مسلک گوسفندی

مسلک گوسفندی

نوائے سُرود  

شہزادی کوثر

مسلمانوں کی شاندار روایات،اعلی اقدار، زبردست حکمت عملی اور اسلامی اصولوں کی پاسداری سے دنیا کے نقشے پر کتنی ہی عظیم سلطنتیں قائم ہوئیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مسلمانوں کی مختصر جماعت جو حضرت ارقم کے گھرمیں خفیہ طور پر دینی اور تبلیغی خدمات انجام دیا کرتی تھی اس نے ایک وقت میں دنیا کی بڑی طاقت بن کرقیصرو کسری کے ایوانوں میں زلزلہ طاری کر دیا۔ وہ لٹے پٹے مسلمان جو انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں کسے معلوم تھا کہ پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شعب ابی طالب میں محصور ہونے والے اپنے نور ایمانی سے باطل کے اندھیروں کو کیسے مٹائیں گے یہ کوئی نہیں جانتا تھا لیکن تھوڑے ہی عرصے میں زمانے نے دیکھ لیا کہ مدینے کی چھوٹی سے ریاست نے عظیم سلطنت کا روپ دھار لیا، غیر مسلموں کے علاقوں کو فتح کر کے وہاں کی عوام کا اسلام کی حقانیت کا تحفہ دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنی تیزی سے اسلام پھیلا اسکی وجہ کشت وخون اور نیزہ وتلوار نہیں تھی بلکہ اخلاق و کردار، عالی ہمتی  اور حوصلہ تھا جس نے مٹھی بھر مسلمانوں کو لاکھوں کے لشکر میں بدل دیا، لشکر بھی ایسا جو قلیل اسلحے کی باوجود اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کی ناقابل یقین ہمت رکھتا تھا۔ ان کے دلوں میں موجزن بہادری اور مزاج اسداللہی ابلیسی اور دجالی طاقتوں کوبھی اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ایمان ،سچائی اور انصاف کے اسلحے  سے لیس یہ فرزندان اسلام ہر محاذ پر باطل کی طاقتوں کے سامنے ڈٹ گئے کہ دشمن اپنی صفحوں کو چھوڑ کر اسلام کے سائے میں پناہ لینے کو اپنی خوش بختی سمجھنے لگے۔

جب تک مسلمان اپنے مذہب پر عمل پیرا رہے تب تک کامیابی ان کے قدموں میں نچھاور ہوتی رہی، لیکن یہی جب غفلت میں پڑ کر عمل سے محروم ہو گئے تو ان کی حیثیت گرد راہ سے زیا دہ نہ ہو سکی۔ اس عملی زوال کی وجہ وہ ابلیسی ہتھکندے ہیں جو مسلمانوں کو ان کے رستے سے ہٹا کر اپنا غلام بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ان کے کان میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ غیروں کی تقلید ہی تمہیں ترقی کی منزلوں سے آشنا کرے گی۔ مذہب راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو ترقی کی راہیں مسدود کرتا ہے، آگے بڑھنے اور دنیا کے مقابل آنے کے لیے مذہبی پابندیاں اٹھا لو۔اسلامی روایات ایسی نہیں کہ ان سے جڑے رہ کر کامییابی سمیٹی جائے ،روایت شکنی ہی ان بیڑیوں کو توڑ سکتی ہے۔۔۔۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں رہبانیت اور عجمی تصوف کے اثرات نے اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔وہ سب کچھ تقدیر پر چھوڑ کر بے عملی اختیار کیے بیٹھا ہے جس سے بے دلی اور غفلت کا شکار ہو گیا ہے۔  

اس حقیقت کو سمجنے سے قاصر ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا ۔ اپنا پورا دھیان جزا پہ تو لگاتا ہے لیکن عملا کچھ نہیں کرتا ،اگر جزا حاصل کرنی ہے تو پہلے عمل کرنا ہوگا ۔انیا بے وقعت چیز نہیں کی کہ انسان صرف اپنا وقت برباد کر کے یہاں سے روانہ ہو جائے، دنیا کو آخرت کی کھیتی کہا گیا ہے اور کھیتی خود رو نہیں ہوتی اس پر محنت سے کام کیا جاتا ہے تب کہیں جا کرفائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ اگر کھیت کو کاشت نہ کیا جائے تو اس میں گھاس اگتی ہے کھیتی نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ فصل بوئے بنا ہی اسے کاٹنے کا خواب دیکھیں ؟ دنیا میں آنے کو مقصد واضح ہے اس کے حصول کے لئے کڑی محنت کی ضرورت ہے جو بے دلی اور بے عملی سی حاصل نہیں ہوتی۔ اگر دنیا کی کوئی حیثیت نہیں تو اسے بنانے کا مقصد کیا تھا ؟ کیا آدم سے لے کر نبیﷺ کی بغثت اور قیامت تک لا متناہی عرصہ کار فضول ہے؟ کیا خلیفتہ اللہ کا منصب بے حقیقت ہے جو اس کے لیے دنیا آباد ہوئی؟  اگر دنیا کچھ نہین ہے تو اس پر غور کرنے کا حکم قرآن میں بار بار کیوں آیا؟ تسخیر کائنات کے احکامات کی کیوں  ضرورت پڑی؟  افسوس۔۔

 اپنی کج فہمی کی وجہ سے اپنے منصب اور ذمہ داریوں کا بھی علم نہیں اسے۔۔ یا ایسے بحث ومباحثے میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے جن کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا ۔یا دنیا ترک کر کے قوالی اور حق ہو کی صدا پر جھومتا ہے تو زندگی سوچ سے آگے بڑھ کر عمل میں نہیں ڈھلتی۔۔ آخرت سنوارنی ہے تو دنیا میں رہ کر ہے ممکن ہے ورنہ جنت کا خواب محض خواب ہی رہ جائے گا ۔قرآن صرف تلاوت کے لئے پڑھتے ہیں لیکن اس کی روح سے بیگانہ ہیں ۔حج و عمرہ کرتے ہیں لیکن تمام مسلمان ایک ہی  جگہ جمع ہو کر اجتماعیت کا رنگ خود میں پیدا نہین ہونے دیتے۔۔ اجتماعی مسائل کا حل اور ان کے بہبود کے لئے عملی اقدام اٹھانے کا حوصلہ کسی میں نہیں۔ مذہبی پیشوا قوم کی رہنمائی کی اہلیت نہین رکھتے، یہ جوہر ادراک سے عاری اور علم سے بیگانہ ہیں ۔ مسلمان اپنے سے کمتر اقوام کی غلامی کر رہا ہے، اس لئے دنیا کی کوئی قوم ان سے مرغوب نہیں۔ کہنے کو تو یہ زندہ ہے لیکن وہ صفات جو انسان کو حیوانات سے ممیز کرتی ہے یعنی فکر اور سوچ بچار ان میں نظر نہیں آتی۔ اس درک کی کمی کے باعث وہ ہر طرح سے غلامی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکمرانوں نے سیاسی طور پر انہیں غلام بنایا ہے، ملاوں نے ذہنی غلامی کے شکنجے میں انہیں کسا ہے اور پیروں نے روحانی اعتبار  سے ان کی گردن میں طوق ڈال رکھا ہے۔ اس سہ گانہ غلامی کے نتیجے میں مسلمان خلافت کے مرتبے سے گر کر حیوانات کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ اقبال کہتا ہے۔۔۔۔۔۔

آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے

کھویا گیا کس طرح تیرا جوہر ادراک

کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق

ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

تو ظاہر وباطن کی خلافت کا سزاوار

کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلام خس وخاشاک

مہر ومہ و انجم نہیں محکوم تیرے کیوں ؟

کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک

ان سب سوالوں کا جواب یہ ہے کہ مسلمان مسلک گوسفندی پرعمل پیرا ہو گئے ہیں۔ اس سے مراد ہر وہ نظریہ۔ فکر، یا فلسفہ جو ان انسان کی ہمت اور حوصلے کو کم کرکے اسے دوسروں کا دست نگر بنا دے وہ مسلک گوسفندی ہے۔۔۔