Senate committee discusses rising suicide cases in Chitral

آخری قدم سے واپسی

محبوب اعظم
شعبۂ انگریزی جامعۂ پشاور

جیسا کہ آپ سب کو پتہ هے کہ خودکشی ایک قابل علاج بیماری هے اور یہ اسلام میں حرام ہے لیکن پھر بھی ہمارے چترال میں آئے روز ایسے بہت واقعات هوتے ہیں جن کے بارے میں سن کر دل خون کے انسو روتا هے
ابھی تک بہت سے دانشوروں نے خود کشی، اس سے متعلق مسائل کے بارے میں، اس کے روک تھام کیلئے کوششں کی ہیں اور کر رہے ہیں۔ البته اس کا کوئی مثبت حل ابھی تک نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں
کیا خودکشی واقعی مسائل کا حل هے؟
اصل سوال یه ہے کہ کیا خودکشی کرنے سے مسائل حل ہوجاتے هیں یا اور بڑھ جاتے هیں؟
ویسے دنیا میں سب سے قیمتی چیز جان ہے اگر ہم اسے ہی ختم کریں تو حل کیسا ہوا۔ پہلے زمانے میں خواتیں میں یه عمل زیاده ہوتا تھا تو لوگ اس کو تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہونے والی ومل کہتے تھے جو که قابل غور تھا اور ہے لیکن اب یه عمل نوجوان نسل میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
میں بھی ایک نوجوان ہوں اور مسائل ہر کسی کی زندگی میں آتے ہیں اور انسان بے بس بھی ہوتا هے لیکن اس کا ہر گز یه مطلب نہیں که وه اپنی جان دینا ان مسائل کا حل سمجھے جس سے ایک جان چلی جاتی ہے اور بعد میں وہ خاندان کیسے مسائل اور پیچیدگیون کا شکار ہو جاتی ہے۔
نوجوانوں میں یه عمل کیوں زیاده ہے تو اس کی دو وجوہات ہیں:
تعلیم
شادی
کیا تعلیم کیوں خودکشی کی وجه بنتی هے۔ یه تو انسان کو جینا کا طریقه سکھاتی هے، ہاں بالکل تعلیم انسان کو جینا کا سلیقہ سکھاتی هے لیکن ہمارے معاشرے میں اس کو غلط سمت میں لے جایا جاتا هے۔ هم تعلیم کو صرف اور صرف روزگار کیلئے حاصل کرتے هیں کیونکه روزگار بھی ہمارا ایک اہم مسله ہے لیکن اتنا بھی نہیں که ہم اپنی جان دے دیں.
جب کوئی تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس سے لوگوں کو بہت سے امیدیں وابسطہ ہوتی ہیں کہ اس نے تعلیم کی اب یہ اور وہ کرے گی، یقیناً یہ امیدیں بھی ہونی چاہیں.
زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ہونا چاہیے لیکن اتنی بھی امیدیں وابستہ نہیں ہونے چاہیے کہ جو اپنا جان دے کر پورا کرنا هو
ایک اور اہم مسلہ جو ہمارے معاشرے میں درد سر بنا هوا هے جوکہ لڑکے سے زیادہ لڑکیوں میں ہے جوکہ من پسند کی شادی میں منسلک ہونا۔
شادی ایک رسم ہی نهیں بلکہ انسانی زندگی کی ایک اہم پہلو هے جس میں ایک مرد اور عورت ایک ازواجی رشتے میں منسلک ہو جاتے ہیں جو مرد اور عورت دونوں کیلئے ضروری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شادی خودکشی کی وجہ کیوں ہے۔
گوکہ شادی معاشرے میں قابل قبول اور ازواجی رشتے میں منسلک ہونے کا ایک جائز اور پسندیدہ عمل ہے۔ اب شادی کے بعد خود کشی ہونے کے بہت سے وجوهات ہیں۔ اس کا ایک وجہ جہالت بھی کہہ سکتے ہیں۔ جہالت اس لئے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکا تو اپنی مرضی سے کسی سے پسند کے رشتے میں منسلک ہو سکتا ہے لیکن لڑکیوں کیلئے زیاده تر یہ اپشن نہیں ہوتا۔
وه لڑکی کیا چاہتی ہے یا کس کے ساتھ ازواجی رشتے میں رہنا چاہتی ہے ایک اہم مدعا ہے۔ ہمارے علاقے بلکہ ملک میں گھر والوں کو جو اچھا لگے اور پسند ہو بعض دفعہ ایسا لگتا هے وه فیصلہ ان پر مسلط کیا جاتا ہے جو کہ بعد میں ان کیلئے مجبوری بن جاتی ہے۔
اب لڑکی گھر والوں کی ناراضگی یا غصے کی وجه سے شادی تو کرتی ہے لیکن شاید اس رشتے سے تھک جاتی ہے یا حالات سے مغیوب ہو جاتی ہے ، اور وه آخری قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی هے جوکہ خود کشی ہے۔
اگر ہمیں خود کشی کو روکنا ہے تو اپنے بچوں سے دوستانہ ماحول بنانا ہوگا اور برتاو کرنا هوگا۔ ان کے مسائل کو خود سننا ہوگا اور ان سے مل کر انکے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا تب ہم خود کشی پر کچھ حد تک قابو کر سکتے هیں۔