حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت سعادت اور کردار

محمد آمین

جناب فاطمہ نبی اقدس ﷺ کی پیاری اور لاڈلی بیٹی تھی اور آپ ﷺ آپ کی اپ سے گہری محبت و عقیدت تھی۔ روایت میں اتا ہے کہ اپ کی عقد پیغمبر اسلام نے اللہ پاک کی منشاء سے جناب آمیروالمومنین علی ابن ابی طالب سے کردی۔ آپ کے بہت سے القاب ہیں جن میں زہرا ،بتول، معصومہ، طاہرہ، صدیقہ، محدثہ، ام الائمہ، زاکیہ اور سیدہ نساء عال میں قابل ذکر ہیں۔ آپ کی ولادت سعادت 20 جمادی ثانی 614ء کو مکہ میں ہوئی تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ جناب خدیجتہ الکبری تھی۔ آپ کی ساری زندگی اللہ پاک کی حمد و ثنا ،سخاوت اور ضرورت مندوں کی خدمت میں گزری۔ آپ پاکیزگی اور تقوی کی علمبردار تھی،آپ کی پاک ذات برکتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی تھی۔ حضورﷺ نے جناب فاطمہ سلام علیہا کے بارے میں فرمایا کہ فاطمہ جنت کے خواتیں کی سردار ہیں اور اپ کے دونوں شہزادے یعنی جناب حسنین کریمین کے حوالے سے فرمایا کہ یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مقدس ہستیوں کے عظمت کیا ہیں کیونکہ جناب آدم علیہ السلام سے لیکر قیامت تک جتنے بھی امتی جنت میں داخل ہونگے ان کے سردار یہی پاک ذات ہونگے۔

اللہ تعالیٰ نے جناب فاطمہ کو بہت سے فضائل و خصاءص سے نوازا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ جہاں تو ناراض ہوتا ہے وہاں اللہ بھی ناراض ہوتا ہے اور جہاں تو راضی ہوتی ہے وہاں اللہ بھی راضی ہوتا ہے
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس سے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ آپﷺ نے مذید فرمایا تھا کہ دنیا کے تمام انسانوں کی نسل ان کے بیٹوں سے چلتا ہے لیکن میرے نسل میرے بیٹی فاطمہ کے بیٹوں حسن اور حسین سے چلے گا۔

نبی ﷺ کو اپنی بیٹی سے اتنی محبت تھی کہ کہ جب فاطمہ اپنے ابا جان کے ہاں تشریف لاتے تو آپ (ص) اپ کی تعظیم میں کھڑے ہوتے اور جب کہیں آپ باہر تشریف لاتے تو سب سے اخر میں اپ سے ملاقات کرکے رخصت فرماجاتے اور واپسی پر سب سے پہلے اپ سے ملتے۔

آپ کی اولادجو سورہ کوثر کی عملی تفسیر ہیں۔ قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کے گھرانے کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے جو سب الفاظ اپس میں ہم معنی اور لفظ آہلبیت کے مترادف ہیں یعنی کہ آہل بیت، آل محمد، آل یاسین، عترت، ذریت رسول، آل کساء اور ذوالقربی شامل ہیں۔

اللہ پاک قرآن مجید میں نبی اقدس کے گھرانے کو تمام ناپاکیوں اور نجاستوں سے پاک رکھنے کا اعلان کیا اور ارشاد باری تعالی ہے اے اہل بیت رسول اللہ پاک تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی برائی اور نجس کو دور رکھے اور جیسے پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ویسا ہی پاک و پاکیزہ رکھیں۔ (سورہ احزاب آیت ۳۳) اللہ پاک نے قرآن حکیم میں اپنے محبوب کو مختلف القاب سے پکاراہے کہیں مدثر ،کہیں مزمل ،کہیں طحہٰ اور کہیں یسین کہہ کر پکارا ہے اور فرمایا ٓآل یاسین پر سلام ہو (سورہ صافات ایت ۰۳۱) عترت بھی اولاد کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ انحضرت کی عترت سے مرادوہ لوگ ہیں جن کی نسبت آپ (ص) کی طرف جاتی ہیں یعنی کہ سیدہ طاہرہ کے پاک نسل۔ صحابہ رسول ذید ابن ارقم سے روایت ہے کہ آپﷺ سے فرمایا میں تمہارے درمیاں دو بھاری چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری اہل بیت، ان سے تمسک رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ زریت بھی آولاد اور انے والے نسل کے لیئے استعما ل ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہےاور ابراہیم علیہ السلام کی زریت مین سے داود،سلیمان،ایوب،یوسف،موسی اور ہارون علیہ السلام ہیں ۔ اور اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں ،نیز زکریا، عیسیٰ اور الیاس جو سب کے سب صالیحین میں سے تھے (سورہ انعام ،84,85) صحابی رسول حضرت سعید ابو خدری نے حضورﷺ کی حدیث نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ خدا کا غضب اس شخص پر بھڑکتا ہے جو کہ مجھے میرے زریت کے بارے میں اذیت دیتا ہے۔

ہر ایک سبب اور نسب قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا مگر میرا سبب اور نسب باقی رہے گا اور ہر ایک ماں کے بیٹوں کے لیئے عصبہ باپ کی جانب ہوتا ہے ،بجز اولاد فاطمہ کی میں ان کا باپ اور عصبہ ہوں (المستدرک امام حاکم) نجران کے عیسائی سرور کونین سے تین دن تک بحث و مباحثہ کرتے رہے اور نبی اکرم کے دلائل قبول کرنے کے لیئے تیا ر نہیں تھے پس قرآن کی یہ ایت نازل ہوئی پھر اے محبوب جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے ت میں علم اچکا ہے تو تم ان سے فرمادو کہ اوٗ ہم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے،اپنی عورتین اور تمہاری عورتین ،اپنی جانین اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو مباہلہ کے دن حضور اس شان کے ساتھ نکلے کہ عورتوں کی جگہ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا، بیٹوں کی جگہ امام حسن اور امام حسین اور نفس کی جگہ جناب شیر خدا ساتھ تھے۔ ان نورانی چہروں کو دیکھ کر نجران کے عیسائی مباہلہ کرنے سے ڈر گئے۔ حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو انحضرت نے حضرت علی،فاطمہ اور حسنین کو بلا کر فرمایا اے پروردگار یہ میرے آہل بیت ہیں۔
ال نبی کو اہل عباء و کساء بھی کہتے ہیں۔ عباء عربی زبان میں چادر کو کہتے ہیں اور اس بارے میں یہ روایت مستند ہے کہ ایت تطہیر کے نزول سے قبل انحضرت (ص) ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے جس پر ہنڈیوں کے نقش سیاہ بالون سے بنے ہوئے تھے حسن ائے تو آپ نے ان کو بھی چادر میں لے لیا اس کے بعد حسین ائے اپ نے ان کو بھی چادر میں لے لیا اس کے بعد علی ائے اپ نے ان کو بھی چادر میں لے لیا اور اس کے بعد فاطمہ ائے اور ان کو بھی چادر میں لے لیا اور ایت تطہہرکی تلاوت فرمائی۔

قرآن پاک میں ذوالقربیٰ کے بارے میں حکم ہے اے رسول کہدیجیئے کہ میں تم سے رسالت کا اجر کچھ نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے قرابتداروں سے محبت کریں۔ (سورہ شورہ 23 ) اس پاک گھرانے کے لیئے درد شریف کا تحفہ اللہ پاک نے تا قیامت مسلمانوں کو عطا کیا ہے  اور اس کے بے شمار دنیاوی و روحانی فائدے ہیں، درود شریف میں انسانی دکھوں اور مصیبتوں کا علاج ہے۔ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود ارسال کریں اللہ تعالیٰ اس پردس رحمتیں نازل فرماتا ہے کوئی عبادات،کوئی عمل و مناجات درود شریف کے بغیر اللہ پاک کی درگاہ قابل قبول نہیں ہوتی بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی اکرم پر درود بھیجتے ہیں ،اے ایمان والو تم بھی ان پر خوب درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو اور ان کے فرمان پر سر تسلیم خم کرو (سورہ احزاب ۶۵) دورد شریف میں اللہ پاک نے نبی ﷺ کے گھرانے کو شامل کر کے ان کو بڑی فضلیت سے نوازا ہے اور امت کے لیئے یہ درس رکھی گئی ہے کہ رسول پاک اور ان کی پاک آل ایک دوسرے لے لیئے لازم و ملزم ہیں اور جس نے نبی کے ساتھ آل نبی کو شامل نہیں کیا اس نے نبی پر ظلم کیا اور جس نے نبی پر ظلم کیا وہ عذاب الہی کا مستوجب ٹھرا ۔ اپ ﷺنے فرمایا کہ مجھ پر دم بریدہ صلواۃنہ پڑھا کرو ،صحابہ کرام نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ وہ کس طرح ;238;اپ نے فرمایا کہ تم صرف الھم صلے علی محمد کہتے ہو اور آل محمد کو ترک کرتے ہو ۔ یہ صلواۃ دم کٹی ہے بلکہ یوں کہو الھم صلی علی محمد و علی ال محمد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ذات پاکیزگیوں اور فضیلتوں سے بھری ہوئی ہے۔ آپ کی ذندگی کا بیشتر حصہ نماز اور اللہ کی حمد و ثنا میں گزرتی تھی، کثرت سے روزہ رکھتی اور ہمہشہ قران پاک کی تلاوت میں مصروف ہوتی۔

صحابی رسول جناب سلمان فارسی سے روایت ہے کہ ایک دن اپنے جناب فاطمہ کو دیکھا کہ وہ چکی کے قریب بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کررہی تھی اور چکی خود بخود چل رہی تھی۔ جب سلمان فارسی نے یہ معجزہ نبی اقدس سے بیان کیا تو اپنے فرمایا کہ اللہ پاک نے جناب جبرائیل آمین کو اس کام کے لیئے بیھجا تھا ۔ ان جیسے ہستیون سے سے محبت ہمارے ایماں کا جز ہے اور دونوں جہانوں میں نجات کا زریعہ ہے اور قرآن کا بھی یہی حکم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *