لوٹ اویر قتل کیس، اللہ کرے میرا اندازہ غلط ہو

سید اولاد الدین شاہلوٹ اویر قتل کیس، اللہ کرے میرا اندازہ غلط ہو
چترال میں قتل کے واقعات بہت کم ہی ہوتے ہیں لیکن اویر کے لحاظ سے دیکھا جائے۔ یہ کوئی نیا کیس نہیں ہے۔ نامعلوم افراد کے ہاتھوں لوگ قتل ہوتے رہتے ہیں، اور بعد میں پتہ چل بھی جائے اور پکڑے بھی جائے تو چھوٹ جاتے ہیں۔  میں پُر امید تھا، کہ اس کیس میں شائد انصاف ہوگا۔ لیکن حالات دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہوں۔ یہ کیس بھی پہلے کی طرح دب جائے گا۔ اور ہم کسی اور ایسے واقعے میں روتے اور انصاف مانگتے ہوئے نظر آئینگے۔ اور سیاسی مخلوق کا پلڑا بھاری ہی ہوگا۔ سنا ہے کیس کو بونی منتقل کیا گیا ہے۔ ویسا اطلاعات کے مطابق پولیس کا رویہ ملزموں کے ساتھ پولیسانہ نہیں یا رانہ تھا۔ قتل کے بعد اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہنچا اور تو یہ جاننے کی زخمت نہیں کی کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ اور کہاں اں کو مار دیا ہوگا۔ خون کے نشانات کہیں ملیں گے بھی کہ نہیں؟ گھر کو سیل نہیں کیا گیا جو چاہے ملزمان سے مل سکتا تھا۔ پولیس کو بیاں دینے کے لئے بھی کسی سے مشورے کئے ہونگے۔ گاؤں والے یہی کہتے پولیس کا رویہ وہی فرسودہ ہے۔ راستے میں جاتے ہوئے مسافر کو پکڑ لیا پوچھ گچھ شروع جس کو کبھی ان کے بارے میں پتہ ہی نہیں ہوگا۔ ویسے اپنے ڈی پی او صاحب سے اس کیس کے سلسلے میں بات کی تھی کہہ ریا تھا ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اور کل ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کے لا آفیسر نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی۔ کہ ایف آئی آر غیرت کے نام پے قتل کا اور نامعلوم افراد کے خلاف کاٹا گیا ہے۔ اور جلد ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔ چلو بھائی امید پہ دنیا قائم ہے۔
خیر کل اویر سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ شخص سے بات ہو رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ بھائی اس سسٹم سے انصاف کی توقع رکھنا بے وقوفی ہے۔ میرے بھائی کا قتل ہوا، ملزمان پکڑے گئے ، اقبال جرم بھی کر لیا، پھرکورٹ کے زریعے  آزاد بھی ہو گئے۔ وہ آزاد گھوم رہے ہیں میرا بھائی مارا گیا۔ یہ کیس بھی کوئی اندھا نہیں ہے۔ شائد پولیس حل کر لیں، لیکن میرا دل اگتا چکا ہے۔ گاؤں میں ہر کسی کو اپنی جان کی پڑی ہے۔ اگر وہ منہ کھولیں گے اگلے باری ان کی۔ سب کو پتہ ہے ملزمان کو کوئی کچھ نہیں کرے گا۔ چھوٹ جائیں گے پھر اپنا کیا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *