احساس ذمہ داری

تحریر: تقدیرہ اجمل رظاخیل

یوں تو یہ الفاظ ہم ہر روز سنتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں مگر انہیں بے وزن اور بے وقعت سمجھ کرانہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے چونکہ ہم خود اس کے قائل ہی نہیں اور بحثیت قوم غفلت ، لا پرواہی اور بے سمجھی کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں غربت و افلاس، بیماری بدامنی، جاہلیت، افراتفری، معاشی و معاشرتی اونچ نیچ ، کرپشن، رشوت اور شخصی زوال کی بنیاد ی وجہ احساس ذمہ دار کا فقدان ہے۔

ہمارے عوامی نمائندوں جنہیں اعلیٰ اشرافیہ اور حکمران کہا جاتا ہے سے لیکر قانون دانوں، قانون نافذ کرنیوالوں اور عدل و انصاف فراہم کرنیوالوں سے لیکر ہر شعبہ زندگی میں اعتدال کی کمی اور احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔

تعلیمی اداروں میں اساتذہ سے لیکر طلباء تک سبھی اس مرض میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے معاشرے اور ریاست میں قانون شکنی، بداخلاقی، بد کرداری اور بد کلامی کا رحجان نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ جدید اخلاقیات اور رسم و رواج کا حصہ بھی بن رہا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل، تاجر، صنعت کار اور دیگر شعبوں سے وابستہ بظاہر تعلیم یافتہ افراد اخلاقیات اور قوانین کے احترام سے بڑی حدتک مبرا ہیں۔ ایسا ہی احوال صحافت اور دانش کا ہے۔ کوئی بھی شخص محنت اور ایمانداری سے کام نہیں کرنا چاہتا۔ ہرشخص شارٹ کٹ طریقہ اپنا کر زندگی کی آسائشیں سمیٹنے کے مرض میں مبتلا ہے۔ جو کام کرتے ہیں اُنکا کام غیر معیاری اور دو نمبری سے کیا ہوتا ہے۔ آپ کسی مکینک کو گاڑی دکھانے چلے جاو وہ سچی بات نہیں کریگا بلکہ سارا دن آپ ہی کی گاڑی پر لگا کر آپ کی جیب خالی کر دیگا ۔ ہم ایک دوست کے ہمراہ سفرپر تھے کہ گاڑی کا انجن گرم ہونے لگا۔ موٹر مکینک کی دکان پر رُکے تو حاجی صاحب موٹر مکینک نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ انجن کھولنا پڑے گا ۔ بسٹن کا مسئلہ ہے اور تیس سے چالیس ہزار کا خرچہ ہے۔

شکستہ دل ہو کر حاجی صاحب سے رخصت لی اور منزل کے بجھائے گھر کی طرف چل پڑے۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی پھر گرم ہونے لگی تو سٹرک کنارے رک گئے۔ خوش قسمتی سے ایک کسان ٹریکٹر سے زمین پر کام کرتا دکھائی دیا۔ وہ قریب آیا تو خود ہی رُک کر پوچھنے لگا کہ یہاں کیوں کھڑے ہو۔ کیا کس سے ملنا ہے یا راستہ بھول گئے ہو۔ عرض کیا گاڑی گرم ہو رہی ہے ۔ کسان سے بونٹ اٹھایا اور سب سے پہلے ریڈی ایٹر کا ڈھکن کھول کر پانی چیک کیا اور پھر موبل آئل اور بریک آئل دیکھا اور آخر میں فین بیلٹ کو دباتے ہوئے بولا فکر کی بات نہیں فین بیلٹ ڈھیلا ہے۔ رحمد ل کسان نے ٹریکٹر کے ٹول بکس سے لو ہے کاراڈ نکالا فین بیلٹ کی پُلی دبا کر چابی سے بیلٹ درست کر دیا ۔ ہمارے ہاں ہر چھوٹے بڑے کام میں بددیانتی کا رحجان عام ہے اور ہر سطح پر کوشش کی جاتی ہے کہ ضرورت مند کو کسی نہ کسی طرح لوٹا جائے۔

وکیلوں او رڈاکٹروں کے پاس جائیں توآپ کے ہوش اڑ جائینگے۔ ڈاکٹروں اور وکیلوں کی فیسیں سن کر انسان قانون شکنی اور موت کو ترجیحی دیتا ہے۔ وکیل کے بغیر عدالت تک رسائی ممکن نہیں ہوتی ۔ پندرہ بیس قسم کے خون اور دیگر ٹیسٹوں کے بغیر ڈاکٹر نہیں دیکھتے ۔ ایک غریب مریضہ ہمارے پاس مدد کی درخواست لیکر آئی۔ کہنے لگی محلے کے لوگوں سے چند ے کی اپیل کریں اور کسی طرح مجھے دوائیں خرید دیں ۔ وہ دل کے مشہور ڈاکٹر سے ملکر آئی تھی جن کی فیس پانچ ہزار تھی ۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ ٹیسٹ اور دوائیں لکھ کر دی تھیں اور دو ہفتوں بعد پھر آنے کا حکم لکھ کر دیا تھا۔ دواءوں کی قیمت سے دس ہزار سے کچھ زیادہ تھی جبکہ مریضہ کے خاوند کی ماہانہ تنخواہ اٹھارہ ہزار تھی۔ محلے والوں کو ہم جانتے ہیں اس لیے اپیل کی سکت نہ ہوئی ۔ اپنے گھریلو بجٹ میں کچھ کٹوتی کی اور مریضہ کو ایک نوجوان ڈاکٹر کے گھر لے گئے۔ ڈاکٹر نیا تھا اور ابھی تک میڈیکل ایتھکس کے جذبے سے بھی سرشار تھا ۔ مریضہ کو دیکھتے ہی مرض کی جڑ پکڑ لی اور امریکہ پلٹ بڑے ڈاکٹر کا نسخہ لیکر پھاڑ دیا۔

ڈاکٹر نے مریضہ کے بچے کو کہا کہ جاءو اور اپنے باپ کو بلا لاءو ۔ مریضہ کا خاوند آیا تو ڈاکٹر نے پوچھا کہ مریضہ کی شادی کس عمر میں ہوئی تھی ۔ خاوند نے کہا پندرہ سال کی عمر میں بچے کتنے ہیں۔ خوش ہو کر کہنے لگے اللہ کا کرم ہے۔ چھ سلامت ہیں اور ساتواں مریضہ کے پیٹ میں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا تم میں احساس ذمہ داری نہیں۔ عورت کے جسم میں خون نہیں ۔ غذا کی کمی ، کام کی زیادتی اور ہرسال پیٹ میں پلنے والے بچے کی وجہ سے عورت کا خون انتہائی کم درجے پر ہے۔ ڈاکٹر نے عورت کو کچھ پرہیز اور سستی مگر خون پیدا کرنے والی غذائیں اور بچے کی پیدائش کے بعد برتھ کنٹرول سنٹر جانے کا مشورہ دیا ۔ دیکھا جائے تو وطن عزیز میں نہ حکومت میں اور نہ ہی عام آدمی میں احساس ذمہ دار ی کا کوئی عنصر موجود ہے۔

موٹر ویز پولیس کی بڑی تعریفیں ہوتی ہیں۔ چند روز پہلے جہلم جانیوالی ویگن کے مسافروں میں ہم بھی شامل تھے ۔ ایک جگہ موٹر ویزوالوں نے روک لیا ۔ ڈرائیور نے پوچھا غلطی کیا ہے ۔ فرمانے لگے غلط لین کا استعمال کر رہے ہو ۔ ڈرئیوار نے بحث کرتے ہوئے کہاکہ صحیح لین میں کھڈے ہیں ساری ٹریفک غلط لین سے ہی آرہی ہے ۔ پولیس والے نے کہا سٹرک ٹھیک کرنا ہمارا کام نہیں ۔ ویگن میں بیٹھے سارے مسافروں نے شور مچایا مگر پولیس والے پر کچھ اثر نہ ہوا۔ غلط لین کا جرمانہ ہمارے ویگن ڈرائیور نے ادا کیا اور اس دوران دو درجن سے زیادہ گاڑیاں غلط لین سے گزر کرچلی گئیں۔ جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ٹال پلازے ہیں جو کروڑوں روپے روزانہ جمع کرتے ہیں مگر سٹرک ٹھیک کرنا کسی کی ذمہ داری نہیں چونکہ احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔

ہماری سٹرکیں گندی، پارک گندے ، ہسپتالوں کے باہر غلاطت کے ڈھیر، عدل و انصاف کا فقدان، ہر طرف تجاوزات کی بھر مار، پولیس کا لہجہ کرخت، پٹواری حکمران مگر احساس ذمہ داری کا فقدان ۔ ہمارے ائیر پورٹوں پر مسافروں کی پٹائی کی ویڈیو فل میں سوشل میڈیا پر چلتی رہتی ہیں۔ ایک ایسی ہی فلم میں ائیر پورٹ کا عملہ ایک مسافر کی پٹائی کر نے کے بعد اُسے گھسٹ کر کسی عقوبت خانے میں لے جارہا ہے ۔ اُسکی ساتھی عورت نے واویلا کیا تو چند موٹی تازی سرکاری وردی میں ملبوس عورتوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ قریب ہی یہ منظر مسافروں کے علاوہ کچھ سرکاری اہلکارجن کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ ایک مسافر نے پولیس والے سے کہا کہ تمہارے سامنے کیا ہورہا ہے کسی کو بتاءو اور ان مسافروں کو بچاءو ۔ پولیس والے نے جی ٹی روڈ پر چالان کرنیوالے اپنے بھائی کی طرح کہا کہ یہ میرا کام نہیں ۔ ہمت ہے تو خود بچا لو۔

سابق چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کہتے تھے کہ ہمارے سامنے کوئی طاقتور نہیں۔ سب سے بڑی قوت قانون کی ہے ۔ جناب آصف سعید کھوسہ نے کہا تو سچ تھا مگر یہ طاقت اور قانون کہاں ہے اسکا پتہ نہیں بتائے بغیر ہی چلے گئے۔

ہم نے درویش سے پوچھا کہ اس بدحالی کی کوئی دوا ہے۔ کہنے لگے احساس ذمہ داری۔ اسی میں طاقت اور قوت ہے ۔ کتابوں میں لکھے قانون اور طاقت سے غیر قانونی کام کرنیوالے فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے جبرکا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ ہر عہدہ ، ہررتبہ، ہر ادارہ اور ہر شخص احساس ذمہ دار ی کے بغیر بے حس و بیکار ہے۔

One Reply to “احساس ذمہ داری”

Leave a Reply

Your email address will not be published.