Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

چترالی سیاست میں ذاتی ووٹ بینک کا مفروضہ

تحریر: کریم اللہ 
چترال میں ان دنوں یہ بحث جاری ہے کہ آنے والے انتخابات میں کس امیدوار کا پلڑا بھاری رہے گا؟ کونسے امیدوار صوبائی اسمبلیوں کے لئے اور کونسا قومی اسمبلی جتینے کے لئے موزون امیدوار ہوں گے؟ کس امیدوار کے پاس کتنا ذاتی ووٹ بینک موجود ہیں؟ ایسے میں چترالی سیاست پر پارٹی پالیٹکس کا اثر کم ہوتا جارہا ہے جبکہ الیکٹیبلز کا اثر بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
سوال یہ  ہے کہ کیا چترال میں دس ہزار سے زائد ذاتی ووٹ بینک کے حامل کوئی سیاست دان موجود ہیں؟
گزشتہ کئی سالوں کے انتخابی نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو کوئی بھی بڑے سے بڑے برادری کے پاس ماسوائے چار سے پانچ ہزار ووٹروں سے زائد افراد موجود ہیں۔ جن میں سے انتخابات کے دنوں میں ٹرن آوٹ اگر ساٹھ فی صد بھی رہتا ہے کہ یہ تعداد تین ہزار کے لگ بھگ ہوں گے۔ پھر رشتہ داری، دوستی وغیرہ کو ملایا جائے تو یہ تعداد بھی دو ہزار سے اوپر نہیں جاتی۔
یعنی چترال میں کسی بھی سیاست دان کے پاس اگر بہت زیادہ ووٹ بینک بھی موجود ہیں تو یہ پانچ سے چھ ہزار کے قریب ہیں۔
چترال میں آنے والے انتخابات میں صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کی ضرورت
اب ایک اور سوال یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا کوئی بھی امیدوار کتنے ووٹوں سے جیت سکتا ہے۔۔؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں پی کے ون کے امیدوار کو جیتنے کے لئے کم از کم سترہ ہزار سے بیس ہزار ووٹ لینی ہو گی کیونکہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے ٹرن آوٹ اور امیدواروں کے جیتنے کی شرح بیس ہزار تھیں۔
جبکہ دوسرے نمبر پہ آنے والوں کے مجموعی ووٹوں کی تعداد بھی بارہ سے تیرہ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ 
اس لئے آنے والے انتخابات میں پی کے ون جیتنے کے لئے کسی بھی امیدوار کو سترہ ہزار سے زائد ووٹ لینا ہو گا۔
اسی طرح پی کے ٹو میں یہ شرح مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ پی کے ٹو میں آبادی کا تناسب پی کے ون کی نسبت کافی زیادہ ہے اس کے علاوہ پی کے ٹو میں زیادہ تر گنجان آباد شہری علاقے آتے ہیں۔ اس لئے پی کے ٹو جتینے کے لئے کسی بھی امیدوار کو کم از کم بیس سے بائیس ہزار ووٹ لینا ہوگا۔
جبکہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات جیتنے والے دونوں چیرمینوں کی ووٹوں کا تناسب تیس ہزار سے اوپر تھے۔ 
اسی تناسب سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے کے لئے کسی بھی امیدوار کو پچاس ہزار ووٹ لینے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی بھی امیدوار ذاتی ووٹ بینک سے یہ معرکہ عبور کر سکتا ہے؟
You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!