نام جیسا کام

آفکارِ نور

شیر بھی ہے اور نادر بھی شیر نادر خان
کام شیروں والا، حسن اخلاق میں نادرو نیاب

معروف مصنف شیکسپیئر کا کہنا تھا کہ نام دراصل انسان کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اوراس کی شخصیت اورانفرادیت کا عکاس ہوتا ہے اسی لیے لوگ بہت سوچ بچار کے بعد اپنے بچوں کے نام تجویز کرتے ہیں اور پھراس نام کے مطابق شخصیت میں صلاحتیں اور قابلیت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کے نزدیک نام کا پہلا لفظ بہت اہمیت رکھتا ہے
نام انسانی زندگی میں بہت ہی اہم حیثیت رکھتے ہیں دنیا میں لوگوں کی مکمل شخصیت ان کے نام کی مکمل عکاسی کرتی نظر آتی ہے۔ معاشرے میں کچھ لوگ اپنے نام جیسا تیور رکھتے ہیں، وہ اپنے نام جیسا شخصیت کے حامل ہیں، وہ کردار گفتار، فعل عمل میں ایک عظیم انسان ہوتے ہیں۔سماج میں بعض لوگوں کی جنم صرف اس لئے ہوتی ہے کہ محض انسانیت کی خدمت کے واسطے پیدا کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی خوشنودی اور خدمت خلق کے لئے زمین پر ایسے ہی لوگوں کو جنم دیتا ہے۔
تاریخ کی پرانے اوراق یہ واضح طورپر ہمیں بتاتی ہیں رحمت قبول کا فرزند حیدر قبول پھر حیدر قبول کا فرزند شیر نادران ناموں کے تسلسل میں جو ایک کڑی ہے وہ کمال ہے، پردادا بھر والد پھر بیٹا سب خدمت خلق کی درخشندہ باپ ہیں۔
حیدر قبول مرحوم خدمت خلق کے عظیم جذبے سے سرشار، ان سماجی کاموں کو اپنے ایمان کا تقاضا سمجھتے تھے۔ ریاست کے اندھیرے نگری میں کالے قانون کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا اور فرعونوں کو گھٹنے ٹیکنےپر مجبور کرنے والا حیدر کی آواز اس وقت قبول ہوئی جب انگریزوں نے پہلی بار حیدر قبول نام سنا، دیانت دار قابل فہم، جہاندیدہ، حیدرقبول نے اپنے زندگی میں نہر ششم کے عوامی مسلے کو احسن طریقے سے حل کرنے ہرممکن کوشش کی مگر زندگی نے وفانہ کی، اپنی آخری ایام میں بیٹے شیر نادر کو اپنے نصیحت اور وصیت میں کہا کہ میری زندگی میں میرے علاقے کے عوام کی لاج رکھنا، نہر ششم کے ذریعے بنجر زمین کوآباد کرنا، عوام میں مشاورت اورہم آہنگی کے اصولوں کے مطابق اس عوام مسلے کوحل کرکے میرے قبر پہ آ کے آواز دینا تب میرے روح کوسکون نصیب ہوگی۔
باپ کی زبان سے نکلا سے لفظ بیٹے کی نس نس میں رچ گئی، والد کی انتقال کے محض پانچ مہینے بعد شیر نادر خان نہر ششم کے عوامی رائے کو مقدم سمجھتے ہوئے اس کام کو احسن طریقے سے انجام دیا اور عوام کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا، چترال میں اس طرح کے زمینات اکثر بڑے سرکار کے کھاتے میں جاتےتھے، ان کے حلق میں ہاتھ ڈال کر عوام کے کھاتے میں ڈال کر تاریخ رقم کی، مقامی جرگے میں عوامی مسائل کو عوام ہی کی دہلیز پر مشاورت سے حل کرنے کا اعزاز اپنے نام کر لیا تاکہ علاقے کی ساکھ برقرار رہے اور اپنے والد کے لحد پر جا کر آواز دی کہ کہ بابا میں نے آپ کی وصیت کی لاج رکھ لی۔
کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، باپ نے اس دنیا کو خیرآباد تو کہہ دی مگر پیچے اپنے طرز عمل، خدمت خلق، کے تسلسل کو ہمیشہ برقرار رکھنے کے لئے شیر نادر نامی بیٹے کو جنم دیا، باپ نےبیٹے کا نام بھی کمال کا چن لیا، وہ شیر بھی ہے اور نادر بھی ہے۔ یونیورسٹی آف پشاور سے ایم کام کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملک کے بہتریں اداروں کیساتھ کام کرتا رہا۔۱۹۹۰ کے عشرے میں بطور بینک آفیسر نیشل بینک کے ساتھ منسلک ہوئے۔ اپنے تیس سالہ دوران ملازمت میں وہ ملک کے مختلف شہروں، دیہی علاقوں میں اپنی بہتریں خدمات انجام دیتا رہا، اس دوران وہ مختلف عہدوں پر فایئز رہے، وہ آج کل نیشنل بینک مستوج میں بطور اسسٹنٹ وائز پریذڈنٹ کی حیثیت سے ریٹایرڈ ہوئے۔
انسانیت کی خدمت، انسانیت کی فلاح کے کاموں میں شیر کی طرح پھرتی سے کام لیتا ہے، جب کہ انسانیت سے ملنے میں ان کا گفتار کردار نادر ہے۔ یعنی کے وہ شیر نادر ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک بینکر ہے۔ وہ اپنے وارڈ میں صرف کام کےساتھ ایک خوشگوارالفاظ اور خوشگوار ماحول میں مد فراہم کرتاہے۔
اپنےحسن اخلاق، نرم مزاجی کی بدولت وہ عوام میں بہت زیادہ مقبول شخصیت ہے۔ رضاکارانہ ،خدمت، احترام ملنساری نے ایک بینکر کو سماجی کارکن بنا دیا، سماج کی خدمت اس کو ورثے میں ملی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت نے رحم دلیِ کی سبب شیر نادر کو معاشی کارکن بھی بنا دیا۔ اپنے وساطت سے بڑھ وہ ان لوگوں کی بھی مالی تعاوں جاری رکھا جو سماج میں بہت زیادہ مستحق ہیں۔
دنیا میں انسانیت احساس سے بنتے ہیں، انسانیت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ دنیا سبھی اپنے لیے جیتے ہیں وہ لوگ کمال اور بے مثال ہیں جو دوسروں کا درد بھی محسوس کرتے ہیں۔سماجی کارکن، معاشی کارکن، ایک باپ،ایک بیٹا،فرزند مستوج ہم آپ کی شاندار مستقبل کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ وہ لوگ خوبصور ت ہوتے ہیں جو انسانیت کا درد محسوس کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کا سماج میں ہونا لوگوں کی خوش قسمتی ہے۔انہیں سنبھال کے رکھنا چاہئیے۔ یوں انسانیت کی خدمت کرنے کی اللہ تعالیٰ آپ کو مزید طاقت بخشے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.