Chitral Today
Latest Updates and Breaking News

کھو تہذیب کی رکھوالی

شیرولی خان اسیر

حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کے لیے خبر سننے اور دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ با خبر رہنے کی کوشش میں کوئی نہ کوئی خبر ایسی ملتی ہے کہ اگر صبح کے وقت یہ خبر سنتے ہیں تو سارا دن طبیعت خراب رہتی ہے۔ اگر شام کا وقت ہے تو ساری رات ڈراونے خوابوں میں گزرتی ہے۔ اس لیے ٹی وی، اخبار اور کپیوٹر کھولتے وقت دعا کرتا ہوں کہ خدایا کوئی بری خبر نہ ہو۔

گزشتہ سالوں کے مقابلے میں پیچھلے سال اور موجودہ سال کے شروع میں انسانوں کو بلاوجہ مارنے کی خبریں کم پڑگئی ہیں۔ پھر بھی ہم جیسے زود رنج لوگوں کے لیے بچوں کی بچگانہ حرکتیں بھی بہت بری لگتی ہیں، خاص کرکے جب ہمارے آج کے چند لکھے پڑھے نوجوان اپنے بزرگوں کے منہ پر گستاخیوں کی بوچھاڑ کرتے ہیں تو دل کا خون ہوجاتا ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم چترال کے لوگ اپنی تہذیب سے بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ ہمارے ان “دانشور” جوانوں کے خیال میں ہم بوڑھے لوگ شاید” سٹھیا” گئے ہیں یا “دقیانوسی خیالات” رکھتے ہیں یا کم علمیت رکھتے ہیں یا شاید یہ جنریشن گیپ ہے۔ میرے خیال میں ایسی کوئی بات ہی نہیں بلکہ نئی نسل کے بعض افراد اپنی روایات اور اپنی تہذیب سے بے خبر ہیں۔

وہ ٹی وی ڈراموں، فلموں اور دوسری ثقافتوں سے اثر قبول کر رہے ہیں جس سے ہماری شان دار تہذیب بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ چترال کے لوگوں کی تہذیب ہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ہم نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے کہ جہاں بڑوں کی محفل میں منہ کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے جب تک کہ وہ خود نہ پوچھیں۔ اگر ہمارے بزرگ غلط بات بھی منہ سے نکالتے تو ہم جواب نہیں دیا کرتے۔ بزرگ افراد اگر گفتگو کر رہے ہوں تو ہم بیچ میں بولنے کو غیر شائستہ حرکت سمجھتے تھے۔ ملتے جلتے سلام کرنے میں پہل کرتے۔

راستہ چلتے ہوئے بڑوں سے آگے نکلنے کی گستاخی ہر گز نہیں کیا کرتے۔ محفل میں بیٹھے ہوں تو آنے والے کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوجایا کرتے اور انہیں نشست پیش کیا کرتے۔ کھانے سے پہلے اور بعد میں پہلے بڑوں کے ہاتھ دھلواتے، ان کے سامنے دسترخوان بچھاتے۔ ان کے سامنے کھانا چنتے۔ بس میں سوار ہوں اور کوئی بزرگ کھڑا نظر آئے تو اپنی نشست ان کے لیے خالی کیا کرتے۔ اگر کوئی بوڑھا بقچہ اٹھائے جا رہا ہو تو اس سے لے کر اپنے کندھے پر اٹھایا کرتے۔ گھڑسواری کے دور میں سامنے سے آنے والے کے لیے گھوڑے سے اترنا تہذیب کی نشانی تھا۔ گھوڑے سے اترنے کی بات پر حاکم یارخون لنگر مراد خان مجھے یاد آتے ان کی شہرت تھی کہ کسی کے احترام میں سواری سے اترنے میں کوئی آدمی ان سےپہل نہیں کرسکتا تھا۔ ان کی قدردانی کا یہ حال تھا کہ وہ میرے لیے بھی گھوڑے سے اترتے ہوئے آج بھی میرے تصور میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔

وہ اوقات مجھے اچھی طرح یاد ہیں اور میری شرمندگی ہنوز قائم ہے کیونکہ میں اس وقت نو دس سال کا بچہ تھا۔ مجھے وہ وقت بھی یاد ہے کہ جب میں ان کے گھر گیا تو مجھے سیدھا ان کے خاص کمرے میں لے جایا گیا جہاں حاکم مرحوم اور ان کی بیگم ( سنوغریچی کئے) بیٹھے تھے۔ حاکم نے مجھے اپنی گدی پر بٹھایا اور خود اس جگہہ بیٹھ گئے جہاں مجھے بیٹھنا تھا۔ میں بے حد شرمندہ ہوا تھا۔ میں نے ان کی نشست پر بیٹھنے سے انکار کرنے کی جتنی کوشش کی ناکام رہا۔ ہم نے ایسی ایسی ہستویوں سے تہذیب کا سبق پڑھا تھا۔ اگرچہ ان جیسے نہ بن پائے پھر بھی کسی حد تک ان کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ کھو سوسائیٹی میں اپنے سے عمر میں بڑے افراد کے مقام کا خیال رکھنا ہر دور میں قائم رہا ہے۔ الغرض زندگی کے جملہ معاملات میں “پہلے بزرگ” کا ماٹو ہماری تہذیب و ثقافت کا جزو لاینفک رہا ہے۔ آج جب ہمارے کچھ برخوردار دو لفظ انگریزی یا اردو سیکھ کر اپنے بزرگوں پر ترش الفاظ کے کوڑے برساتے ہوئے ملتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتے جا رہے ہیں۔ جس قوم کو اخلاقی زوال آجائے وہ تباہی سے نہیں بچ سکتی۔

ہمارے بچے اپنی سوسائیٹی کےعمر رسیدہ افراد کے ساتھ ایسا پیش آتے ہیں جیسا کہ مغربی دنیا کی تہذیب میں عام دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر کسی بزرگ نے کسی معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور جو کسی نوجوان کواچھی نہیں لگتی ہے تو وہ برخوردارتہذیب کی ساری حدیں پار کر جاتا ہے۔ وہ اپنے جملے تولے بغیر بول دیتا ہے ۔گویا زہر اگلنے لگتا ہے۔ میرے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جب پندرہ سولہ سال کا لڑکا میرے ساتھ بحث میں الجھ گیا ہو اور ناشائستگی کی انتہا کردی ہو۔ ایک دفعہ سفر کے دوران چمرکھون میں ہماری گاڑی خراب ہوگئی۔ پیچھے سے ایک کوسٹر آگئی۔ میں سوار ہوگیا اور ایک خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک برخوردار آگیا اور میرے کندھے کو چھوتے ہوئے کہا، ‘ یہ میری سیٹ ہے’۔ میں نے کہا، ‘بیٹا دوسری نشست پر بیٹھو، یہ تھوڑی کھلی ہے میرے لیے”۔ اس نےانتہائی بے ادبانہ انداز میں حکم دیا ، “اٹھو میری نشست خالی کردو”۔

میں نے نشست چھوڑ دی اور پیچھے جاکر ایک سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مجھے ایسے بچوں کے ماں باپ اور اساتذہ کی تربیت پر بے حد افسوس ہوتا ہے۔ ہماری اولاد میں غیر مہذب عادتوں کا پیدا ہونا اور فروع پانے میں زیادہ تر والدین اوراساتذہ کی غلط تربیت کا ہاتھ ہے۔ عصر حاضر کے ماں باپ اپنے بچوں کو بے لگام آزادی دیتے ہیں۔ ان کی کسی بری حرکت پر ان کو ٹوکنے کی بجائے ان کی غیر مہذب حرکت کوہنسی مزاق میں اڑادیتے ہیں۔ ان کی دلیل میں بچے کو ٹوکنے سے وہ بزدل ہوجاتا ہے لہذا وہ جائز نا جائز جو حر کت بھی کرے اسے کھلی چھٹی ملنی چاہیے۔۔وہ اپنے بچوں کو اتنا سر پر چڑھاتے ہیں گویا انہوں نے یہ بچے جنم دے کرکوئی ایسا کارنامہ انجام دیا ہو جو ان سے پہلے کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔ یہ بات درست ہے کہ بچوں کو غیر ضروری طور پر ٹوکنے اور دباؤ میں رکھنے سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بچوں کو خود رو جھاڑی کی طرح بڑھنے اور پھیلنے دیں جو آگے جاکر کسی کی آنکھ میں گھس جائے اور کسی کا دامن تار تار کردے۔۔ ہماری تہذیب ہمارے مذہب کے زیر اثر ہے اور مذہب میں سزا اور جزا کا تصور واضح ہے۔ اوامر و نواہی کے احکامات روشن ہیں۔

اس لیے والدین اور اساتذہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے زیر تربیت بچوں کی بری حرکتوں کو پنپنے سے باز رکھیں اور اچھی عادتوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ نجی محفل میں اگر بچہ کوئی گستاخانہ حرکت یا گفتگو کرے بھی تو اسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے لیکن آن لائین اخباروں اور فیس بک میں اس نوعیت کا گستاخانہ طرز گفتگو ہماری موروثی تہذیب وتمدن کو دیمک کی طرح چاٹتا جا رہا ہے اور جو تشویش ناک ہے۔ ۔ ہمارے مدرسوں اور کالجوں کے اساتذہ اور ماں باپ کو اپنی شاندار تہذیب کی رکھوالی کرنی چاہیے اوراسے اپنی اولاد میں منتقل کرنے کی ذمے داری پوری کرنی چاہیےتاکہ ہمارے تہذیبی اور ثقافتی اقدار ہماری نسلوں میں نہ صرف زندہ رہ سکیں بلکہ مزید عمدگی کی طرف گامزن ہو سکیں۔

You might also like
13 Comments
  1. meraj mri says

    واجب العزت سر مجھے اپنی کم فهمی کم علمی په کوئ شک نهیں پر مخترم کیا صرف هم کالموں سے باتوں سے نکل که اپنی نئ نسل کو اس دلدل سے نهیں نکال سکتے ؟ اس کی زمه داری هم خود نهیں لے سکتے نئ نسل کی اس بگاڑ کے زمدار خود نئ نسل هے مخترم میری ناقص راۓ میں نهیں بلکل نهیں اس اخلاقی زوال کا سبب همارے گھر هیں همارے والدیں هیں همارے اسکول هیں ،همارے گھر میں ویسی تربیت همیں نهیں ملتی همارے اسکول میں همیں صرف کتابیں پڑھائ جاتی هیں هماری تربیت نهیں کی جاتی اک بچے کی پهلی تربیت گاه ماں کی گود هوتی هے اس کا گھر هوتا هے آپ نے یقینا دیکھا هوگا بچه بد تمیزی سے پیش آۓ تو هوشیار کا نام دیا جاتا هے پھر جب چلنے پھرنے کے قابل هوتا هے تو سیدھا اسکول میں ڈال دیا جاتا جهاں کورس کی باری باری کتابیں تو پڑھائ جاتی هیں لیکن اخلاقی شعوری تربیت نهیں کی جاتی جتنی توجه هم اپنی اولاد کو ڈاکٹر ، وکیل وعیره وعیره بنانے کے لۓ جتن کرتے هیں اتنا هی اسکی اخلاقی شعوری تربیت سے دور هوتے جا رهے هیں بلکل بجا جناب آپ کا حق هے اپنی اولاد پر جو بھی بناۓ پر آپ کا پهلا حق اس کو سب سے پهلے اک اچھا انسان بنائں اک اچھا انساں نه صرف معاشرے کے لے ملک کے لے کار امد هوتا هے بلکه آپ کے لے بھی باعث فخر هو سکتی هے ……..،…، لیکن مخترم اپنے حصے کی چراغ جلانا چاهیے اور آپ بخوبی جلا رهے هیں الله آپ کو صحت وتندرستی عطا فرمائیں

  2. Sr Khan says

    The “form” will always keep changing, but what remains is the “essence”.

  3. Sher Wali Khan Aseer says

    I am thankful to the learned commentators for their valuable opinions.I haven’t said any thing about banning the youth in expression of their viewpoint or choking their voice.The way or wording need decency.Difference of opinion is always welcomed.The article under discussion contains nearly all the characteristics of Khow Culture regarding respect to elders.Respectfulness never keeps a person behind while competing in worldly progress.
    It is also clear that the article does not blame all our youth.There are young people who possess exemplary Khow character to be really proud of them.

  4. Waqar Ahmed says

    Very well written and an apt analysis meki sab. we are fastly losing our moral values, which once used to be the hallmark of khow culture.
    [Apne markaz se agar dor nikal jauge
    khak hjauge, afsanon me dhal jauge
    Apni mati par chalne ka saleeqa siko
    sang e marmar pr chaloge tu gr jauge]

  5. S. Nazkhan says

    Dear Sir (Aseer)
    First of all let me congratulate you on performing Umrah, but very politely want to complain for not giving us time here in KSA. We wished to have some time from your tight scheduled visit anyway we hope and pray for your next trip with more time.
    The issue you have raised in your beautiful column is of course one of the core issues needs to be addressed. With completely agreeing with your opinion that the young generation is being de-tracked for may be many reasons but we must understand that this generation is also facing tremendous transition difficulties in their lives because during the past decades many dramatic changes cropped up in the human societies in general, in Pakistan in particular and most particularly in our beautiful Chitral valley. I’ll not go into those details rather mention only one example of internet access to a common person and vast use of social media all at a sudden which added further troubles to the youth. Everything flooded in when there was nothing only in one go and no preparations or buffers were considered at any level before opening the skies of knowledge and liberty for an immature youth. Therefore, we must not blame our youth, parents or teachers rather tolerate the situation and wait for the smooth transition of this stormy period.
    If you don’t mind I may give you an example of one of our local household items with utmost respect. (young people must not mind this as well because its only an example).
    In the mid or late spring we set free our bulls in the grazing area uphill. First hours of the first day the animals behave violently with horn in horn fighting and discharging unusual movements. I am sure you have noticed the moment. It takes only few hours when the animals return to normal living with tolerance and co-existence. Human beings possess greater intelligence but as a creature the course of nature remains objectively.
    Let’s consider this critical period for our youth as the first hours of (Raishuan hetaiko anus) and pray that it will be a short span for transition with more knowledge added to our culture leaving behind rude and unwanted behavior and preserve more respect for parents, teachers and elders in our great and cultured society. Ameen

  6. Azeem says

    Aseer Sb nay Kb kaha k aap apnay buzurgoon k mehfil may behra Gunga ho kr betho.Wo to sir apnay bajpan k dawr ka zikr kia hai..Meray Bhai Parents ko conseling daynay say acha hai k unki bachi hui zindagi k kuch lamhat may unko ezat or khedmat do..
    Jo ajeeb ajeeb sawal aap nay puch kr Ustad say wazahat chahi hai, wo tamam irrelevant or out of the context haa. Jo b aap k zehn may aya hai wo pucha hai. Mujhay Jawab do Agar aap ke walid ya Ami norms ko violate karta hai to kia karo gay? Kia ye kaho gay k Walid Muhtaram may Violation nehi karta tum b nahi karo?
    Chitrali saqafat sirf yahi ek point hai k jo respect or care aap apnay maa/Bap ko daytay hoo uska 1/4 to dusroon ko daynay ke zakhmat karo.Baqi aap smajdar haa, acha khasa angrazi likhtay ho khud samjo gay.
    21st century may competition humility or sharafat ko laykr b kar saktay hoo. Ek buzurg ke ezat karnay say kunzehn nehi banjavo gay, k global level pay compete nehi kr sako gay.

    1. Rebel says

      Dosron ko tehzeeb sikhane se pehle khud bhi thora uska muzahira kiya jaye tou talqeen ka koi asar bhi shayad ho. Aap ne jis andaaz mai comment ki hai ic se saaf pta chalta hai k aap kis ko kitni ezat dete hen, aur yehi hamara almia hai, hamen dosron ko talqeen krna tou ata hai mgr wohi kuch practice krna nai ata. In bhai ne jo kuch pucha hai bara valid pucha hai. Hamara buzurgon ne elm aur respect ko confuse kr diya hai. Ye hamari society ka sb se bara misconception hai k maa baap apne bachon se ya society k bare apne se choton se ziada smjdar hote hen.

  7. Chitrali says

    Sir Aseer, we agree that we are losing our social values. Our youth have derailed from the norms of a respectful society. Parents and teachers are mainly responsible for this shrub like untrimmed growth of the youth. Materialistic outlook and collective negligence of the elders along with the penetration of western culture through alien media are the main causes. There should be guidance and counselling not only in schools but also parents should have such counselling sessions. At the same time some questions pinch my mind which may not be deemed as disrespectful on my part. Is it also kho culture to remain silent even to see our elders violating the norms of right and wrong. Should we applaud them when they commit a travesty of justice, decency and moral obligations? Should they follow all the ways of their elders without putting them on the anvil of right and wrong? Should praising each other without any rhyme and reason or in other words ‘you scratch my back, i will scratch yours be part of our counselling sessions? Should differences of opinion be choked on the pretext of indecency or breach of law? If the younger generation is taught to keep calm in the company of elders as your generation was used to, will the youth of 21st century be able to compete at global level? I think the present time has its intricacies, utterly different from the plain living styles of the two or three decades ago. The spirit of time has changed but I cannot disagree with you we must figure out ways to make home in the character of our children, the eternal moral values of self respect, respecting others, humbleness, generosity, sympathy, kindness, truthfullness, justice etc. All this can be possible only when, we as parents and the teachers of our educational institutions, present themselves as practical examples like parents and teachers of your childhood, still the question arises as how to keep our children away from the devastating effects of alien culture propagated through our media. I hope our respectable teacher will throw light on the given points.

  8. Muhammad Jalaluddin Shamil says

    Indeed Sir, You are right. Counselling and guidance for youth in a school setting is as important as teaching Chemistry, Maths, Islamit, Pakistan Affairs or any other subject. Unfortunately, not even a single educational institution in Chitral is having the mentioned portfolio filled. Recently only, AKES Chitral has announced to have the portfolio filled in AKHSS kuragh and Seen Lasht. The students Counselling and Guidance portfolio in a school is very important for a student in Career planning and decision making as well as in developmental and adjustment needs in his/her educational, social, psychological, moral and intellectual spheres. Recently student counselling and guidance has emerged as a full-fledged portfolio in educational institutions globally. to keep pace with the new developments around, each and every educational institution in chitral should pay heed for providing their respective students with the option/ facility of a student counsellor. As parents and Teachers, without being counsciously aware of it are already doing the job of counselling and guidance for students, but a full-fledged seat of a counsellor in an institution would be very effective and fruitful.

  9. Dr.Zubeda Sirang says

    Thank you for highlighting this important issue.
    Sometimes, while reading the online newspapers I feel awkward ( or more precisely, ashamed) to see the comments of our few young writers who, while trying to argue with their elders, cross all their ethical limits. I think, disagreeing with someone’s thought processing is a natural phenomenon but there are more polite ways of expressing than few, rude English words.
    Especially, the public forums ought to be representing our beautiful civilization, bringing good name to us than serving the opposite, I believe.
    I know its kinda difficult/time consuming but the editors also need to look into it,removing the harsh words or replacing them with milder versions if possible so that we can save our beautiful name till the end of the world, InshaAllah.

    1. Sajjad says

      Well said Ma Ispsar , lu deko , lothoro sum mukhatib beko , e thamez e tariqa belek, sabaq retam re tan hush ar nisinian phati azeli, Kyag no posheru royan ghon, e tehzeeb yafta qaum hamush harakat no koi na di tan jam riwayat an pesur, ispa Chetrari Alghanian sar alghani , angrezo sar lot angrez, wa arab o sar ziyad arabi beko koshisha asusi, kash k hush ko c , Chetraro tehzeen ispa atey be talim nan tatan tehzeeb kicha sheli kicha ezatmand oshoy, ispa kya badraqa bosian, kash he luo ki hush koi haya atomic age o azeli

  10. Muhammad Jalaluddin Shamil says

    Sir, you have beautifully depicted the sorry state of affairs in vogue, its repercussions and possible remedial measures to check augmenting of the tumor. It is also true that parents and teachers have significant contribution towards generating the good or/and bad.However, there is another contributing factor and that is the explosion of information. Modern youth,come across plethora of information available in their ‘finger Tips’. Only the skill of pressing a button transports him/her to a world of data and information and that excessive availability of information makes it difficult for a youth to extract and choose wisdom and what is really his/her requirement. This difficulty leads to confusion and ambiguity. hence,modern youth unconsciously and at times consciously lives in a constant state of dis-balance and confusion, not always clear as what to do/say or not to do/say. This perpetual confusion and dis-balance in youth manifests itself in form of indiscipline, aberration from accepted cultural norms, dis-respect for entitled individuals and so on and so forth.The indiscriminate availability of data/ Information, which is the hallmark of our age, has its other disadvantage as well.In one of his speech His Highness the Aga Khan had also cautioned about this explosion of information and urged to try to extract wisdom from that explosion.Otherwise exposure of youth to this ultra-generous availability of data/Information will not only erode away cultural values, but will also result in more serious consequences.As a contemporary great Indian intellectual, a self-realized mystique, and authority on Yoga and Meditation, Sadhguru says that, within the next 5 to 6 decades the incidents of suicide would increase in youths. He further adds that more than 50 percent death on the planet would be the result of suicide. The main reason of that suicidal tendency, acoording to sadhguru, would be the availability of confusing data and information on the net.So, facing difficulty in accommodating the available information, the burden of such information and the ambiguity involved in differentiating between authentic and unauthentic information would make the mind of young people bore and dis-balanced. hence by reaching to the age of 30, many would develop psychological disorders, many would suffer from nervous breakdown, some ending in suicide and the remaining would show rebelliousness towards the society where they live and against their cultural values and norm.The developed world is showing profound signs of all these, our world is also exhibiting symptoms of the same.So, if a youth is in some way a non-conformist, than one of the main factor is the phenomenon of globalization as discussed above.
    However, one should not be be a thorough pessimist about the future, There are ways to tackle these issues if work is undertaken in govt and institution levels. Policy level influence is needed to deal these problem in the long run. Individual level Self-help measures are also recommended by many experts. The techniques called bibliotherapy, and giving time to one’s own self (i.e,meditation to give just one example) are highly recommended by experts to help young people as well as the aged to lead a worthy-life, without being problem to oneself and to others.

    1. Sher Wali Khan Aseer says

      Dear Shamil! You are quite right in your comments. Globalization is also responsible for this deviation from certain cultural values. If we give proper attention to the problem during the early and adolescent period of our children,they can be saved from aberration from their accepted cultural norms and psychological disorder. Our children need continuous guidance and counselling of their parents and teachers from early childhood up to the stage of mental maturity.

Leave a comment

error: Content is protected!!