مشروب پشاور

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

لکھی فقیرکا شربت شکن جبین پشاور کا ایسا تخفہ تھا جو1960ء کے عشرے میں گرمی کا واحد علاج تھا وہ زما نہ ایسا تھا جب رنگ رنگ کے مشروبات نہیں آئے تھے جگہ جگہ ڈیپ فریزر نہیں رکھے تھے 18اقسام کی ٹھنڈی جدید بو تلوں کے ساتھ کئی اقسام کی دو نمبر بو تلیں مارکیٹ کے اندر گردش نہیں کررہی تھیں بو تل کا نا م مشروب کے لئے استعمال بھی نہیں ہوتا تھا

اب یہ حال ہے کہ کوئی آپ کی تواضع کر نا چا ہے تو مشروب کا نام نہیں لیتا بلکہ یو ں کہتا ہے ’’آپ کے لئے بو تل لے آتا ہوں‘‘ یا زیا دہ بے تکلف ہو تو شاگرد کو پکارتا ہے ’’اوئے چھوٹے مہمان کے لئے بوتل لے آو‘‘ مجھے یا د ہے مئی 1971ء میں پہلی بار پشاور آیا تو لغل خا ن مجھے چوک یا د گار کی سیر پر لے گیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے آسا ما ئی گیٹ کے راستے اندر شہر میں داخل ہوئے چوک یاد گار پہنچنے کے بعدمو چی لڑہ اور گھنٹہ گھر کا چکر لگا یا واپسی پر ہم نے دوسرا راستہ اختیار کیا داہنے ہاتھ مڑ نے کے بعد ہمارے دائیں طرف لکھی فقیر کا سادہ بورڈ نظر آیا بورڈ کے سامنے سے گذر تے ہوئے لغل خان نے کہا پشاور کا مشہور شربت آپ کو پلاتا ہوں دروازے کے اندر داخل ہوئے تو کا فی وسیع جگہ تھی دیواروں پر آیا ت قرآنی اور احا دیث کے علا وہ اولیائے کرام کے اقوال ، علا مہ اقبال ،شیخ سعدی شیرازی اور دوسرے بزرگوں کے اشعار لکھے ہوئے تھے ایک بڑی تختی سامنے نظر آرہی تھی جس پر لکھا تھا ’’شربت شکن جبین‘‘ چند چھوٹی چھوٹی تختیاں تھی ایک تختی پر لکھا تھا ’’یہاں جناب والا کو پر چی دی جا ئیگی‘‘ ہم نے قطار میں کھڑے ہو کر پرچیاں لے لیں یہ ایک گلاس شربت کی پر چی تھی جو 25پیسے میں آتی تھی پر چی لینے کے بعد ہم دوسری قطار میں کھڑے ہو ئے اب ہمارے سامنے دوسری تختی تھی اُس پر لکھا تھا ’’یہاں جناب والا کی خد مت میں شربت شکنجبین پیش کی جائیگی‘‘ قطار میں کھڑے ہو کر ہم نے اوپر دیوار پردیکھا جلی حروف میں لکھا تھا

گنج بخش، فیض عالم، مظہر نو رخدا
نا قصاں را پیر کا مل، کا ملاں رار ہنما

تھوڑی انتظار کے بعد ہماری باری آئی تو بڑے گلا س میں شکنجبین کا شربت ہمارے ہاتھوں میں تھما دیا گیا شربت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہم نے سلو ر کے خوب صورت گلا س کو بار بار دیکھا اب ہمارے سامنے والی قطار ایک اور تحتی کی طرف آگے بڑھ رہی تھی تختی پر لکھا تھا ’’یہاں جناب والا کو کر سی پیش کی جا ئیگی، اس جگہ چھوٹی چھوٹی خو بصورت کر سیاں بھی رکھی تھیں بینج بھی رکھے تھے لغل خا ن خو د پینج پر بیٹھ گئے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اب شر بت شکنجبین کا ذائقہ چکھنے کی باری آئی تو ہم حیرت کی دنیا میں چلے گئے مئی کی گر می میں ایسا احساس ہوا کہ ہم سطح سمندر سے 960فٹ کی بلندی پر پہاڑی چشمے کے پا نی سے لطف اندوز ہورہے ہیں مگر پا نی کا ذائقہ ایسا ہے جو زندگی بھر ہم نے کبھی نہیں چکھا اور سچی بات یہ ہے کہ لکھی فقیر کے آستا نے کے سوا کہیں بھی یہ ذائقہ چکھنے کو نہیں ملتا یہاں کا ما حول ایسا تھا جیسے ائیر کنڈیشنز لگا ہو حالانکہ چھت کی بلندی سے معمو لی پنکھے ہوا دے رہے تھے شربت پینے کے بعد باہر نکلنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا مگر ہم نے بائیں طرف دیکھا تو ایک اور تختی نظر آئی جس پر لکھا تھا ’’یہاں آپ کی اگلی آمد کے انتظار کی جگہ ہے اب تک کے لئے ہم آپ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں‘‘ تختی کی عبارت نے ہ میں با ہر جا نے کا راستہ دکھایا، باہر نکل کر مسجد مہابت خا ن روڈ پر واپس جا تے ہوئے ہم نے شر بت شکنجین سے زیادہ آستانہ لکھی فقیر کے ماحول کا ذکر کیا اس ما حول کی روحانی کیفیت کا ذکر کیا لغل خان نے اپنے تجربے اور مشا ہدے کی بنیا د پر بتایا کہ یہ صرف شربت نہیں بلکہ دوا بھی ہے اس میں دوا سے زیا دہ دُعا کا اثر ہے لکھی فقیر ایک خدا رسید ہ بزرگ تھے انہوں نے یہاں شربت کی سبیل لگائی اور اس سبیل سے خلق خدا کو فیض پہنچتا ہے پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم نے عظمت بلڈنگ میں کمرہ لے لیا لکھی فقیر کا آستانہ ہمارے پڑوس میں تھا مجھ سے زیا دہ یوسف شہزاد کو پسند آیا اور ہم ہر روز مشروب پشاور سے لطف اندوز ہونے لگے پشاور کے مصروف کاروبار ی مرکز میں لکھی فقیر کا آستا نہ ہمارے لئے نعمت سے کم نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.