خودکشی کے معاشی عناصر

خودکشی کے معاشی عناصر

(زار خان حضور (ارکاری
ھماری صحت کے حوالے سے اور ھماری صحت کے سنبھل کے
حوالے سے ایک بہت ھی پرانہ دانشمندانہ  مشوارہ ھمین دیا جاتا ھے۔ 
احطیاط یعنی پرھز علاج سے بہتر ھے۔ 
یعنی اپ بیمار ھو جائین اس کے بعد علاج کروانے جائین۔ اس سے بہتر  یہ ھے کہ آپ اپنے زندگی اسیے گزارین کہ بیمار پڑنے کی نوبت ھی نہ آئین۔ آج کے دور مین ھمارے پاس تمام طبعی سہولتون بہترین ھسپیتال بہترین ڈاکٹرز اور بہترین دوائی ھونے کے باوجود یہ بات بالکل درست ھے کہ آج بھی یہ مشورہ بہت دانشمدانہ  کہ حفظاتی تدابیر جو ھے ولاج سے بہتر ھے۔ اور جب ھم صحت کی بات کرتے ھین تو صحت صرف جسمانی صحت نہین ھے ھماری روحانی صحت ھے ھماری زھنی صحت ھے ھماری سماجی صحت ھے اس لیے ھمارے زندگی کا معیار بہتر ھونی چائیے۔ اسک مطلب یہ نہین کہ ھمارے جسمانی زندگی کا معیار ھے زندگی کا مطلب صرف مادی زندگی کا معیار نہین ھے اپ روح کی زندگی کا معیار ھے جب عام طور پر جب ھم معیار زندگی کا زکر کرتے ھین تو ھم اس سے مراد ھمارا مکان ھماری گاڑیان ھماری آمدانی، بچے کہان پڑتے ھین وغیرہ وغیرہ   ھم اپنے معیار زندگی سے وھی مراد لیتے ھینکہ ایا ھم جسمانی طور پر پہلے سے کوئی بہتر زندگی گزار رھے ھین یا نہین گزار رھے ھین؟
آج کے زمانے مین دنیا مین ھر چالیس سکنڈ مین ایک ادمی خودکشی کررھا ھے اسی طرح تیس منٹ مین چالیس افراد خودکشی کررھے ھین۔ دنیا مین اج اتنا پیسہ ھےدنیا مین اتنی طاقت ھے انسان مانگتا ھے اجثر بہت سارے چیزین مل جاتی ھین۔ مگر اس جے باوجود کوئی نہ کوئی تو ضرور ھے کہ جس کی وجہ سے ھر چالیس سکنڈ مین ایک ادمی اپنی جان کے رھا ھے اس مین جوان ھین اس مین بوڑے ھین اس مین مرد ھین اس مین خواتین اس مین ان پڑھ اسمین پڑھے لیکھے لوگ ھین۔ کیا وجہ ھے کہ دنیا مین اتنے ھونے کے باوجود اور ایک دوسرے سے ھم اتنے زیادہ لھاظ سے بھی ایک دوسرے سے قریب ھین۔ اسکے باوجود یہ کیا وجہ ھے کہ اج انسان اتنا پریشان ھے کہ اس بڑی تعداد مین لوگ جو ھین خودکشی کر رھے ھین کیا وجہ ھے کہ بچے اس حالت مین داخل ھو جاتے ھین جن  کی وجہ وہ۔
ایسی چیزین سوچ رھے ھین جن جے بارے مین ھم کبھی خواب مین بھی نہین سوچے تھے تو اب اس کی جڑ مین جائین گے تو ایک دو چیزین بہت بنیادی ھین جن کے بارے مین بات کرین گے۔ 
جو چیز بنیادی ھین وہ یہ کہ بچون کی زندگی مین نوجوانون کی زندگی مین کیہین نہ کہین محبت کی کمی پائی جاتی ھے انھین ایسی کوئی پیاس ھے پیار اور محبت کی پیاسھے خاص طور پر اس جگے سے جہان ان کو محبت یا سنبھل ملنی چائیے تھی۔ وہ انھین نہین ملی۔ اور اس مین گھر کا ماحول بہت اھم ھے اپ سنتے ھین اخبارون مین پڑتھے ھین بچہ سکول مین نا کام ھوگیا امتحان مین فیل ھو گیا یا کم نمبر لے ایا۔ اور خودکشی کی۔ وجہ گھر جاکر تو باپ مجھے مار ڈال سکتااس سے اچھا کہ مین اپنے اپ کو مار ڈالون۔ گھر کے ماحول مین اتنا خوف ھے کہ بچہ امتحان مین کم نمبر لانے کے بعد گھر پر جانے کو تیار نہینکہ ادھر موت ھے مجھے مار ڈالین گے بہتر یہی ھے کہ مین خود اپنا کوئی رستہ تیار کر لون۔ تو ھمارے کیے ایک لمحہ فکر ھے کہ والدین کو خاندان بیٹھ کر اس کر بارے مین غور و فکر کر نے کی ضرورت ھے سوچنے کی ضرورت ھے۔
جیلون مین جرائم پیشہ لوگ موجود ھین اپ ان سے پوچھے جاکر سروے کرین ان سے باتین کرین اگر وہ اپنے زندگی اپ کے ساتھ شئر کرنے کو تیار ھین وہ اپنا تاریخ اپ کے ساتھ شئر کر نے کو تیار ھین تو اپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی بھی جرائم پیشہ لوگ اپنے ماں کے پیٹ سے جرئم پیشہ ھو کر نہین نکلتے ھین یہ منشیات کے عادی ماں کے پیٹ سے بن کر نہین نکلتے ھین۔ یہ حالت جے مارے ھوتے ھین اور یہ حالت کے مارے کیا ھوتے ھین یہ حالت نفرت کا راستہ کہان سے پیدا ھوتا ھے نفرت کا راستہ وھان سے ہیدا ھوتا ھے جہان محبت کا دروازہ بند ھوجاتا ھے۔ اور یہ لوگ سب یہی کہن گے  باپ سے پیار نہین ملا، ماں سے پیار نہین ملا۔ گھر مین جگھڑے ھوتے رھتے تھے گھر کا ماحول خراب تھا فیملی کا ماحول خراب تھا۔ محبت کے ھم بھوکے تھے۔ جب محبت کا راستہ بند ھو جاتا ھے تو انسان نفرت کا راستہ اختیار کرتا ھے۔ 
تو ھمارے کوشش یہ ھونی چائیے کہ ھمارے گھروں مین خاندانون مین والدین خاص طور پر اپنے بچون کے بارے مین ضرور دھیان رکھینکہ اپ کے بچون کو گھر مین محبت کا ماحول مہیا ھو رھا ھے بچون کو پیار دینا ھے بچون کو محبت دینی ھے بچون کو کبھی بھی اس بارے مین احساس نہین ھونا چائیے کہ ان کے ماں باپ کے پاس ان کے لیے وقت نہین ھے یا ان کے ماں باپ کے دلون مین ان کیلے پیار نہین ھے گھر کے ماحول کا اثر بچون پر اتنا زیادہ پڑتا ھے جس بچے کو گھر مین تنقید کا نشا نہ بناتے ھین وہ بچہ باھر لوگون کی تنقید کرتا ھے وہ دوسرون کی مزامت کرتا ھے کیونہ گھر مین سے وہ وھی سبق لے رھا ھے جس بچے کو گھر مین تعریف کیجاتی ھے جس بچے کو اس کی اچھی چیزون کی قدر کیجاتی ھے وہ بچہ باھر دوسرون کا شاباش کرنا سیھکتا ھے وہ دوسرون کی قدر کرنا سیکھتا ھے۔ جو بچہ گھر مین ماراماری دشمنی کے ماحول مین زندگی گزارتا رھا ھوتا ھے وہ بچہ باھر بھی لڑاکا ھوتا ھے وہ لڑائیان باھر کیکر جاتا ھے وہ دوسرون کے ساتھ بھی لڑتا رھتا ھے جو بچہ اپنے گھر مین برداشت کا ماحولدیکھتا ھے اپنے والدین اپنے بہین بھائیون مین برداشت کا ماحول دیکھتا ھے وہ بچہ سوسائیٹی مین بھی برداشت کا مظاھرہ کرتا ھے کیونکہ سب سے بڑی درسگاہ جو ھے وہ اپنی گھر ھے جس بچے جی گھر مین حوصلہ افزائی کیجاتی ھے وہ بچہ بڑا مطمعین ھوتا ھے پر اعتماد ھوتا ھے اگر بچے کو گھر مین باربار شرمندہ کیا جاتا ھے باربار ان کی غلطیون کی نشان دھی کیا جاتا ھے وہ بچہ احساس کمتری کے ساتھ وہ سوسائیٹی مین جاتا ھے جہان وہ اپنی شخصیات کے لیے کوئی جگہ نہین بنا سکتا ھے اسلیے بچون کو غیر مشروط محبت ماں باپ اور اولاد کا رشتہ بھائی بہنون کا رشتہ جو شوھر اور بیوی کا محبت کا رشتہ جو گھریلو رشتے ھین یہ انمول رشتے ھین ماں باپ ایسی جملہ بچون کے لیے استعمال کرنا چائیے۔ 
کتنا پیارا جملہ کہا گیا   ھمارے ھر ماں باپ کو یہ جملہ کہنا چائیے۔ کہ تم جیتو یا ھارو سنو ھمین تم سے پیار ھے ھمارے محبت تمھارے جیتنے سے مشروط نہین ھے تمھارے اچھے نمبر لانے سے مشروط نہین ھے تمھارے ساتھ میری محبت اسلیے ھے کہ تم ھماری اولاد ھو اپ اپنے بچون سے اسلیے محبت کرتے ھہین کہ وہ اپ کے ھیہن اپنا ھے پھر بھی اپنا۔ بھر کے گلے لگائین اچھا ھے یا برا ، اسے اپنا بنالین کیونکہ وہ اپنا ھے۔ تو یہ قدرت نے ایک معجزہ  دیا ھے ھم معجزہ معجزہ کرتے رھتے ھین اللہ پاک اپنے پاک کلام مین فرماتے ھین۔ 
ترجمعہ۔ تم اندھے ھو ، گونگے ھو، بہرے ھو، تمھین ھمارے معجزے نظر آتے نہین تم معجزے مانگتے رھتے ھو۔ ھمارے معجزے کے پر سے ایسے گزر جاتے ھو کہ تمھارے انکھین ھی نہین ھین تم اندھون کی طرح میرے معجزون پر گزر جاتے ھو۔  
اللہ پاک کے وہ معجزے ھم صبح شام جو زندگی گزار رھے ھین اس معجزے کی ھم کیا قدر کر رھے ھین۔ 
کائنات مین اللہ کی نشانیان وہ بھی اللہ پاک کی معجزات ھین۔ 
اللہ پاک اپنے کلام مین فرماتے ھین۔ 
ترجمعہ۔ یہ اس کی معجزات مین سے ایک معجزاھے۔ 
کہ اس نے تمھارے لئیے تم ھی مین سے تمھارا ایک جوڑا بنایاھے مرد کے وسطے عورت اور عورت کے وسطے مرد یعنی خاندان بنایاھے۔ تاکہ تم اس مین سکون حاصل کرو۔ 
اور تمھارے دلون مین محبت اور رحمت دی ھے۔ اللہ پاک نے ھر چیز کے جوڑے بنایا ھے۔ اللہ سے ڈرو جس بنے تمھین ایک نفس سے پیدا کیا ھے اسی مین سے تمھارے جوڑے بنائے ھین اسی مین سے تمھارے اولاد بنائے۔ یہ اللہ پاک کی معجزات ھین۔ اور معجزے کی قدر ھم کیسے کرتے ھین۔ ھم سے کہا جاتا ھے خاندان ، فیملی اللہ پاک کی معجزے ھین۔ ھم کہتے ھین ھمارے بیوی ھمین چھوڑ کر کہان جانا ھے میرے بچے مجھے چھوڑ کر کہان جانا ھے کس طرح ان کو سنبھا لتے ھین؟ کسی غیر ادمی سے ٹھوکر لگتی ھے تو تین دفعہ معافی منگتے ھین گھر والون کو ڈانٹ بھی دیتے ھین تب بھی معا فی نہین مانگتے ھین  کیا وہ زیادہ پیارا ھے جس کو ھم سوری بولتے ھین۔ اسے جو اپ کے گھر مین نہین رھتاھے کتنے لوگ ھین اپنے گھر مین اپنے لوگون کو سوری بولتے ھین؟ یہ بتاتا ھے کہ ھمین جو اصل قدردانی ھے وہ کیا ھے؟ تو قدرت نےھمین بڑا معزہ دیا ھے اس معجزے کے اندر جو سب سے بڑی چیز ھے اللہ پاک فرماتا ھے یہ میرا پیار ھے میری محبت ھے جو ھم نے والدین کو دی ھے جو اولاد مین دی ھے۔ 
اسلیے اس محبت کی رشتے کو مظبوط سے مظبوط تر کرین۔ اولاد اللہ پاک کی ایک بخشش ھے اللہ کی معجزہ ھے اس کی قدر کرین۔ بچون سے محبت کرین ایک بات یاد رکھنے کی ھے والدین بچون پر کھی ھاتھ نہین اٹھانا۔ بچون کو کبھی مارنا نہین۔ 
دنیا مین کوئی لاکر بتائینُ جو کہ مین مار کھاکر ٹھیک ھو گیا ھون۔ مین شریف ھون مجھے بہت مارا گیا۔ 
وہ مجرم بولے گا میرا باپ نے مجھے بہت مارا تھا۔ جب ماں باپ بچون پر ھاتھ اتھاتے ھین مارتے ھین تو اخر مین یہ بچہ اپنے اپ کو انسان کم حیوان زیادہ سمجھتا ھے جب بچون پر ھاتھ اٹھاتے ھین تو بچہ سوچتا ھے کہ مین چھوٹا ھون اپنا دیفا نہین کر سکتا ھون اپنا حفاظات نہین کر سکتا ھون دیکھتا ھون بعد مین دیکھتا ھون۔ اسلئےجوکام پیار محبت سے کر سکتے ھین وہ تشدد سے نہین کر سکتے ھین یہ چیزین بچون مین نفرتین پیدا کرتے ھین جسے انتہائی قدم اتھاتے ھین۔ ھوتا ھے بہت دفعہ اپ کو ایسا لگتا ھے کہ بچے اپ کے کنٹرول سے باھر ھے بچے کو قابو کرنا مشکل ھوگیا۔ تو اسکا حل مار پیٹ نہین اسکا حل محبت ھے اس سے بھی ایک بہتر حل ھمارے پاس ھے شاید ھی کوئی استعمال کرتا ھے بچے کے حق مین دعا  ئین مانگے۔ دعاؤن کی طاقت کا اندازہ ھے بچے کے حق مین دعا کرین کہ اے پروردگار اپنے رحمت سے میرے اس بچے کو سنبھالین اس مین محبت ڈال اس مین پیار ڈال اس مین سمجھ ڈال۔ وہ  خلق وہ قادر جس نے اس کو بنایا اس کو معلوم ھے اس کو کیسا قابو کرنا ھے تو اللہ کی بڑی بخشش ھے اللہ کی بڑی نعمت ھے۔ اسیلے کہتے ھین بچون کی شخصیت مجروع ھو جاتی ھے کہ جب اپ بچے پر تشدد کرتے ھین اس تشدد سے اج تک کوئی بچہ سدھرا نہین ھے راہ راست پر نہین ایا ھے محبت کا رستہ اپنائیے وہ بہترین رستہ ھے انسان کو غصہ اتا ھے غصے پر قابو رکھیے۔ کہتے ھین اکیلے مین ھے تو اپنے خیالات پو قابو رکھیے لوگون مین ھے تو اپنے زبان پر قابو رکھیے۔ زبان سے جو بات نکل گئی تو واپس نہین اتی۔ غصے کے عالم مین اسٹریس کی حالت مین ماں باپ بچون پر تشدد ڈالتے ھین بعد مین پچتاتے ھین بعد مین جاکر بچون سے پیار بھی کرتے ھین تو یہ نوبت کیون انے دیتے ھین ھم اپنے بچون کو کیا بنانا چاھتے ھین مستقبل مین۔ اس بات کا دھیان رکھیے کہ خدا اس کو کیا بنانا چاھتا ھے نہ یہ کہ اپ اس کو کیا بنانا چاھتے ھین اللہ  نے اسے کس کام کے وسطے بنایا ھے اپنے بچون کو دوسرون کے بچون کے ساتھ موازینہ نہ کرین۔ اس طرح ھم اپنے بچون مین احساس کمتری پیدا کرتے ھین بار بار بچون کو بولتے ھین کہ وہ کتنا اچھا ھے وہ کتنا اچھا نمبر لایا وہ کتنا قابل ھے بیٹا اپ پیچے رھنے والا وغیرہ۔  ھم کیون موازینہ کرتے ھین خدا نے ھمین اولاد دیا ھے موازینہ کے واسطے نہین دیا۔ اللہ پاک فرماتا ھے
کہ اپ ھر ایک اپنے جگے منفرد ھو۔ 
پر ان کی انفردیات کو اگے بڑھانے کی کوشش کرین بجائے ھم چاھئے کہ ھمارا بچہ کس اور کے بچے کی طرح بنے۔ اپنے بچون کو وھی بننے دین جو وہ بننا چاھتے ھین یاد رکھین ھر ایک کا امتحان یکسان نہین ھو سکتاھے اکثر ماں باپ سوچتے ھین کہ میرے بچے فلان کے بچے کی طرح ھو پلیس اپنے بچون کو وھی بننے دین جو وہ بننا چاھتا ھے یاد رکھین ھر ایک کا امتحان یکسان نہین ھو سکتاھے مثال کے طور پر مچھلی سے کہین گے کہ اپ کا امتحان پرندے کے ساتھ ھوگا۔ پرندے کے ساتھ مچھلی کا امتحان لین گے کیا مچھلی پاس ھوگی  کہنگے ان کو اڑنا نہین اتا۔ دیکھین مچھلی اڑنے کے وسطے پیدا نہین ھوا مچھلی پانی مین تیرنے کے واطے ھے اپ کہین گے یہ پرندہ بھی کسی کام کا نہین یہ تو اپر اڑتا ھے کیا پرندہ بیکار ھے؟ اس لیے ھر بچے کا امتحان اس بچے سے لین گے جس کیلے وہ بنایا گیا ھے تو ھم بہت زیادہ جو سوسائیٹی مین لوگون مین دیکھنے کا رحجان اور بہاؤ چل رھا ھوتا ھے اس بہاؤ پر ھم چل رھے ھوتے ھین۔ 
اللہ نے ھر ایک کو منفرد بنایا ھے اس کی ھم قدر کرنی چائیے اور گھر کا ماحول ایسا رکھین کہ جہان اپ کی اولاد ان کی کوئی بھی مشکل سے مشکل مسلہ ان کو درپیش ھو کھل کر اپ کے ساتھ بات کر سکین ڈرے  نہین ماں باپ اور اولاد کا رشتہ کوئی دروغہ چور کا رشتہ نہین ھونا چائیے ماں باپ اور اولاد کا رشتہ دوستون کو رشتہ ھونا چائیے دوست بہت سی چیزین کسی اور سے شئر نہین کرتے ھین دوست اپس مین شئر کرتے ھین اپ کی بیٹی اور بیٹون کے ساتھ اپ کا تعلقات ایسا ھونا چائیے وہ پیار اور دوستی والا رشتہ ھونا چائیے۔ اسلیے ماں باپ بچون کے ساتھ معیاری وقت گزارنے کی ضرورت ھے جب گھر مین فیملی کے ساتھ بچون کے ساتھ بیٹھو تو موبائل ٹی وی تھوڑی دیر کیلئے بند کیجے فیملی کے ساتھ بٹھتے ھین لیکن اپنے اپنے موبائلون پر لگے رھتے ھین اس وجہ سے بھی بچون پر برا اثر پڑتا ھے اپ کے موبائل مین ھزارون لوگون کے نمبرز ھین اپ سب کو مسیچ بیجھدیتے ھین حقیقت مین اپ کتنے لوگون کے ساتھ وقعی جوڑے ھوئے ھین اجکل ماں باپ اور فیملی بھی جوڑے ھوئے نہین ھین۔ اپ ھزارون لوگون کو مسیچ بیجھد یتے ھین وہ رشتہ جو خدا نے قربت کا بنایا ھے وہ کیدھر ھے یہ ٹینکنالوجی ھم کو ایک دوسرے سے دور نہ کر ے تو جب ھم فیملی کے ساتھ ھوتے ھین تو ان چیزون کو بند رکھینا اور معیاری وقت جو بچون کے وسطے ھے وہ وقت جو اپ کے شوھر  اور بیوی کئلیے اور بیٹی اور اپ کے بیٹے کیلئے ھے وہ پورا وقت اپ ان کو دیجئے کیونکہ وھی سب سے بڑی قیمتی چیز ھماری زندگی ھے جو ھمارے سوشیل لائف کو فیملی لائیف کو طاقتوار بناتی ھے اور گھر کا ماحول طاقتوار اور تندرست ھو شاید ھی اس گھر سے کوئی بچہ یا کوئی بچی کوئی ایسی انتہائی قدم اٹھاتی ھے اسلئیے میری تما م والدین ، اساتذہ ، اور خاص کر علمآ کرم سے گزارش ھےکہ اس مین اپنا کردار ادا کرین تاکہ مستقبل مین ایسی وقعات نہ ھو۔ 
دعا ھے اے پروردگار ھم سب کو اپنے پناہ مین رکھین ھمارے خاندانون مین اتحاد اور اتفاق بر قرار رکھیین اور ھمارے بچون کو سیدے راستے پر چلنے کی تفیق عطا فرمائین۔ آیمن 
 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *