Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

الخدمت فاونڈیشن کی خدمات کی ایک جھلک

الخدمت فاونڈیشن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں. یہ نہ صرف کراچی سے لے کر بروغل تک پھیلی ہوئی ہیں بلکہ ترکی تک جا پہنچ چکی ہیں. چاہے زلزلہ ہو یا لاک ڈاون اور رمضان کے راشن, اللہ کے یہ نیک بندے ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ضرورت مندوں کی بکا تفریق خدمت کرتے ہیں. اس طرح کے فلاحی کام دوسرے افراد اور ادارے بھی کرتے ہیں لیکن الخدمت کی انفرادیت یہ رہی ہے کہ انہوں نے دو ایسے شعبوں کی طرف خاص توجہ دی ہوئی ہے جو ہمارے حکمرانوں نے بھی کئی دہائیوں تک نظر انداز کئے ہوئے تھے. ان میں سے ایک صحت کا شعبہ ہے اور دوسرا تعلیم کا. اس سلسلے میں الخدمت فاونڈیشن سکول اور آغوش ہومز اپنی مثال آپ ہیں. 
پچھلے ہفتے, 21 مئی 2023, کو الخدمت فاونڈیشن سکول, قتیبہ کیمپس, میں بی بی نور اسکالر شپ کی تقریب افتتاح میں شرکت کرنے کا موقع ملا. اس اسکالر شپ کے تحت الخدمت فاونڈیشن سکول, قتیبہ کیمپس, میں میٹرک میں پہلی پوزیشن ہولڈر بچی کو ڈیڑھ لاکھ, دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی بچی کو ایک لاکھ اور تیسری پوزیشن ہولڈر کو بچھتر ہزار کا انعام دیا جائے گا. اس تقریب میں شرکت کر کے دوہری خوشی کا احساس ہوا. اول, اسکالر شپ کے حوالے سے نور الدین جلال صاحب, جو کہ امریکہ میں مقیم ہیں, کی اپنی مادر علمی کے ساتھ وفا اور ماں کی محبت میں ایسے کار خیر کے لئے ان کے جذبے کو دیکھ کر. دوئم, اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے اخلاق الدین قاضی صاحب, پرنسپل الخدمت فاونڈیشن سکول, قتیبہ کیمپس, اور ان کی ٹیم کی کاوشوں اور طلباء و طالبات کے اس پروگرام کے حوالے سے تیاریوں اور انتظامات کو دیکھ کر میری خوشی دیدنی ہوئی.
پروگرام میں جانے سے پہلے میرے ذہن میں پروگرام کا جو نقشہ تھا وہ یکسر مختلف تھا. ایسا پروگرام جہاں اس ادارے کے حکام بالا آرہے تھے, میری سوچ یہ تھی کہ اس پروگرام میں نظامت جماعت اسلامی یا الخدمت فاونڈیشن کا کوئی عہدیدار یا ذمہ دار نبھائے گا کیونکہ ایسے پروگراموں میں ادارے بڑوں کے پروٹوکول کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے, لیکن وہاں جا کر منظر کچھ اور ہی پایا. 
اسٹیج خوبصورتی سے سجا ہوا تھا اور روسٹرم پر طالبات نے قبضہ جمایا ہوا تھا. ہر چیز انتہائی نفاست سے مینیج ہو رہی تھی, چاہے وہ ساؤنڈ سسٹم ہو یا ملٹی میڈیا. سکول یونیفارم میں ملبوس چھوٹے بچے آنے والے مہمانوں کو سلام کر کے ان کو ان کی نشستوں تک لے جا رہے تھے. پروگرام کا آغاز ہوا تو طالبات نے انتہائی کمال اور کانفیڈینس کے ساتھ کمپئیرنگ شروع کی. نہ صرف اسٹیج سیکریٹریز کی کوآرڈینیشن اعلی معیار کی تھی بلکہ ہر ایک آئٹم جو پیش کی گئی وہ خوبصورتی سے بھرپور تھی. چھوٹی بچیوں کی پرفارمنس سے لے کر بڑے بچوں کی تقاریر تک, سب پر خوب محنت کی گئی تھی. اس میں بچیوں کی مینیجمنٹ اور کمیونیکیشن اسکلز کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی کہ جہاں طلباء و طالبات قابل تعریف ہیں تو ان کے اساتذہ بھی قابل ستائش ہیں جو ان کی صلاحیتوں کو اس طرح پالش کراتے ہیں. 
طلباء و طالبات کی خود اعتمادی اور اتنی مہارت اور نفاست سے پروگرام کی نظامت سنبھالتے دیکھ کر مجھے اخلاق الدین قاضی صاحب پر رشک بھی آیا اور اپنے سکول کا زمانہ بھی یاد آیا. ہمارے دور میں ہمارے محترم پروفیسر عبید الرحمن صاحب (مرحوم) یہ کام کراتے تھے. بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو ابھارنے میں وہ بھی اپنی مثال آپ تھے, چاہے وہ شاعری ہو, مصوری ہو, یا تقریر کرنے کا فن یا پھر کھیل کا میدان. وہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی آگے جانے میں بچوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے بلکہ بنفس نفیس اس کام کی نگرانی بھی کرتے تھے.
اس مضمون کے توسط سے اس پروگرام میں آئے ہوئے ہمارے معزز مہمان جناب انجم جعفری صاحب, سیکرٹری جنرل الخدمت فاونڈیشن پاکستان, ڈاکٹر جبران بلوچ, نیشنل ڈائریکٹر فار اایجوکیشن, الخدمت فاونڈیشن پاکستان, اور خالد وقاص, پریزیڈنٹ الخدمت فاونڈیشن, خیبر پختون خواہ, سے چند گزارشات کرنا چاہوں گا. 
اول, جس طرح الخدمت فاونڈیشن نے قاضی اخلاق الدین صاحب کے لئے اس سکول کو چلانے کے لئے آسانیاں پیدا کی ہوئی ہیں ان کو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ ان میں مزید بہتری لائی جائے تاکہ وہ اس سکول کو مزید بہتر بنا سکیں. روایتی تعلیم و تربیت پر زور دینے اور اس کے لئے پرنسپل صاحب کو پابند بنانے کی بجائے نہ صرف ان کو فری ہینڈ دیا جائے بلکہ نئے اور جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم وتربیت کو سارے الخدمت سکولوں میں اس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح آغا خان ایجوکیشن سروس کر رہی ہے. 
دوئم, پرنسپل اخلاق صاحب نے اپنی ایک ٹیم بنائی ہے اور اس پروگرام کی کامیابی ان کی ٹیم کی کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے. ان کے ساتھ کام کرنے والے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کو بھی الخدمت فاونڈیشن کی تھوڑی توجہ چاہئے تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں کام کر سکیں. اس لئے ان کی مراعات اور معاوضوں میں رد و بدل کرنے کی اشد ضرورت ہے, تا کہ وہ اس ادارے کو مزید اون کر کے کام کریں. آج کل ایک دیہاڑی دار مزدور بھی پرائویٹ سکول کے ایک استاد سے زیادہ کما رہا ہے جس کو دیکھ کر پرائویٹ سکولوں کے اساتذہ احساس کمتری کا شکار بھی ہوتے ہیں اور مہنگائی کے اس دور میں جینا بھی ان کے لئے مشکل ہو چکا ہے. اگر الخدمت فاونڈیشن سکول اس سلسلے میں اپنے ملازمین کے لئے کچھ کرنے کی استطاعت رکھتی ہے تو اسے ضرور اس طرف قدم اٹھانی چاہئے.
تیسری اور آخری گذارش آغوش ہومز کے حوالے سے ہے. ہر آغوش سنٹر میں ایک فیمیل ماہر نفسیات ہونے کی اشد ضرورت ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں مقیم یتیم بچوں کو سٹاف کی طرف سے ہر قسم کی محبت بھی ملتی ہے اور بہترین طریقے سے ان کی پرورش بھی ہوتی ہے, لیکن پھر بھی والدین سے محرومی اور خاص کر کے ماں سے دوری کا احساس ہوتا ہوگا. اس لئےان کی نفسیات کو جاننے اور اس ماہر نفسیات کے مشوروں پر عمل کر کے ان کو معاشرے کے لئے مزید بہتر شہری بنایا جا سکے. اس عمل سے ماں کی موجودگی کا احساس بھی ہوگا اور ان کی محرومی میں تھوڑی کمی بھی آئے گی. لیکن اس سلسلے میں انتہائی چھان بین اور واقعی میں ‘ماہر, قابل اور تجربہ کار’ ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی ورنہ اس کے اثرات اچھے ہونے کی بجائے بدتر ہوں گے. 
چترال جیسے پسماندہ علاقے کے لئے اس طرح کے کام کسی نعمت سے کم نہیں جس کے لئے تمام اہلیاں چترال الخدمت فاونڈیشن کے مشکور و ممنون ہیں. مختصرا یہ کہ چترال میں کئی اور الخدمت فاونڈیشن جیسے سکول اور کئی آغا خان ایجوکیشن سروس سکول بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ کام نہ ہمارے حکمران یا منتخب نمائندے کر سکتے ہیں, نہ ہی ان سے توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان میں وہ اہلیت ہے. تعلیم کے لئے ایسے کام الخدمت فاونڈیشن اور آغا خان ایجوکیشن سروس جیسے ادارے ہی کر سکتے ہیں اور توقع بھی ان ہی سے کی جا سکتی ہے.
You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!