Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

مسلمان بمقابلہ مسلمان

پروفیسر رحمت کریم بیگ

ماضی قریب میں جب چترال کٹور خاندان کے آخری دور کے مظالم کے نیچے سسکیاں لے رہاتھا اور حکمران اور رعایا میں ایک گہری خلیج قائم ہوچکی تھی، دونوں ایک دوسرے کے پیچھے کمر کس کر لگے ہوئے تھے تو اس وقت عوام کی قیادت اس وقت کے علمائے دین کی ہاتھ میں تھی، حکمران ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کو سرعام کوڑے مارے جاتے تھے، قید و بند میں رکھا جاتا تھا، بھوکا رکھا جاتا تھا، ان کے اہل خا انہ کے ساتھ بد ترین سلوک روا رکھا جاتا تھا، مگر یہ علمائے دین انتہائی حد تک سخت جان تھے، انہوں نے ہر ظلم کو برداشت کیا ظاہر ہے ان کو مالی مراعات کی پیشکش بھی ہوتی تھی مگر انہوں نے مسلیم لیگ کے پرچم کو بلند رکھا علامئے دین کی دیانت داری پر آنچ نہیں آنے دیا، کوڑے برداشت کئے، ایک ظالم نے ایک دفعہ بیان کا جاتا ہے کہ ایک مولانا کولاکر پولو گرائنڈ میں اس پر ڈنڈے برسائے اور کفر کے الفاظ اس کی زبان سے نکلنے لگے کہ اب تمہارا خدا تمہیں ہم سے کیسے بچاتا ہے مگر مولانا صاحب نے ہار نہیں مانی، ان نامور علاماء میں مولانا نور شاہدین، مولانا شہاب الدین، قاضی نظام، مولونا عبدلاکریم، مولانا عبدلاللہ، مولانا حضرت الدین، مولانا خطیب محمد زمان اف آیون وغیرہ تھے اور جو نام مجھ سے بھول گئے ہیں ان کے لئے میں معذرت خواہ ہوں

یہ لوگ تھے جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے سے ڈرنے والے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی پیہم کوششوں سے چترال کی ریاستی مظالم کو للکارا اور اس فرسودہ بادشاہت کے نظام کو زمین بوس کرکے رکھ دیا۔ ان کے عزم کو سلام کرنا چاہئے کہ ان کے مقابلے میں پوری ریاستی مشینری ان کی بیخ کنی کے لئے لگائی گئی تھی اور مراعات یافتہ طبقہ بھی متفقہ طور پر ان علماء کے خلاف تھا۔ ان کی یہ کوشش تاریخ میں سنہرے خروف میں لکھنے کے قابل ہے ،یہ وہ حضرات تھے جنہوں نے پندرہ پندرہ، بیس بیس سال علم دین سیکھنے میں لگایا تھا اور وہ صحیح معنوں میں علمائے دین تھے، ان میں قیادت کی بھی بے پناہ صلاحیت موجود تھی قوت برداشت تھی،کوء کسی کو بریلوی یا اہل حدیث یا دیوبندی کے نام سے یاد نہیں کرتا تھا بس سب مسلمان تھے، اکھٹے تھے، مقصد ایک تھا اس اتحاد کے نتیجے میں ان کا جو ٹارگٹ تھا حاصل ہوگیا۔

ان کی ان صفات کی وجہ سے ساری ریاست کی آبادی متحد ہوگئی، اس ملک گیر اتحاد میں اسماعیلی، سنی، شیعہ، کالاش، بریلوی، وہابی سب متحد تھے، لوگ مظالم کی چکی میں پسنے سے بچ گئے اور جاکر ان قبر والوں کو بھی اواز دی کہ اے اہل قبور! سنو! آج ہم ریاست کی بیگار اور مظالم سے آزاد ہوگئے ہیں کیونکہ یہ بات بعض اہل قبور کی وصیت تھی جو پوری کر دی گئی۔ آج ہم میں یہ علماء موجود نہیں آج نفرت پھیلانے والے معاشرے پر چھاگئے ہیں، مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے، لڑایا جارہا ہے، ایک فرقہ دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں، وہ مسلم لیگی علماء مخلص تھے، دین اسلام کی صحیح روح کو سمجھ گئے تھے مگر افسوس آج ہ میں یہ جذبہ کہیں نظر نہیں آتی، آج ہمارے دینی پیشوا چند سال چند کتابیں پڑھ کر فتاوی جاری کرنے اور ان پڑھ مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرنے کے دھندے میں مزہ محسوس کرتے ہیں دینی تعلیم کی میعاد آٹھ سالہ کی جگہ تیئس سالہ ہونا چاہئے تبھی اسلام کی اصل روح دل کی تہ تک پہنچ پائےگی، جن علمائے کرام نے ریاست کے خلاف متحد ہوکر تحریک چلائی وہی ہمارے اصل محسن ہیں۔

مدارس اصلاحات مسترد: جے یو ائی

اوپر والا شہ سرخی روزنامہ آج میں صفحہ نمبر دو میں شاءع کیا گیا ہے جس میں حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر مدارس کے ملک گیر نظام میں شاید کچھ اصلاحات یا ترامیم یا کچھ اور تبدیلی کی بات کی گئی ہو یا جے یو آئی اپنی سیاست کی رفتار کو رواں دواں رکھنے کے لئے کوئی خود ساختہ بیاں گھڑ کر عوام کے مذہبی جذبات کو ابحارنے کی اپنی سعی کر رہی ہو، چونکہ جے یو وَئی کو حکومت وقت سے خدا واسطے کا بیر ہے اور ہار کی تلخ یاد ابھی زبان پر موجود ہے اس لئے عوام کو اشتعال میں لانے کے لئے کوئی د لکش منشور سامنے لانے کی بجائے مذہب کی آڑ میں پیٹ بھرنے کی کوشش کو زندہ رکھنا ایک مقصد ہے۔

دینی مدارس تقریبا گیارہ سو سالوں سے دینی تعلیم کی ترویج کا فریضہ انجام دیتے چلے ائے ہیں اور ان باقاعدہ مدارس کے ساتھ ساتھ جید علمائے دین نے اپنی اپنی وژن پر مبنی دینی درسی نظام بھی قائم کرکے دین کی بھر پور خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری و ساری ہے اس زمانے میں بغداد کے بعد قاہرہ، بلخ و بخارا، دمشق کے علاوہ ایران میں بھی فرقہ جعفریہ کے مبلغین کام کرتے آئے ہیں اور اس دور میں جبکہ بجلی کی نعمت، کاغذ، سیاہی وغیرہ سہولیات کا شدید فقدان تھا اور ان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا یا ان کو بنانے کی باقاعدہ ایک تربیت حاصل کی جاتی تھی ان سب مشکلات کے باوجود علمائے دین نے تعلیم و تعلم کے ساتھ تصنیفات کا مشکل کام بھی جاری رکھا اور کئی ایسے علماء کے نام ملتے ہیں جنہوں نے تین سو تک کتابیں لکھی ہیں جن میں سے آج کل چند ہی دستیاب ہیں البتہ عرب ممالک میں ذیا ادہ تعداد دستیاب ہونے کی امید کی جاسکتی ہے ان بزرگان دین نے اس طرح دین کی جو خدمت کی اور جنہوں نے تعلم کا سلسلہ جاری رکھا آج ہم ان کی ان خدمات کا کوئی حق ادا نہیں کرسکتے اور ہمارے پاس آج وسائل کی کیا کمی ہے

اب سوال یہ ہے کہ کیا دینی نظام تعلیم میں جدید دود کے تقاضوں کے مطابق نصاب کو چھونا گناہ ہےکیا جدید دور کے تقاضے قدیم سے مختلف نہیں ہیں دینی مدارس کے طریقہء کار کو جدید ضروریات کی روشنی میں مزید ھنر مند بنانے سے روکنا ہی بنیادی اسلام ہے کیا دینی مدارس کے طلباء کو کئی زبانیں جاننا ضروری نہیں کیا اسے جدید ٹکنالوجی سے آشنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں تو مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہود و ہنود کی ریشہ دوانیوں کا جواب انہی کی ٹکنالوجی میں دیا جائے ورنہ وہ ہر طرح سے اسلام پر حملہ کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرتے اس لئے میری رائے میں ہمارے تمام مدارس کو رجسٹر کرنا، ان کی نصاب میں اکابر علماء کی رہنمائی میں مناسب اضافہ اور ترمیم کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس کو روکنے کی کوشش یا اسے ایک سیاسی ایشو بناکر اپنے زاتی مقاصد کے حصول کی کوشش قوم کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔

آج ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بناکر چندہ کشی کی مہم کا ایک یلغار کر رکھا ہے، یہ ایک گداگری ہے، ایسے مشروم قسم کے مدرسے بچوں کو ایک محدود مکان یا ایک ہی کمرے میں جمع کرکے دین کی خدمت کے نام پر جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ان میں ان معصوم بچوں کے رہائش کی جگہ بھی نہیں ،سہولیات بھی نہیں ، صفائی کا نظام انتہائی ناقص ہے، ان کے بارے میں میرا ذ اتی تجربہ ہے کہ وہاں جلدی بیماریاں پھیل کر بچوں اور بچیوں کی زندگی اجیرن کر دیتی ہیں، ایک محدود جگہ میں  تعداد علم کی روشنی لیکر نکلنے کی بجائے مرض لیکر نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اس لئے ان تمام مدارس کو جن کے پاس نا کافی عمارت ہے بند کردیا جائے اور جن کے پاس وسیع عمارت کے ساتھ اعلی علمی قابلیت کے حامل اساتذہ ہوں ان کو رجسٹر کرکے ان کی نصاب میں مناسب اضافہ کرکے جدید دور کے لئے علماء تیار کرنا از حد ضروری ہے اور ان کی موجودہ آٹھ سالہ مختصر دور کو بڑھاکر تیئس سال کرنا بھی بنیادی ضرورت ہے کہ قران کریم تئیس سال میں نازل کیا گیا ورنہ اللہ تعالی اس کو آٹھ سال میں یا اس سے بھی کم وقت میں یا ایک ہی وقت میں نازل فرما سکتا تھا مگر ایسا کرنا انسانی نفسیات کے مطابق نہ تھا اس لئے تئیس سال کی مدت میں اسے خوب زہین نشین کرایا گیا اب بھی اسی مدت کو ان مدارس میں لاگو کیا جانا چاہئے۔ وسلام

You might also like
2 Comments
  1. Mohammad Ilyas Khwaja says

    قدایم زمانے کے مسلمان علماء مختلف علوم طب فلکیات نجوم وغیرہ میں ماہر ہوتے تھے پھر جب مسلمانوں کی حکومتیں کمزور ہو گئیں تو علماء صرف دینی علوم کو زندہ رکھ سکے اور اسی بنا پر ان میں سے کچھ علماء دوسرے علوم کی نفی بھی کرنے لگے۔اسکی وجہ یہ تھی کہ ان علوم سے انکو واسطہ نہ رہا تھا۔
    دوسری بات مضمون نویس نے چترال کی ریاستی حکومت کے مظالم کے بارے میں کی ہے تو اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلی بات یہ کہ ریاست کا ظلم اس غریب علاقے کا نظام چلانے کے لئے مجبوری تھی جیسے لگان، غلام بیچنا، بیگار کرانا وغیرہ۔ دوسری بات یہ کہ جس ظلم اور پٹائی کا ذکر جناب نے فرمایا ہے وہ مہتر مظفرالملک کے دور کا ہے جو سیاسی مخالفین کو ریاستی قواعد کے میدان/پریڈ گراؤنڈ میں پیش آیا تھا۔ ایسا قدیم دور میں یعنی 1895 ء سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا جب مہتر علاقے کے لوگوں کا سربراہ اور نمائیندہ ہوتا تھا۔ 1895ء کے بعد برطانوی حکومت ہند مہتران کا چُناؤ یا انکو تسلیم کرتی تھی اور وہ حکومت کا ایک عہدہ دار ہوتا تھا جسکو عوام سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہوتا تھا اور نہ کسی کی ناراضگی کا ڈر ہوتا تھا۔ میدان میں مخالفین کی اس پٹائی کا وقتی طور پر اثر ہوا مگر چترال کے آریا مزاج کے مطابق ریاست کے خلاف ایک منظّم تحریک نے درپردہ جنم لیا جسکی میدان میں قیادت مولانا نور شاہ دین کرتے تھے مگر انکے سرپرست 3 عدد با اثر اور تجربہ کار غیر علماء لوگ تھے جنہوں نے دیہہ بہ دیہہ اس تحریک کے جتھّے ترتیب دئے تھے۔
    قابل ذکر بات یہاں یہ ہے کہ کسی بھی لکھائی کی بنیاد منطق اور دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہئے نہ کہ نفرت پر، مثلا” کٹور کا ظالمانہ دور یا ڈیڑھ انچ کی مسجد کا ملّا وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جو کسی سنجیدہ سوچ کی عکاّسی نہیں کرتے۔

  2. Khan N says

    The topic should be Mula against humanity and Muslims.you are right the Madrasa students will not get any religious information and knowledge but will get poor hygenic health issues and some chronic diseases with the bagging expertise. Reform and registration with the main stream educational system is very important. BUT WHO WILL LISTEN US, OUR PUBLIC REPRESENTATIVES ALWAYS THINK NON SENSE AND TALK ABOUT USELESS ISSUES. GOD BLESS THEM AND KEEP THEIR INTELLECT AND THEIR INTELLECTUAL LEVEL AS IT IS. AMIN

Leave a comment

error: Content is protected!!