Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

جہانبانی کے یہودی اصول 

صدا بصحرا

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ سمیت کئی غزوات اور سرایا میں مسلمانوں کوراز داری کی تلقین فر مائی اور اپنے منصوبوں کو خفیہ رکھنے کی تاکید فرمائی

حضرت عمرفاروقؓ کی خلا فت تک راز داری کو جہانبانی کا اہم حصہ خیا ل کیا جاتا تھا اس کے بعد مختلف وجو ہات کی بناء پر راز داری نہ رہی راز داری ختم ہو تے ہی

خلا فت را شدہ کا شیرازہ بکھر نے لگا ایک دن اسرائیلی وزیر اعظم گولڈ امیر ا سے پو چھا گیا کہ تمہاری طا قت کا راز کیا ہے؟ اس نے کہا میں نے مسلما نوں کے نبی محمد عر بی سے دو باتیں اخذ کی ہیں اُن کی جنگی مہم راز داری سے انجام پاتی تھی وہ جب وفات پا گئے تو ان کے گھر میں دو قت کے کھا نے کا سا مان نہیں تھا اشرفی، دینا ر اور دوسرے سکّے نہیں تھے البتہ دو دو تلوار یں تھیں، نیزے تھے اور تیر کمان رکھے ہوئے تھے گولڈ امیر نے راز کی بات کہہ دی حا لانکہ یہو دی پر و ٹو کالز میں راز داری کی سب سے زیادہ تاکید آتی ہے آج عا لم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ یہو دی اقوام کی سا زشوں کا مقا بلہ کر نا ہے

یہودی راز داری پر یقین رکھتے ہیں جبکہ مسلمان اپنا منصوبہ فوراً لاؤڈ سپیکر کے ذریعے سب کو سنا دیتے ہیں اس لئے مسلمانوں کے منصو بے روبہ عمل آنے سے پہلے نا کا می سے دو چار ہو جا تے ہیں آج مسلما نو ں کو سب سے زیا دہ تکلیف عالمی بینک، انٹر نیشنل ما نیٹری فنڈ اور اقوام متحدہ سے پہنچتی ہے آج عا لم اسلام کے خلاف سب سے بڑی منصو بہ بندی بینکوں اور نشریا تی اداروں میں ہو تی ہے آج مسلما نو ں کی دو لت کا سب سے زیا دہ حصہ اسلحہ خرید نے پر صرف ہو تا ہے اور اسلحے کے سارے تاجر یہودی ہیں گویا مسلمان کما تا ہے یہو دی کھاتا ہے مسلمان مما لک طاقت کے حصول کی کو شش میں یہو دیوں کو مزید طاقت دیتے ہیں یہ شطرنج کی طرح کھیل ہے جس کی بساط یہو دیوں نے بچھا ئی ہے وہی اس کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں

ذرا غور کریں کشمیر کا مسئلہ سا لوں سے اقوام متحدہ میں زیر التوا ہے فلسطین کے مسلما نو ں کا مسئلہ بھی 71سالوں سے اقوام متحدہ میں زیر غور ہے زیر غور ہونے کے نتیجے میں 3لاکھ کشمیری اور 5 لاکھ فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ڈیڑھ لاکھ کشمیری اور 40لاکھ فلسطینی مہاجرت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں گھروں سے بے گھر کئے گئے یہ لوگ 71سالوں سے بے گھر ہیں اگر یہودیوں کے 24پروٹو کالز کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جہانبانی کے یہودی اصولوں میں شامل ہے یہودی پروٹوکالز کا پورا نام ’’ پروٹو کالز آف دی ایلڈررز آف زیون ‘‘ ہے یہ زبانی اعلامیوں کا مجموعہ ہے

یہودی اکابرین نے دراصل عیسائیت کا مقابلہ کرنے کے لئے چند حربے یا خفیہ منصوبے بنایے یہ دوسری صدی عیسوی سے لیکر سولہویں صدی تک ارتقائی عمل سے گذرنے کے بعد کتابی صورت میں تیار ہوئے مگر ان کو خفیہ رکھا گیا 1858ء میں یہودیت سے تائب ہوکر عیسائیت قبول کرنے والا جیکب بریف ایک تعلیمی ادارے میں عبرانی زبان کا استاد مقرر ہوا تو اُس نے یہودی پروٹوکالز کا راز فاش کردیا روسی اخبارات نے پہلی بار 1902ء میں یہودی پروٹوکالزکو شائع کرکے پوری دنیا میں تہلکہ مچادیا اس کے بعد انگریزی ، فرانسیسی اور دیگر زبانوں میں ان کے تراجم منظر عام لائے گئے ہٹلر نے جرمن زبان میں اس کا ترجمہ کرکے بڑے پیمانے پر شائع کرایا مگر جب بھی شائع ہوتا ایک ہفتے کے اندر کتاب بازار سے غائب ہوجاتی

ہٹلر نے تحقیق کرائی تو پتہ چلا کر جونہی کتاب بازار میں آتی ہے یہودی اس کی ساری کاپیاں منہ مانگے داموں خرید کرجلا دیتے ہیں تاکہ اُن کے عزائم آشکار نہ ہوجائیں پہلاپروٹو کال بنیادی نظرئے کا ذکر کرتا ہے بنیادی نظریہ کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے دنیا کا اقتدار یہودیوں کے ہاتھ میں ہو امن اور جنگ پر یہودیوں کا کنٹرول ہو دوسراپروٹوکال کہتاہے کہ ہم دنیا میں کٹھ پتلیوں کے ذریعے حکومت کرینگے بظاہر صدر، وزیر اعظم اور بادشاہ بیٹھا ہوگا اُس کا سکہ بھی ہوگا جھنڈا بھی ہوگا مگر حکم یہودیوں کا ہی چلے گا حکومت ہماری مرضی کی ہوگی یہ پروٹوکال کہتا ہے کہ دنیا کی ہر قوم کے سامنے ایسے مسائل پیدا کئے جائنگے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لئے یہودی ماہرین سے مدد لینے پر مجبور ہو گی پروٹوکال نمبر 3فتح کے طریقے متعین کرتا ہے فتح کے طریقوں میں ایک طریقہ یہ ہے کہ مالی وسائل پر یہودیوں کا قبضہ ہو دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آزادی افکار، انسانی حقوق، آزادی نسواں، جمہوری حقوق اور دیگر خوش نما نعروں کے ذریعے علامتی سانپ کی طرح ہر قوم کو گھیرے میں لایا جائے گا اُس کے قوانین کا مذاق اڑایا جائے گا اور افراتفری پیدا کر کے ہر قوم کو یہودیوں کا محتاج بنایا جائے گاپروٹوکال 4میں آیا ہے کہ مذہب کو مادہ کے تابع کرنے کے لئے مذہبی عقائد اورعبادات کا مذاق اڑایا جائے گا نوجوانوں کو مذہب سے بیگانہ کیا جائے گا پاپائیت کے خلاف بغاوت اس پروٹوکال کا حصہ تھا پانچواں پروٹوکال اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا کی قوموں کو آمریت کے شکنجے میں کس دیا جائے تاکہ حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں آسانی ہو چھٹا پروٹوکال کہتا ہے کہ حصول اقتدار کے لئے صنعت کاری اور سٹے بازی کو بطور حربہ استعمال کیا جائے گا

ساتواں پروٹوکال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ عالمی جنگیں کسطرح شروع اور کس طرح ختم کرائی جائیں فارمولہ یہ ہے کہ پروپیگنڈا کے ذریعے خوف پیدا کرو قرض پر اسلحہ دیدو، جنگ کراؤ پھر خود ثالث بن جاؤ اور جنگ کے خاتمے کا ایسا صلح نامہ لکھو جو اگلی جنگ کا پیش خیمہ بن سکے کسی ملک کو جنگ کا فاتح بننے نہ دو آٹھواں پروٹوکال یہودی معیشت اور فری میسن پروگرام کا احاطہ کرتاہے نواں پروٹوکال تعلیم پر کنٹرول کے حوالے سے اہداف طے کرتاہے دسواں پروٹوکال پس پردہ رہ کر اقتدار حاصل کرنے اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومتیں چلانے کی حکمت عملی پر بحث کرتا ہے پروٹوکال 12,11اور 13میں عوامی اجتماعات، پریس اور سول سوسائٹی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر یہودی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی وضع کرنے کا ذکر ہے اس میں عورتوں کو آگے لاکر مذہب کے خلاف بغاوت پر تیار کرنے کی حکمت عملی دی گئی ہے پروٹوکال 15میں عالمی بادشاہت کا نقشہ دیاگیا ہے موجودہ اقوام متحدہ اس پروٹوکال پر کام کررہی ہے پروٹوکال 16سے لیکر 19تک ریاستی جبر، ظلم اور ناانصافی کے ذریعے عوام کو حکومت سے مایوس اور متنفر کرنے کے طریقے، افیسروں اور ججوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے گُر بتائے گئے ہیں پروٹوکال 20سے 22تک دنیا پر حکومت کے لئے صیہونی مالیاتی نظام، قرضوں کی معیشت، سودی جال اور ٹیکسوں کے ذریعے دنیا کے مالی وسائل صیہونیت کی ترقی کے لئے استعمال کرنے کاذکر ہے اور یہ سب سے اہم پروٹوکالز ہیں

موجودہ دور میں ان پر سب سے زیادہ زور دیا جارہا ہے پروٹوکال 23اور 24میں طرز حکمرانی کا ذکر ہے اس کے لئے دو اصول وضع کئے گئے ہیں اچھی حکومتوں کا تختہ الٹ دو، نااہل حکمرانوں کی حوصلہ افزائی کرو تاکہ تمہیں آگے بڑھنے کا موقع مل سکے قارئین اگر پروٹوکالز آف دی ایلڈرز آف زیون یعنی ’’صیہونی اکابرین کے اصول جہانبانی‘‘ کو سامنے رکھ گذشتہ 100سالوں کی تاریخ اور اس تاریخ میں مسلمان ملکوں کے اندر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے لیں تومعلوم ہو جائے گا کہ یہودی اقوام عالم میں اقلیت ہونے کے باوجود اکثر یت پر کس طر حکومت کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کو کسطر ح دنیا پر یہودیوں کی بادشاہت برقرار رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے

You might also like
1 Comment
  1. Muntazir Ali says

    Let’s put aside the question of the factuality of the so called “Protocols of the Elders of Zion,” primarily because any attempt to disprove it, even if successful, won’t do much to undermine the pernicious fascination of the idea that there is a Jewish conspiracy for global domination. Additionally, owing to the very nature of a “conspiracy theory,” that attempt is open to being written off as part of the conspiracy itself. Let’s, therefore, focus on its invocation and deployment and the eliding operation that underwrites its effectiveness as a fall guy.

    The concept of the “secret,” and its practice (secrecy), evoke both the allure and the fear of the unknown, the hidden, and the comfort and ordinariness of the known, the manifest. It inspires both affective and embodied responses, that are generative of individual and collective subjectivities. It is thus an apt choice for a concept that is read as a positive value within a particular reading of the early Islamic history and is, at the same time, harnessed to demonize a particular people on the back of a set of “Protocols” whose very existence and psychological effect turns on the operation of the open-secret. It is not clear whether one should read the inability of “Muslims” to keep their secrets as an outcome of the success of the putative conspiracy or as a condition that is intrinsic to post-Khilafat-Rashida “Muslim” societies at large. This is, of course, assuming that these societies represent a distilled and seamless whole and admit no differences of time and space. My bet is on the first one because admitting to the second would take the recourse to the conspiracy out of service, forcing a critical inward gaze that is bound to throw up many inconvenint truths.

    There are, to my mind, two aspect of the invocation of the “Protocols” that are the most insiduous. One, it erodes, or at least creates conditions for the erosion of, internal capacities that may be developed to effect real change by improving the life conditions of the disadvantaged and disenfranchised. This is because there is no internal mechanism of control within the invocation that may differentiate between genuine movements that question entranched structural inequalities and those seek to reinforce them. The most glaring outcome of such an erosion is a collective siege mentality that refuses responsibility and seeks to externalise almost every internal shortcoming. Assuming there is a conspiracy, one may say that its power does not consists in an elaborate set of “verbal pronouncements” with a grandiloquent title, rather, it consists in convincing a people to shirk collective introspection, critical self-scrutiny and responsibility. Two, and this may appear as somewhat paradoxical, the invocation seems to promote a kind of fatalism in which a people come to see themselves as mere objects to forces beyond their control. The power of such an outlook is precisely in denying the people their individuality, their capacity to control and transform their own, and by overdetermining them as mere pawns in an alleged power game hatched in distant lands and times. This denial works most effectively among historically marginalized groups. Together, the two are a sure recipe for a vicious circle within which conspiracies not just abound but become almost self-fulfilling prophecies.

Leave a comment

error: Content is protected!!