Markhor trophy hunting permits suffer markdowns

چترال کی جنگلی حیات کا تحفظ کیسے ممکن ہے

پروفیسر رحمت کریم بیگ

ریاستی دور کے بعد وائلڈ لاءف کا محکمہ قائم کیا گیا اور کافی تعداد میں سٹاف مقرر کئے گئے جس سے نوجوانوں کو روزگار ملا۔ ان کے ابتدائی تربیت کے بعد کئی وادیوں کی جنگلی حیات کی دیکھ بال کا فریضہ سونپا گیا اور کام بڑی حد تک کامیاب رہا مگر چور شکاری ہمیشہ سے چترال میں موجود رہاہے اس چور گروہ نے بھی اپنی چالیں چلنا شروع کی اور یہ ایک مافیا بن گیا جو وائلڈ لاءف واچرز کے لئے ایک مستقل درد سر بنا چلا آرہا ہے پچھلے سال بھی تورکہو میں ان واچروں کی فرضشناسی سے چور شکاریوں سے شکار کا گوشت پکڑا گیا بلکہ ان کے گھروں کی ا لماریوں ے بھی نکالا گیا جو واچروں کی ایک بڑی کامیابی اور ان کی اپنی ڈیوٹی سے لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے چوروں کو جرمانہ بھی کیا گیا مگر یہ جرمانہ ان کے جرم کے مقابلے میں بہت کم ہے اس سلسلے میں کچھ تجاویز بحث کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ محکمہ جنگلات اپنے رولز میں وقت کے اور حالات کے ساتھ مناسب ترمیمات کرے اور بدلتے وقت کے تقاضوں کو خوب سمجھ کر ان کے لئے قوانین بنائے اس سلسلے میں میری ذاتی رائے میں 

 چور شکاری کو رنگے ہاتھ پکڑے جانے کی صورت میں اتنی جرمانہ کی جائے جتنا ایک بڑے ٹرافی ہنٹنگ سائز کے آئیبکس کے لئے سرکاری طور پر مقرر ہے یعنی کئی لاکھ کی رقم ۔ اور ساتھ ہی اس کو کم از کم چھ ماہ قید کی سزا بھی دیجائے۔

  چور شکاری سے اس کی پکڑی گئی بندوق ہی ضبط کی جائے، متبادل ناکارہ راءفل قبول نہ کی جائے۔

 پکڑنے والے واچروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اس جرمانے کا کچھ حصہ بطور انعام بمعہ سرٹیفیکیٹ عطا کی جائے۔

 واچروں کی سالانہ تربیت کا انتظام کیا جائے

 واچروں کو جدید مواصلاتی اور دیگر سائنسی آلات بھی فراہم کی جائیں

وائلد لاءف کا محکمہ سال میں تمام بہترین خدمات انجام دینے والوں کی خدمات کے اعتراف کے لئے ایک تقریب منعقد کرے جس میں محکمہ کا وزیر بہ نفس نفیس تشریف لائے۔

۔ خوش قسمتی سے چترال کے محکمہ وائلڈ لاءف کو اب ایک تجربہ کار، مقامی اور فرض شناس افسر کے ہاتھ میں دیا گیا ہے اس سے توقع رکھی جانی چاہئے کہ وہ چترال کے تمام وادیوں کا دورہ کرے اور بنیادی معلومات جمع کرے جس میں تمام چور شکاریوں کے نام بھی محکمہ ہذا کے پاس موجود ہوں تاکہ ان پر مسلسل کڑی نگاہ رکھی جاسکے۔

۷  واچروں کی موجودہ تعداد میں کافی حد تک اضافہ کیا جانا چاہئے کہ چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا علا اقہ ہے اور بلند پہاڑوں کی وجہ سے مقا امی واچروں کے لئے بیشمار مشکلات موجود ہیں اس لئے زیدہ تعداد میں واچر بھرتی کرنے کی ضرورت ہے اس طرح یہ پہاڑی علاقہ اچھی طرح کنٹرول ہوسکے۔ ہ میں کسی واچر یا رینج آفیسر کی کار کردگی پر بالکل شک نہیں ہے مگر ان کی تعداد کی کمی انکی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *