بلدیاتی الیکشن کا دوسرا راؤنڈ

تحریر: ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ 
خیر سے پہلا راؤنڈ مکمل ہونے کے بعد اب الیکشن کا دوسرا راؤنڈ خیبر پختونخواہ میں شروع ہو چکا ہے۔اگرچہ کچھ علاقوں میں موسمی دشواریوں کے باعث بلدیاتی الیکشن ملتوی ہوگئے ہیں لیکن کچھ میں مارچ کے اخر تک یہ دنگل سجے گا۔ پہلا راؤنڈ کے رزلٹ کافی سرپرائزنگ تھےجس میں جے یو آئی مولانا صاحب  کی پارٹی کو سبقت حاصل رہی۔ اب دیکھنا ہوگا دوسرا راؤنڈ  کیا نتیجہ دیتا ہے۔
اگرچہ بلدیاتی الیکشن یوسی تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہوتے ہیں لیکن یہ جنرل الیکشن پر بھی کافی اثرات چھوڑتے ہیں اور یہی الیکشن نچھلی سطح تک اقتدار کی منتقلی کا بہترین ذریعہ بھی ہے جس میں چھوٹے لیول کے کام گاوں تحصیل اور ضلع کی سطح پر ممبر ناظم کے ذریعے آسانی سے ہو جاتے ہیں۔اور بجلی سیورج گلی محلوں کا کام اپنے علاقے کے اندر عوام کی ہی سرپرستی میں حل ہو جاتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں چونکہ نام نہاد جمہوریت  کے جو نام نہاد علمبردار اس ملک پر اقتدار میں رہے۔ انہوں نے بلدیہ کے نظام کو مظبوط کرنے کے لیے کوئی اسطرح موثر  اقدامات  نہیں اٹھائے بلکہ ہمیشہ کوشش کی کہ گلی محلہ کی صفائی کے لیے بھی لوگ ان کے ممبر کے محتاج رہے اور یہ اختیارات عوام کے پاس نہ جائے۔
بہرحال اب دوبارہ ملک بلدیاتی سسٹم کی طرف جا رہا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔
اس دوسرے راؤنڈ میں کس کا پلہ بھاری رہتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کے لیے ہر پارٹی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں ۔چونکہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی نہ صرف کافی مقبول ہیں بلکہ اپنا دوسرا ٹینور بھی چلا رہی ہیں۔
جس کی وجہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت کی اصلاحاتی اقدامات بھی ہیں چاہے کوئی مانے یا نہ مانے ۔لیکن سچ کو قبول نہ کرنے سے سچ کو آنچ نہیں آسکتی۔
پولیس ریفارمز۔ میرٹ۔ ایجوکیشن، ہسپتال صحت کارڈ تو اتنا زبردست پروگرام ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے بہت کم ہے۔ تھوڑا بھی اگر کسی باشعور بندے  کو ان  جگہوں سے واسطہ پڑا ہو گا وہ یقینا کچھ نہ کچھ بہتری ضرور محسوس کئے
 ہونگے۔ اب مکمل فلاحی ریاست کےلئے تو ٹائم چاہیے اگر اس فرسودہ نظام میں سو میں سے اگر چالیس فیصد  بھی بہتری دیکھنے کو ملے تو بہت بڑی بات ہے۔ 
دور افتادہ نظرانداز علاقوں کو  اگے لانے پر فوکس رکھنا۔ اس پر عملی اقدامات ۔اس حکومت کی بہترین ترجیحات ہیں جس  کے لیے انہوں نے ضلع بنائے ڈویژن بنائے تاکہ اسانی سے عام لوگوں کی رسائی افسران بالا تک ہو سکے نہ صرف یہ بلکہ افسران کی پروموشن کو عوامی سطح پر انکے کام کاکردگی  عوام  میں ان کی پذیرائی سے مشروط کر دیا جو کہ ایک ویژنری سوچ کی عکاس ہے۔
پی ٹی آئی  حکومت کا  اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینا اتنا بڑا احسان ہے کہ اسکا کوئی نعم البدل نہیں  یہ احسان ہم پر ایک قرض بھی  ہے جس کو اسی طرح خلوص کے ساتھ لوٹانا  چاہئے جس خلوص سے یہ اتنا بڑا کام کیا گیا۔ 
 گرچہ چترال سے پی ٹی آئی نے کوئی سیٹ نہیں۔لی لیکن اس کے باوجود علاقے سے ان کی یہ والہانہ وابستگی لوگوں کے مسائل کا ادراک رکھنا متاثر کن ہے کہ پہاڑی  علاقوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ خان صاحب کی دو اندیشی اور ان کی ویژنری لیڈرشپ کا ہی کمال ہے جس  کو دیکھنے اور جاننے کے بعد میں ان کے وژن اور لیڈر شپ کا قائل ہو گئی ۔کوئی تفریق نہیں ہے کہ کس جگہ سے سیٹ ملی یا نہیں لیکن لوگوں کی فلاح و بہبود ضروری ہے اور میرٹ کی جہاں تک بات ہے ۔پہلے کسی کی سوچ میں۔بھی نہی ہوتی تھی کہ کوئی بغیر رشوت  کے مقابلے کے امتحانات  کے انٹرویو پاس کر سکے اب تو جوڈیشری میں ہمارے بھائی بیٹے صرف اپنی قابلیت پر جارہے ہیں اور کافی تعداد میں۔جا رہے ہیں۔
 سی ایس ایس  میں ایک۔بہت ہی دور افتادہ علاقے سے ہمارا ایک بچہ جسکا غالبا نام مجید ہے (اگر نام۔میں کوئی اونچ نیچ ہے تو معذرت) فارن سروس میں چلا گیا جو کہ اتنی خوبصورت اور بڑی بات ہے فارن سروس بہت ہی اعلی ذوق رکھنے والے بہت پڑھے لکھے لوگوں کی جگہ ہے  وہاں کی تک کا سوچ رکھنے والے بچے میرا خیال ہے کوئی اگلی لیول کے ہی ہوتے ہیں۔ جہاں بہترین دماغ صرف اپنی قابلیت پر پہنچتے ہیں اور اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اتنے دور پسماندہ علاقے کے بچے کا اسطرح اپنا لوہا منگوانا نہ صرف حیران کن  بلکہ قابل تحسین  بھی ہے  
 چپ چاپ اسمان کو چونا اور خاموشی سے اپنے مشن پر جانا کوئی اس بچے سے سیکھے نہ کسی اخبار نہ کسی سوشل میڈیا میں شوشے۔ نہ پسماندہ علاقے کا رونا رو کر سرخی بٹورنے کی کوشش۔
میں اس ذہین کمال کا  شوق رکھنے والے اور اپنے بل بوتے پر اس شوق کوعملی جامہ پہنانے والے ہمارے ڈپلومیٹ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہوں اور ان کی مزید کامیابی کے لیے دعا گو بھی ہوں۔  
 تو یہ سب تبدیلی نہیں تو کیا ہیں۔ یہ دروازے پہلے پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے بند تھے۔ 
اس کےعلاوہ ترقیاتی کام معاشی انڈیکیٹرس کی مثبت معیشت کی نشاندہی ملک  بہتری کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔
 پسماندہ علاقوں میں  سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے کام زور شور سے ہو رہے ہیں کچھ عرصہ پہلے گزرتے ہوئے میں نے۔پوچھا یہ کام کون کرایا رہا ہے تو کہا گیا وزیر زادہ صاحب۔ میں نے حیران۔ہو کر کہا اچھا وہ تو اقلیت کی مخصوص سیٹ پر آئے ہیں اس کے باوجود وہ اتنی دلچسپی اور محنت سےعلاقے کی ترقی اور مسائل کو حل کرا رہے ہیں یہ تو بہت اچھی بات ہے تو بتایا گیاکہ وہ جب ممبر نہیں بھی تھے تب بھی وہ  سوشل کام میں  بہت ایکٹیو اور لوگوں کے بہت کام آنے والے انسان رہے ہیں۔ اب ممبر بنے ہیں   تو پورے علاقے کے لیے کوشاں ہیں ۔جو کہ قابل تحسین ہے۔
بہرحال ہمیں اب باشعور زمہ دار قوم کی طرح رویہ رکھنے کی  ضرورت ہے وقت کے ساتھ تجربے کےساتھ انسان بہت کچھ سیکھتا ہے 
اور سیکھنے کے اس عمل سے سبق حاصل کرنے میں ہی نجات اور بہتری ہوتی ہے ہمیں پچاس پچاس سالہ پرانے کھوکھلے نعروں اور گھسے پھٹے موروثی بھیسا کسوں کے پیچھے جانے کی بجائے کاکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایا ہم نے دوبارہ یہ ملک کس کے حوالہ کرنا ہے۔
 یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک حکمران جو دوسرے ملک کی معیشت مظبوط کرنے کی فکر میں ہو وہ ہمارے ملک کا خیر خواہ ہو لیڈر  تو باہر سے پیسہ لا کر اپنا ملک مظبوط کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے یہ کیسے لیڈر ہیں خود اندازہ لگائے۔
لوگ ضرور مہنگائی کی پریشانی کا سوچتے ہیں  لیکن ساتھ ان حالات کو بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ کووڈ  کی وجہ سے دنیا کے مظبوط ممالک کی معیشت بیٹھ گئی امریکہ جیسا ملک نے ڈبلیو ایچ او کو فنڈ دینے سے انکار کیا صرف سعودی عرب نے ڈبلیو ایچ او کو فنڈ دیئے
 تو ان حالات سے بھی ہمیں چشم پوشی نہیں کرنا چاہیے ۔کہ اس قدرتی آفت نے پوری د نیا کو ایک طرح سے دبوچ لیا تھا جس کے ساتھ نمٹنا بہرحال آسان نہیں تھا پوری دنیا  اس وجہ سے مہنگائی کی لپیٹ میں آگئی۔
اگر اس کے باوجود بھی کوئی ملک ادھار رکھوال کر اپنی دولت دن دگنی رات چوکنی ترقی کروا کر  آلو ٹماٹر تیس روپے کروانے والوں کے پیچھے جانا چاہتا ہے تو انہیں ضرور اپنے نکتہ نظر پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تو پہلی فرصت میں اپنے اپنے گھروں برطانیہ اور دبئی جانا ہے اس ملک کے عوام کا سب کچھ یہ ملک ہے اس کو بے ایمان اور کرپٹ مافیا کے ہاتھوں دوبارہ  نہیں چڑھانا۔
اس ملک کا ہر ادارہ جہاں کرپشن کو  قانونی شکل دی گئی ہے جہاں ناانصافی ہے رشوت کے بغیر کوئی کام۔نہیں ہو رہا  یہ چالیس سال حکومت کرنے والوں کی شکلیں ہیں جن کو عمران خان نے اپنی سیاست داءو پر لگا کر بےنقاب کر دیا ۔جن کا تھوڑا بھی پالا اس سسٹم سے پڑا ہو ان کو بخوبی علم ہے کہ کہ اس سسٹم کو للکارنا بے ایمانی کرپشن پر آواز اٹھانا کتنا مشکل کام اور ایک جہد مسلسل ہے جسطرح تین سال کا مقابلہ چالیس سال سے کرایا جا رہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی اور بے وزن موازنہ ہے جس کو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.