سیاحت دُبئی کی – ۳

شیرولی خان اسیر
دبئ کے قدیم عجائیب گھر سے جب باہر نکلے تو کافی تھک چکے تھے۔ تنگ اور نیم تاریک گلی کوچوں میں سیاحوں کے ساتھ کند ھے لڑا بھڑا کر پکی عمر کی کمزور سی طاقت جواب دے گئی تھی ۔ واپس دریا / نہرکے کنارے سستانے بیٹھ گئے تو برخوردارم ظفر ٹھنڈا جوس لے آیا تو پی کرہم پھر سے تازہ دم ہوگئے۔ اس نہر کا نام شاید میں بتانا بھول گیا جودبئَی کرِیک کہلاتی ہے۔اس کے بر دبئی والے کنارے کے ساتھ لگے لوہے کے جنگلے کے ساتھ ساتھ کرسیاں اور میزیں ایک لمبی قطار میں لگی بوئی تھی جن پر بیٹھے سیاح چاٴے نوشی کے ساتھ حقے بھی گڑگڑا رہے تھے۔وہ تمباکو نہیں بلکہ شیشہ پی رہے تھے۔ میں نے ظفر سے پوچھا، “بیٹا یہاں اس چیز پر پابندی نہیں ہے کیا؟” تو اس نے بتایا کہ اس پر پابندی نہیں البتہ نسوار پر پابندی ہے۔ میں اس بات پر حیران ہوا تو ظفر نے بتایا کہ اصل وجہ نسوارکی گندگی ہے۔ جب نسوار کے استعمال شدہ کالی کالی گولیاں سڑکوں اور رہداریوں میں جھاڑو کشوں کو ملنے لگیں تب اس پر تحقیقات ہوئی اور نسواریوں تک پہنچ گئے۔ پھر حکومت نے اس کی درآمد اور استعمال پر پابندی عائد کردی۔ دبئی میں پختون بھاٴئیوں کی کثرت ہے۔ انہوں نے نسوار کو یو اے ای بھی پہنچا دی ہے۔ یہاں تک کہ عربوں کو بھی اس کی لت پڑ گئی ہے۔ تاہم چھپی چوری اس
کا کاروبار چل رہا ہے۔
سیاحت دُبئی کی - ۳آج کی دوسری جانکاری میٹرو بس کا سفر تھا۔ ہم ظفر آیاز کی معیت میں میٹرو بس سٹیشن پہنچ گئے جہاں باہر ہی ٹکٹ خریدکر ہم جب ٹکٹ کا مخصوص کوڈ نمبروالا حصہ ایک مشین کےساتھ مس کیا تو سامنے سے راستہ کھل گیا اور ہم جاکرشیشے کی دیوار کے سامنے گاڑی کی آمد کے انتظار میںن کھڑے ہوگئے۔ دو منٹ کے اندر خود کار گاڑی آگئی ۔ہمارے سامنے دروازہ کھل گیا اور ہم اندر گھس گئے۔ اگلے سٹاپ تک ہم کھڑے رہے کیونکہ سیٹیں بھری تھیں۔ یہاں سے مسافر اتر گئے تومجھے کرسی مل گئی۔ یہ بہت ہی تیز اور آرامدہ سواری لگی۔ کئی جگہہوں میں یہ سرنگوں سے گزری اورکہیں کہیں فلائی اور پلوں پر دوڑ گئی۔
میٹرو بس کے سفر میں آج ہماری منزل اسمعیلی سنٹر دُبئی تھا۔ چونکہ جمعہ کا دن تھا تو ٴیہاں بہت سارے چترالی برخورداروں ملنے کی امید تھی۔اسیا ہی ہوا۔ پہلا برخوردار جو ملا اس کا نام شیر حیات خان تھا اور اس کا تعلق رامن لاسپور سےتھا ۔ میٹرو کے سٹاپ فلائی اور پر تھا اس لیے ہمیں لفٹ کے سیاحت دُبئی کی - ۳ذریعے نیچے اترنا تھا۔ اسی لفٹ کے اندر شیر حیات سے ملاقات ہوئَی تو اس نے ہمیں پہچانا اور اپنا تعارف کرایا تو میرا رشتے دار نکلا۔ وہ میرے انکل یعنی میرے والد محترم کے خالہ زاد ریٹائرڈ صوبیدار یورمس قبول مستوج کا داماد نکلا۔ اس نے ہمیں کراچی کیفی میں چائے پلائی۔ اس کیفی میں برخوردارم محمد صابر خان اتالیغ سے ملا۔ اس نے کافی ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہیں ہمارے دُبئی آمد کی کیوں خبر نہ ہوئی۔ اس کا گلہ درست تھا کیونکہ یہ میرے قریبی عزیزوں میں سے ہے اور میرا پوتا لگتا ہے۔ دراصل میں ان میں کسی کو بھی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ دبئی میں کام کرنے والے دوست احباب کے کام کا شیڈول بہت سخت ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے انکو کام سے غیرحاضر رہنا پڑے۔
اسمعیلی سنٹر دبئی شاندار عمارت ہے جس میں ایک بڑے گنبد کے نیچے میڈیٹیٹئیو ھال قائم ہے۔ علاوہ بہت سارے کمرے مختلف شعبوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس کیلیے زمین دبئی کے امیر شیخ محمد بن شیخ رشید نے عطیہ کیا ہے۔ اس سنٹر میں علمی، ثقافتی، سماجی اور تفریحی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔ آج یہاں کم از کم چار ہزار افراد کا اجتماع تھا جن میں سینکڑوں چترالی جوان تھے۔ ان سے ملکر دل خوش ہوا کیونکہ سارے کے سارے صاف ستھرے لباس میں ملبوس تھے۔ چہروں پر بشاشت رقصان تھی جو ان کی خوشحال زندگی پر دلالت کر رہی تھی۔ یہآں ہماری ملاقات سنوغر کے برخورداران رحمت کریم شاہ سیل منیجر گرینڈر ہوٹل دبئی، امیر علی، نثار علی، انور علی، یارخون سے بہادر اور موسی ولی سے ملاقات ہوئی۔ ریشن سے تعلق رکھنے والا ایک شاگرد بھی ملا، میر گلاب شاہ کا فرزند۔ افسوس ہے اس کا نام یاد نہ رکھ سکا۔ اور بھی کئی عزیزوں سے یہاں ملاقات ہوئی۔ واپسی رحمت کریم شاہ کی گاڑی میں ہوئی اور صابراتالیق نے شام کا کھانا ایکی بڑے سے ریسٹورانٹ میں ہمیں کھلایا۔ اس کے بعد ہمیں دبئی مال کی سیر کرائَی گئی۔
(جاری ہے)
سیاحت دُبئی کی - ۳
 
 
]]>