Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

چترال کے گودام سے گندم خریدنے کی سہولت ختم

چترال (محکم الدین): پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صدیوں سے چترال کے گرین گودام سے گندم خریدنے کی جاری سہولت ختم کر دی ہے جسے عوامی حلقوں نے چترال کے گندم کا کوٹہ مل مالکان کوفروخت کرکے تجوریاں بھرنے اورغریب عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے۔

مختلف افراد نے اس حوالے سے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ چترال کے ہزاروں افراد گرین گودام سے گندم خرید کر مقامی پن چکیوں میں پیس کر کم قیمت پر خوراک حاصل کرتے ہیں اور یہ ان کیلئے سستا ترین سہولت ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں سے یہ سستی سہولت دانستہ طور پر ایک سازش کے تحت چھین لی گئی ہے اورصوبائی حکومت کی طرف سے چترال کے گرین گوداموں کے دروازے عام لوگوں کیلئے بند کردیے گئے ہیں جبکہ روزانہ گندم کی تقریباسات سو بوریاں تین فلور ملوں مںں تقسیم کئے جائیں گے اور حکومتی ریٹ پر لوگوں کو آٹا مخصوص مقامات سے فراہم کیا جائے گا۔
بظاہر صوبائی حکومت کی طرف سے اسے عوام کیلئے خوراک کے حوالے سے سہولت دینےکی کوشش قرار دی جارہی ہے لیکن حقیقت میں یہ چترال بھر میں قائم گندم کےسرکاری گودام اور سیل پوائنٹ ختم کرنے اور مستقبل میں عوام چترال کو فلور ملوں کے دست نگربنا نے کی سازش ہے۔
اسی لئے چترال کے سابق ایم این اے شہزادہ محی الدین مرحوم نےجوٹی لشٹ چترال میں فلور مل کی تعمیر کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ تعمیر ہی نہیں کرنے دیا تھا۔ چترال کے ایک دو شہروں کو چھوڑ کر پورے چترال میں ہر جگہ پن چکی اور بجلی سے چلنے والی گندم پیسنے کی مشینیں لگی ہوئی ہیں جن سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے جو لوگ گوداموں میں گندم خریدتے ہیں وہ ان پن چکیوں اور مشینوں میں کم قیمت پر پسائی کرکے آٹا حاصل کرتے ہیں۔
گندم کی عام لوگوں پر فروخت پر پابندی سےغریب لوگ بہت زیادہ متاثر ہو چکے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ خد شہ بڑھ گیا ہے کہ مستقبل میں چترال میں خوراک کا بحران پیدا ہو گا۔
عوامی حلقوں نے پر زور مطالبہ کیا ہے ۔کہ صوبائی حکومت فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے اور پہلے سےجاری طریقہ کار کے مطابق تمام لوگوں کو گودام سے گندم خریدنے کی سہولت پہلے کی طرح فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلور ملوں کو کوٹہ دینے کے بہانےعام لوگوں کیلئے گودام کے دروازے بند کرنا بالکل درست نہیں۔
You might also like

Leave a comment

error: Content is protected!!