روڈ ہمارا حق - پاک چین راہداری، قاشقار سے کاشغرتک

چترال تورکھو-تاجکستان روڈ

عنایت جلیل قاضی
چترال 14850 مربع کلو میٹر تک پھیلا ہوا رقبے کے لحاظ سے خیبر پختونخواہ کا پچھلے سال تک سب سے بڑا ضلع تھا جو اب دو اضلاع میں بٹ چکا ہے۔ تین ممالک کی سرحدوں کو چھونے کی وجہ دفاعی اور اقتصادی لحاظ سے یہ علاقہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ آبی ذخائر، جنگلی حیات اور قیمتی معدنیات قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں۔ دلکش نظاروں، منفرد ثقافت اور مثالی امن کی وجہ سے یہاں سیاحت کے مواقع بے شمار ہیں لیکن رسائی نہ ہونے کی وجہ سے آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے یہ عطیاتِ خداوندی ضائع ہو رہی ہیں اور ہم کفران نعمت کے مرتکب ہوتے جارہے ہیں ۔کاش کہ ہم ان پوشیدہ ذخائر سے فائدہ ا ٹھاسکتے
گذشتہ کئی مہینوں سے چترال میں” روڈ ہمارا حق” کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے لیکن مفاد پرست سیاسی عناصر اور ٹال مٹول کرنے والی بیوروکریسی، حیلے بہانے اور کاہل پن سے اس آواز کو صدا بہ صحرا بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے لیکن یہ آواز اب دبنے والی نہیں ہے۔ اسی پس منظر میں یہ کالم مستقبل میں کسی منصوبہ سازی میں مددگار ہوسکتا ہے اس لیے اس کالم میں ہم مقامی تاریخ اور جدید ساینس سے چند ثبوت پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہم اپنا دعویٰ دلیلوں سے ثابت کرسکیں۔
واشچ تورکہو کا ایک تاریخی گاوں ہے۔ دریائے تورکہو کے بائیں جانب واقع یہ گاوں ندی، نالوں، خوبصورت چشموں، خوش ذائقہ پھلوں، معطر پھولوں، جنگلی حیات اور شکار گاہوں کی وجہ سے پورے چترال میں مشہور ہے۔

واشچ کی بالائی چراگاہ “ویزمچ” مشہور شکارگاہ زیوارگول کے اندر بے حد حسین میدانی علاقہ ہے۔ اس وادی کے اندر ایک گرم چشمہ (آب شفاٰ)، گنگناتی ندیاں، پھوٹتے اُبلتے چشمے، برف سے ڈھکےسفید پوش پہاڑ، ہرن ہرنیاں، برفانی چیتے، تیتر، چکور اور موسمی فاختے قدرت کی فیاضی کی نشانیاں ہیں۔ جولائی کے مہینے جب جنگلی نرگس کھِلتی ہے تو پوری وادی معطر ہوجاتی ہے۔شاید ان خوبصورت مناظر کی وجہ سے پریوں کی شہزادیوں میں سے ایک یہاں ر ہتی ہے جس کا محل ویزمچ جاتے ہوئے، بول بوہتو ٹیک کے بالکل سامنے، پہاڑ کے ٹاپ پر، سرخی مائل غار کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اس وادی کے آخری حصے میں گلیشئیر سے دریائے تورکہو کے بننے کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہےاور قدرتی مناظر کی شیدائیوں کے لئے انتہائی پرکشش مقام ہے۔
کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں ایک بڑھیا، گاوں کے مال مویشیوں کے ساتھ موسم گرما میں یہاں رہا کرتی تھی۔ مال مویشیوں کی دیکھ بال ، ان کے دودھ سے بنی چیزیں ، گوشت اورکھال، مالکوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ، واخان ۔تاجکستان سے آنے والے حملہ اوروں کے بارے میں اطلاع دینا بھی ان کی زمہ دای تھی۔ ان زمہ داریوں کو نبھانے کے لئے ان کے پاس ایک کتا “گرائے” اور گدھا شخائے ہوا کرتے تھے۔ گدھا، جس جگہ گر کر مرا ہے اس جگہے کا نام “شخائے بوغدو” یعنی(شخائے کی جائے مرگ) اب بھی موجود ہے۔ گرائے کا کام چوکیداری، اطلاع رسانی اور شخائے کا کام بار برداری تھا۔ ایک دن بڑھیا اپنی جھونپڑی میں کسی کام میں مصروف تھی کہ اچانک شور شرابہ ہوا۔ بڑھیانے دیکھاکہ تاجک اور واخی حملہ اور ان کی جھونپڑی تک پہنچ چکے ہیں۔ بڑھیا، بڑی ہوشیاری سے ان کی خاطر مدارت کرکے تھکے ہوئے حملہ اوروں کو سلاکر، گراے کومخصوص نشان کے ساتھ اطلاع دینے کے لئے گاوں کی طرف دوڑادیتی ہے، پھر دودھ سے  کٹھی بنا کر ان کی بندوقوں کی نالیوں اور تلواروں کےنیاموں میں ڈالکر سب کو منجمد کرکے ناکارہ بنا دیتی ہے۔ گاوں والے اطلاع پاتے ہی ویز مچ غاری کی طرف چل پڑتے ہیں۔ صبح سویرے، بول بوہتو ٹیک پہنچ کر پوزیشن سنبھال لیتے ہیں، تھوڑی دیر بعد بیرونی حملہ اور بھی اس مقام پرپہنچ جاتے ہیں۔ تاک میں بیٹھے، گاوں والے، ان پر اچانک حملہ کردیتے ہیں۔ چونکہ بڑھیا، تمام ہتھیار پہلے ہی منجمد کر چکی تھی، سوائے دو آدمیوں کے تمام حملہ اور مارے جاتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں میں ایک کی ناک اور دوسرے کا کان کاٹ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ نشان عبرت بن کر اپنے علاقوں میں واپس جائیں اور دوبارہ یہاں آنے کی غلطی نہ کریں۔ مرنےوالوں کی بیسیوں قبریں آج بھی بول بوہتو ٹیک میں، اس معرکے کی یاد دلانے کے لئے موجود ہیں۔ یہ مقام تحقیق کرنے والوں کے لئے ایک دلچسپ سائٹ ہو سکتا ہے

واشچ میں کچھ مخصوص مقامات کو “باغیریا بار لکھینی” کہا جاتا ہے۔ لوک روایات کے مطابق قدیم زمانے میں واخی اور تاجک جب حملہ کرتے تھے تواس علاقے کے لوگ اپنے سازو سامان کے ساتھ، ان مقامات پر پناہ لیتے تھے۔ میرے گاوں کے ساتھ ہی پنجیان ٹیک میں یہ گھاٹی موجود ہے۔
تاریخ سے ایک اور ثبوت یہاں کے پولو گراونڈز اور ان سے جُڑی کہانیاں ہیں ۔برت خان اور مرت خان اس علاقے کے مکین تھے۔ مرت کا شوتار اور برت کے گھوڑے کی قبر، اب بھی ان کے ناموں موسوم،تاریخی ثبوت ہیں ۔مرت اور برت پولو کے مشہور کھلاڑی تھے ۔ دونوں پولو کھیلنے موڑکہو کے علاقے مژگول یا واخان جایا کرتے تھے یا اُن جگہوں سے کھلاڑی زیوار گول آیا کرتے تھے۔
ایک اور ثبوت واخان سرحد سے متصل ایک قدیم گاوں “گرام” کے نام سے ہے۔ اس علاقے میں “خاش بدخشان” سے آئے ہوئے لوگ آباد تھے۔ بعد میں شدید برفباری کی وجہ سے ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے اور زندہ بچ جانے والے،دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ لوگ پورے چترال میں مختلف مقامات کے علاوہ سوات کالام میں بھی آباد ہیں۔
واشچ اور سوروھت کے ما بین شاہ گرام کے سامنے ایک وسیع میدان تاژیان لشت یعنی تاجک لوگوں کا پڑاو کہلاتا ہے۔ یاد رہے وادی ِ چترال میں تاجک اور فارسی نژاد افغانیوں کو تاژی اور پشتو بولنے والوں کو اڑغانی کہا جاتا ہے۔ یہ واخی اور تاجک لوگ تاجر، مہاجر یا حملہ آورکی صورت میں زیوار گول واشچ ،موغولنگ ریچ اورروش گول تیرچ سے ہوکر آیاکرتے تھے اور اِس مقام پر پڑاو ڈالتے تھے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ا س مقام پر اُن کے ساتھ کوئی بڑی جنگ ہوئی ہو اور اسی مناسبت سے اس مقام کا نام تاژیان لشت پڑگیا ہو۔
ایک اور اہم ثبوت اِس علاقے میں موجود قدیم مقاماتِ اطلاع رسانی ہیں جن کو مقامی زبان میں “پھوم براش” کہا جاتا ہے ۔ قدیم زمانے میں جب واخان اور تاجکستان سے حملہ اور آتے تھے تو مقامی لوگ ان اونچے مقامات پر آگ لگایاکرتےتھے۔ اسی طرح ایک گھنٹے کے اندر اندر دشمن کی نقل حمل کی خبر مرکز میں مہتر چترال تک پہنچ جاتی تھی۔ واشچ کے بالکل سامنے پھوم براش موجود ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ تاجک اور واخی جنگجو یہاں آتے رہے ہیں۔ یہ لوگ گھوڑوں اور خچروں پر سواری کرکے آتے جاتے ہوں گے ۔گھوڑے اور خچر اُ ڑ نہیں سکتے ،تنگ راستوں پر چل نہیں سکتے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوئی اچھا خاصہ راستہ موجود تھا، جس کو اب ڈھونڈ کر چترال – تاجکستان روڈ بنایا جاسکتا ہے۔
3 اکتوبر 1987 کو دو روسی ساختہ ہیلی کاپٹر زیوار گول کے اندر “مرتو شوتار” میں اتر گئے۔ 4 اکتوبر کو، عملے کے 6 ارکان گرفتار ہونے کے بعداس علاقے کے ایکگھر میں ایک رات کے لئے مہمان ٹھہرے ۔ عملے کی گرفتاری تک سارا دن روسی جہاز آتے جاتے رہے اور ان کے زیوار گول سے تاجکستان کا سفر زیادہ سے زیادہ پانج سے سات منٹ کا ہوتا تھا ۔ رات کو اچانک عملے کے ایک رکن نےمزبان سے چترال- واخان کے درمیان کسی درّے کا زکر کیا لیکن میزبان لاعلم تھا۔ شایدروسی اس علاقے میں کسی درے کے بارے میں جانتے تھے۔
ان تاریخی شواہد کے بعد اب ہم کچھ سائینسی بنیادوں پر اس منصوبے کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے بحث کریں گے۔ چند منٹ کے لئے گوگل ارتھ کھولیئے اور زیوار گول تک کرسر لے جائیے اور یہاں سے واخان تک گوگل کریں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ واشچ سے واخان تک کا کل فاصلہ کوئی 53 کلو میٹر کے لگ بھگ بنتا ہے اور خاص چترال سے واخان تک فاصلہ 230 کلو میٹر ہے۔ واشچ سے واخان تک 53 کلومیٹر میں سے 26 کلو میٹر دشوار گزار اور 27 کلو میٹر میدانی علاقہ ہے دشوار گزار علاقے میں 18 کلو میٹر سڑک اور 9 کلو میٹر ٹنل بنایا جاسکتا ہے۔ دو جگہوں پر برفانی تودوں کا خطرہ ہے جن کو ٹنل بنا کر دور کیا جا سکتا ہے۔اِسی طرح بڑی اسانی سے واشچ کو واخان کے گاوں یامت، خاندود یا پگش سے ملایا جا سکتا ہے ۔ہماری طرف علاقہ میدانی ہے خاص کر چترال سے واشچ تک پکی سڑک کی منظوری ہوچکی ہے اور اس پہ کام جاری ہے ۔ یہاں سے براستہ ڈوکشار، ویزمچ، گرام سے ہوتے ہوئے زیوار زوم تک پہنچا جا سکتا ہے جس کے پیچھے ایک قدیم گزرگاہ،جس کا نام “ووخیکان پون” یعنی واخی لوگوں کا راستہ موجود ہے۔ آپ گوگل پہ یہ راستہ دیکھ سکتے ہیں ۔ تورکہو سے واخان تک دوسرا راستہ اوشنو گول سے ہے۔ یہ راستہ بھی آگے چل کر زیوار گول سے جا ملتا ہے۔ تیسرا راستہ شاہ جنالی، موغولونگ علاقہ ریچ تورکہو سے ہے۔ یہ راستہ قدیم ُالآیام سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ایک راستہ یارخون بروغل سے واخان تک جاتا ہے ۔ لیکن اس کا فاصلہ بہت زیادہ ہے اور شدید برفباری کی وجہ سال میں چھ مہینے بند رہتا ہے۔ لونکوہ گول اور روش گول تیرچ اور بدخشان کے درمیان بھی ایک درّہ موجود ہے۔ روش گول تیرچ سے بھی تاجک اور واخی لوگوں کی آنے جانے کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ان تمام تقابلی جائزوں سے زیوار گول واخان روڈ زیادہ اہم، مختصر اور آل سیزن راستہ معلوم ہوتا ہے۔
بونی ۔ تورکھو۔تاجکستان روڈ سے اپر اور لوور چترال، دونوں کو فایدہ ہو گا چترال۔تورکہوتا۔جکستان روڈ سے اپر چترال کے قدرتی وسائل تک رسائی ممکن ہوگی۔ بالائی چترال کی کئی حسین وادیاں اب تک بیرونی دنیا کی نظرون سے اوجھل ہیں ۔ یہ روڈ بننے کی صورت میں ان علاقوں میں سیاحت کو فروغ ملےگا۔ جس سے علاقے میں خوشحالی آئےگی۔ اس روڈ کے بننے کی صورت میں علاقے کے آبی ذخائر سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اور توانائی کے سستے زرائع آسانی سے دستیاب ہوں گے ۔ اس روڈ کے بننے سے چترال بالا میں موجود معدنی ذخائر تک رسائی ہوگی اور پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔

3 Replies to “چترال تورکھو-تاجکستان روڈ”

  1. Very informative post. The writer did his best to cover the historical aspects as well. Actually this route is too much important for the business point of view. As we will get a secure route to Tajikistan, Kerghistan, qazaqistan and Uzbekistan. Currently Afghanistan is used but that is unsure. So it will increase our exports. And it will boost the economy of locality as well.

  2. Es project ka sb sy bra issue ye hy k es roads sy Chitral ar mulhiqa elaqo k logo ka Emaan Khatry me pr jaya ga, because present day central Asians are cherishing more freedom and rich . Means fahashi behayai phely ge

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *