معاشرتی ہم آہنگی اسی وقت ممکن ہے جب سب کے لیے برابر مواقع میسر ہوں اور باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دیا جائے۔
سب سے پہلے میں اسلم صاحب کی انسان دوستی اور بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے چترال جیسے پُرسکون مگر حساس معاشرتی ماحول کے ایک اہم پہلو کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے۔ میرے خیال میں ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہمارے معاشرے کا ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ایک ایسے دور میں، جب دنیا علم، تحقیق اور مصنوعی ذہانت کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، ہم اب بھی بعض اوقات ایسی سماجی حد بندیوں میں الجھ جاتے ہیں جن کی جڑیں زیادہ تر ماضی کے حالات میں پیوست ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ ہمارے ایسے بے بنیاد نظریات پر دنیا کی مہذب قوم قہقہ لگا کر ہسنتی ہے ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسانی تاریخ میں قبیلوں اور برادریوں کی شناخت ایک سماجی حقیقت رہی ہے۔ قدیم زمانوں میں انسان چھوٹے چھوٹے قبائل کی صورت میں زندگی گزارتا تھا۔ اس دور میں قبیلہ ہی اس کی پناہ گاہ، اس کی شناخت اور اس کی قوت ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ اپنی برادری سے وابستگی انسان کو تحفظ اور وقار کا احساس دیتی تھی۔ مگر زمانے کی رفتار کے ساتھ معاشرتی تصورات بھی بدلتے گئے۔

آج کی دنیا تعاون، رواداری اور انسانی مساوات کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں محض نسب یا قبیلے کی بنیاد پر برتری کا دعویٰ جدید سماجی شعور سے ہم آہنگ نہیں رہتا۔ ایک مہذب معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کے انسان ہونے کی بنیاد پر عزت ملے، نہ کہ اس کی نسل، زبان، قبیلے یا مسلک کی بنیاد پر۔ ممکن ہے بعض دوست اس موقع پر اس حقیقت کی طرف توجہ دلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قوموں اور قبیلوں میں اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔

بلاشبہ یہ بات درست ہے۔ لیکن پہچان اور تعارف کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ایک گروہ دوسرے پر برتری جتانے لگے۔ اگر کسی برتری کا تصور قابلِ قبول ہے تو وہ کردار، علم اور تقویٰ کی برتری ہے۔
میری دانست میں مثبت راستہ یہی ہے کہ ہم اپنی برادریوں کی اچھی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کی عزت بھی اسی طرح کریں جیسے اپنی عزت چاہتے ہیں۔ خاص طور پر چترال جیسے چھوٹے معاشروں میں، جہاں لوگ ایک دوسرے کے بغل میں رہتے ہیں، باہمی احترام، تعاون اور انصاف ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط اور پُرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

برادری کی شناخت اگر محض تعارف تک محدود رہے اور اصل قدر انسانیت، برابری اور باہمی احترام کو بنا لیا جائے تو معاشرے میں ہم آہنگی خود بخود پیدا ہونے لگتی ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں بعض خاندانوں یا افراد کو اپنی بہادری، ہنر یا خدمات کے باعث عزت حاصل ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہی عزت بعض اوقات صرف نسب کے ساتھ منسوب کر دی گئی، حالانکہ اصل عزت ہمیشہ انسان کے اپنے کردار اور عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ زمانہ بدلتا ہے تو عزت کے پیمانے بھی بدل جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں وہی انسان قابلِ احترام ہے جو علم، کردار اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور خود کو ایک وسیع انسانی برادری کا حصہ سمجھتا ہو۔ شاید اسی حقیقت کو غالبؔ نے بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا تھا
؎ ہم موحد ہیں، ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں، اجزائے ایماں ہو گئیں
اُن ملتوں اور قبیلوں کو تاخت تا راج کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں آپس میں بانٹتے ہیں۔

2 thoughts on “چترال میں ذات پات کے نام پر تنظیمی سرگرمیاں”

  1. کچھ طاقتیں فرقہ واریت کے زور کو توڑنے کیلئے قومیت کی سیاست کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں. فرقہ واریت ایک بڑی برائی ہے اور قوم پرستی چھوٹی برائی ہے.

  2. یہ جو آپ خود کر رہے ہیں کیا آپ پر نافذ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر آپ کے گاون کا نام ٹیک لشٹ ہے آپ اسے متاربکاندہ کہتے ہیں کیا یہ درست ہے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest