نہ آر نہ پار بے کار

پڑھنے لکھنے لگ گئے ہو

میرا سچ  

ناہیدہ سیف ایڈوکیٹ

وزیراعظم صاحب اپنے چترال دورے کے دوران جلسے سے خطا ب کرتے ہوئے یونیورسٹی کا اعلان کرتے ہی چترال کے باشندوں سے پہلے یہ کنفرم کرایا کہ جن کو اردو سمجھ آتی ھے وہ ہاتھ کھڑا کر دے لوگوں نے ہاتھ کھڑا کیا تو بڑے تمسخر انداز میں بولے کہ پڑھنے لکھنے لگ گئے ہو جیسے پہلے یہاں کوئی خدا نخواستہ گوالے یا خانہ بدوش قسم کے لوگ اباد ہو اور ان کے یونیورسٹی کے اعلان سے پڑھنے لکھنے لگ جا ئیں گے۔حیرت کی بات ہے تین مرتبہ بنے ہوئے لیڈر اف دے ھاﺅس کو یہ نہیں پتہ تھا کہ کے پی میں تعلیم کا ریشو کیا ہے اور چترال میں[ خاص دلچسپی رکھنے والے بقول ان کے ] تعلیم کا ریشو کیا ہے۔

اس سے عزت ماب کی تعلیم اور دور دراز علاقوں سے دلچسپی و اٰصح ہو جاتی ہے۔بلکہ ان کے ساتھ امیر مقام صاحب کو بھی شاید نہیں پتہ تھا ورنہ وہ جان کی امان پا کہ کچھ رہنمائی ہی کر لیتے۔ خدا جانے ان کو چترال کے بارے میں یہ بریفنگ کس نے دی ہو گی۔ اگر اپ کہتے کہ چترال کے لوگوں کو کاروبار نہیں آتا تو شایدآپ کی بات پہ اتفاق کیا بھی جاسکتا۔ چترال کے لوگوں کو تعلیم سے بہت دلچسپی ہے یہی وجہ ہے کہ کے پی میں صلع چترال کا شمار ان صلع میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کا ریشو سکسٹی فیصد سے زیادہ ھے۔رہی بات لگانے کی تو ان کو اس کام پہ بہت پہلے آکسفورڈ کے پڑھے لکھے بابا نے لگا دیا تھا۔ادارے بنا کے سکول،کالج سڑکیں ، شہید زولفقار وعلی بھٹو دوسرے پسماندہ،پسے ہوئے طبقہ اور روشن خیال لوگوں کی طرح چترال کے عوام بھی خود کو ان کے سحر سے آذاد نہ کر سکے لیڈر اور حکمراں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو سیٹیں چاہیے ہوتی ہیں جبکہ لیڈر پورے ملک کو لے کہ چلتا ہے ان کی موجودگی میں ملک کا ہر کونا خوشحالی کی طرف گامزن اور ملک کے ہر فرد کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے جب بھی کسی نے چترالی قوم کے عزت نفس کو ٹہہیس پہنچانے یا مجروع کرنے کی کوشش کی توان کو ان کے شہید لیڈر کی یاد آئی ا ور اپنی بیلٹ کے زریعے اس طرح سے جواب دیا کہ نظریاتی مسلم لیگیوں کے نظریات کچھ یوں ڈگمگانے لگے کہ ان کو آپ کے سب سے بڑے حریف مشرف صاحب کی پارٹی سے الیکشن لڑنا پڑا۔کچھ عرصہ پہلے پی ایم صاحب کی ایک تصویر شوشل میڈیا پہ بڑی توجہ کا مرکز بنی رہی کہ اوباما صاحب سے ملتے ھوئے جیب سے ایک رقعہ نکال رہے ہیں پھر سی ا ٰیں ایں کو انٹرویو دینے سے کترا رہے ہیں تو جتنی انگلش جناب سمجھتے ہیں اتنی اردو چترالی قوم سمجھتی بھی ہے اور بول بھی لیتی ہے۔ یہ جتنے جتنے اعلانات تھے یہ بڑے منصوبے لواری ٹنل،گولین بجلی گھر پاکستان پیپلز پارٹی کے عوامی دور کے ہیںاگر کوئی بھی حکومت اس میں کوئی فنڈ مختص کرتی ہے تو یہ ان کا فرص ہے اور یہاں کے باشندون کا حق، یہ فنڈز پاکستان کے خزانے کے ہیں کسی رمصاں شوگر ملز یا اتفاق لمیٹڈ کمپنی کے نہیں پاکستان سب کا ملک ہے تو اس کے خزانے پہ صرف سینٹرل پنجاب کا ہی نہیں پورے پاکستان کا حق ہے۔آپ بڑے پاورفل آدمی ہیں بڑے منصوبے رکھ سکتے ہیں اتنے بڑے انٹرنیشنل اسکینڈل پانامہ پیپرز جو کہ عجب کرپشن کی غصب کہانی ہے کے بعد بھی کوئی اپ کو انگلی تک نہیں لگا سکاورنہ اس قوم نے جیالوں کے منتخب وزیراعظم کو مہینے میں کتنی دفعہ ایک فیک پیپر میمو اسکینڈل پہ عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے دیکھے ہیں تاکہ کس طرح عوامی حکومت کو کام کرنے سے روکا جا سکے۔ آپ کی تشریف آوری اس وقت ہوئی جب چترال بجلی کے بدترین بحران سے گذر رہا ہے کچھ جنریٹر ہی عنایت کرتے اس ہیڈ کواٹر کو لیکں نہیں یہ دورے محص پانامہ لیکس پہ توجہ ہٹانے کے لیے تھے جو کہ ہٹے گا نہیں ۔عوام بڑی گہرائی سے یہ سب دیکھ بھی رہی ھے اور سمجھ بھی رہی ہے صوبائی حکومت بھی بلکل آپ کے ٹریک پہ چل رہی ہے اربوں کے کھربوں کے اعلانات اور اقدامات ندارد۔عوام اب ان کھوکھلے اعلانات سے تنگ آچکی ہے۔وہ موازنہ کر رہے ہیں، اپنے عوامی دور کے ترقیاتی کاموں کا اور دوسرے دور کے کاموں کا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے نمائندے اب بھی نشانے پہ ہیں ان کو فنڈز کم دیے جا رہے کا موں میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں صرف اس لیے کہ وہ پیپلز پارٹی کے نمائندے ہیں نہ خود کام کرو نہ ان کو کرنے دو اس کے باوجود وہ اپنی عوام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ جوابدہ ھیں اپنے جیالوں کے اپنی لیڈرشپ کے یہ فرق ہے پا کستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں اور دوسری جگہوں کے نمائندوں میں ، کہ اور جگہوں پہ پوچھا نہیں جاتا۔ بڑا آسان کام ہے جی مراعات اور فنڈز انجوائی کرو خدمت کے نام پہ ترقیاتی کاموں کے نام پہ۔ پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جیالوں کے سرزمیں چترال کو انتظار ہے اس دن کا جب ان کا لیڈر ان کے پاس آئے گا اپنے نانا کا روپ لے کہ اپنی ماما کا لہجہ لے کر اپنائیت سے عاجزی سے کہ یہی ان کی تربیت ھے اپنے عوام سے گل مل جائے گا ،اپنا بچپن وزیراعظم ہاﺅس میں ، اپنی جوانی صدر ھاﺅس یا آکسفورڈ میں گزارنے والے بلاول اپنے جیالوں کے اپنی عوام کے درمیاں ہو گا تو یہ نہیں کہے گا کہ کتنوں کو انگلش کی سمجھ اتی ہے نہ یہ کہے گا ا وئے نوجوانوں سنو،بلکہ عاجزی سے اپنی شائستہ اردو میں پنے جیالوں سے اپنی عوام سے مخاطب ہونگے،تو جہاں بزرگ جیالوں کو اپنے نانا کی اپنی ماما کی یاد دلائیں گئے ۔وہاں ان کے نوجوان ان کے سپاہی بھٹو ازم کی مشن کے سفیران کے ہاتھوں میں ہاتھ دینگے تو چترال کے ان بلند،بالا پہاڑوں سے یہ صد ا گونجے گی، جیئے بھٹو سدا جیئے۔۔

2 Replies to “پڑھنے لکھنے لگ گئے ہو”

  1. حکومت اس میں کوئی فنڈ مختص کرتی ہے تو یہ ان کا فرص ہے اور یہاں کے باشندون کا حق

  2. پانچ ہزار افراد پر مشتمل جماعت اسلامی کا قافلہ عالمی اجتماع میں شرکت کرے گے

Leave a Reply

Your email address will not be published.