Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

پشاور میں یاد گار خطبے

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
آج پشاور میں میرے سُنے ہوئے یاد گار خطبے یاد آرہے ہیں یاد آنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسے خطبے بہت کم سننے کو ملتے ہیں میں نے پشاور میں نماز جمعہ اور عیدین کے جوخطبات سُنے سب یاد گار تھے مسجد دوریش میں مولانا حسن جان کا خطبہ، مسجد مہابت خان میں مولانا مبارک شاہ الگیلانی کا خطبہ اور مسجد طورہ قل بائے میں قاری عبدالسمیع کا خطبہ میں نہیں بھلا سکتا

یہ اپریل 1971کا ذکر اخبارات کی سر خیوں میں سیا سی بیا نات کا زور ہوا کر تا تھا شیخ مجیب الرحمن، ذولفقار علی بھٹو، خان عبد الولی خان، قیوم خان، مولانا بھاشا نی، اور شورش کا شمیری کی دھواں دھار تقریروں کے بڑے چر چے تھے سیاسی تقریریں عموماً اپنا قد بڑھانے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے ہو تی ہیں اور ان کی وجہ سے معاشرے میں گھٹن یا تناءو کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ذہنوں پر چھا جاتی ہے مولانا مبارک شاہ الگیلانی کی آواز دھیمی ہوا کر تی تھی ان کا اسلوب بھی نرم اور دھیما ہو تا تھا گھٹن کے اس ما حول میں وہ خوشی اور مسرت کا پیغام اپنے خطبوں میں دیتے تھے انہوں نے حمدو ثنا کے بعد آیت کریمہ کی تلا وت کی اس کا تر جمہ سنا یا، اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھا مے رہو آپس میں تفرقہ نہ ڈالو آیت مبا رکہ کی تشریح و تفسیر بیان کرنے کے بعد انہوں نے حدیث شریف مکمل حوالہ اور اسناد کے ساتھ سنا ئی پھر حدیث شریف کا تر جمہ سنایا  رسول اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی ہے کہ اے مسلمانو! تواضع اور انکساری اختیار کرو، کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور کوئی کسی دوسرے پر ظلم و زیا دتی نہ کرے

اس کے بعد مولا نا نے دھیمے لہجے میں نما ز یوں کو سمجھا یا کہ تواضع مو من کی خو بیوں میں سے اہم خو بی ہے اپنے آ پ پر فخر کرنا اور دوسروں پر زیا دتی کرنا مو من کو زیب نہیں دیتا، انہوں نے سیا ست کا نا م نہیں لیا، سیا سی بیا نات کا حوالہ نہیں دیا اس کے باوجود میرے چار ساتھیوں نے اس خطبے کے بعد سیا سی بحث تمحیص اور جھگڑوں سے تو بہ کیا اس طرح مسجد طورہ قل بائے میں قاری عبد السمیع کا خطبہ یا د آتا ہے قاری عبد السمیع لمبے قد، ازبک نا ک نقشہ کے ساتھ عربوں کے لہجے میں حدو ثنا پڑھنے والے بارعب شخصیت کے مالک ہو نے کی وجہ سے خطیبوں میں ممتاز تھے اُس روز کے اخبارات میں دہشت گردی کے بڑے واقعے کی خبریں نما یاں تھیں قاری صاحب نے حمد وثنا کے بعد سورہ نساء کی آیت تلا وت کی آیت کا تر جمہ سنا تے ہوئے کہا کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اس کی سزا جہنم ہے ہمیشہ اس میں رہے گا

اس کے بعد قاری صاحب نے خطبہ حجتہ الوداع سے حدیث شریف کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا آج کے بعد تمہا را خون ایک دوسرے پر حرام ہے ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم ایک دوسرے کی جا ن کے درپے ہو جاءو‘‘ پھر قاری صاحب نے دوسری حدیث سنا ئی  رسول اللہ ﷺ نے فرما یا قیا مت کے روز مقتول اپنے قاتل کو سر اور پیشا نی سے پکڑ کر لائے گا اس حال میں مقتول ( فریا دی ) کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا مقتول بار گاہ رب العزت میں التجا کرے گا کہ اس نے مجھے قتل کیا تھا بار گاہ رب العزت سے قاتل کے لئے جہنم کا حکم ہو گا‘‘

حدیث شریف سنانے کے بعد قاری صاحب نے کہا کہ ہر گناہ کی تو بہ ہے قتل کی تو بہ نہیں مسلمان کا قتل ہو اور جان بو جھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس کی کوئی توبہ نہیں مولانا حسن جان شہید نے عرب ممالک، افریقہ اور یورپ کے کئی دورے کئے تھے ان کا علم بہت وسیع تھا ان کے لہجے میں شہد جیسی مٹھاس تھی کبھی خطبہ ارشاد کر تے کبھی سوالوں کے جوا ب دیتے جو چھوٹی چھوٹی پر چیوں پر لکھ کر منبر تک پہنچائے جاتے تھے

ان کا خطبہ عموما ً مختصر ہوا کرتا تھا، کم بولتے تھے اور جب بولتے دریا کو کوزے میں بند کرتے تھے ایک دن سوال آیا تھا کیا مسلمان کے نیک اعمال ضا ءع بھی ہو تے ہیںآپ نے جواب دیا دوصورتوں میں مسلمان کے نیک اعمال بھی ضائع ہوتے ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرے دوسری صورت یہ ہے کہ کسی مسلمان کو جا ن بو جھ کر قتل کرے، آپ نے آیا ت کریمہ اور احا دیث مبا رکہ کے حوالے دیکر جواب کی مدیل وضا حت فر مائی پشاور میں میرے سنے ہوئے یا د گار خطبے یہی تھے ان کی سدا بہار حیثیت ہے۔

You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!