پاکستان بین الاقومی تنظیم براے انسداد دھشت گردی کا امتحان پاس کیوں نہیں کرسکا؟ 

برقعے کی اگ

ڈاکٹر خلیل جغور

پڑوس میں کوی بڑا واقعہ ھورھا ھو تو کبوتر کی طرح اس سے آنکھیں بند کرنا کم عقلی کی انتہا ھے۔ لاھور میں کالج پھر یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران میں نے شیعوں کو بہت قریب سے دیکھا ھے. ان کے عقائد جو بھی ھیں لیکن مذھبی معاملات میں وہ دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت سخت گیر ھیں

لیکن اج ایران جیسے ملک میں جو ھورھا ھے وہ ھم سب کیلیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ھے۔ ایران میں ایک خاتون کو برقعہ نہ پہننے پر پولیس گرفتار کرتی ھے اور خاتون پھر پولیس کی تشدد سے فوت ھو جاتی ھے.  نتیجے میں ایران میں ایک ایسی اگ بھڑک اٹھی ھے جس کا بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق تھم جانا انتہائی مشکل ھے۔

ایران کے علاوہ دوسرے ممالک بشمول کینیڈا امریکہ اور یورپ وغیرہ میں ایران میں برقعہ لازمی پہننے کے خلاف ایسے زوردار مظاھرے کیے گیے اور ایسی حرکتیں کی گیں جنہیں دیکھ کر ھر مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ھوگا کہ زور زبردستی کسی حکم کو عوام پر لاگو کرنے کے کیسے نتایج سامنے آسکتے ھیں۔ پردہ اسلام کا لازمی جز ھے قران کے سورہ نور اور سورہ الاحزاب میں سید ابوالاعلی مودوی صاحب نے بہت لمبی تفسیر لکھی ھے.  پردے کی تعریف میں سید مودودی دوسرے اجتہادیوں کے نظریات کو سامنے رکھ کر اس بات پر متفق نظر اتے ھیں کہ وہ سعودی اور ایران کے خواتین جس قسم کا پردہ پہنتی ھیں  وہ قران کے احکامات پر پورا اترتی ھے۔ آحتجاج کے دوران خواتین نے حجاب اور برقعوں کو اگ لگا دی۔ کچھ نے اپنے بال کاٹ کاٹ کر برقعوں کیساتھ اگ لگا دی۔ کئی ایک 90 فی صد برہنہ ناچتے اور جسم دیکھاتے نظر ائے۔

سوچنا یہ ھے کہ ایا ایران سمیت پوری دنیا میں ایرانی جو کر رھے ھیں وہ غلط ھے یا اس قانون کو لاگو کرنے کا طریقہ قران کی ایت “لااکراہ فی دین” کے منافی ھے۔ اکثر عرب علماء قران میں مزکور موجودہ امت کے بارے میں “امتا وسطا” کے الفاظ کو بھی استدلال کے معنی میں لیتے ھیں۔ تو کیا استدلال کا راستہ اختیار کرنا ھوگا۔ ایران اور پوری دنیا میں جو اج برقعے کے خلاف ھورھا ھے کیا بے راہ روی ھے یا مسلمانوں کے کردار کی نہچ یہاں تک پہنچ چکی ھے کہ مظاہرین ظاھری اسلام کو عملی اسلام سے متضاد۔سمجھ کر یہ سب کر رھے ھیں۔  

ھمیں ضرور سوچنا ھوگا کیونکہ اگ پڑوس میں لگی ھے جس کی چنگاری ھم تک پہنچنا فطری عمل ھے.  اج ایرانی حکومت نے تمام سوشل میڈیا کے زرایع پر پابندی لگا دی گیی ھے۔ کیا یہ مسلے کا حل ھے؟  یا اس واقعے کو بھی ھم حسب روایت امریکیوں کی سازش کہہ کر خود کو مطمین کریں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *