Moot concludes with pledge to promote native languages & cultures of Chitral
Moot concludes with pledge to promote native languages & cultures of Chitral Read More »
شیرولی خان اسیر یہ ایک چھوٹی سی کہانی ہے سفر سکردو، بلتستان کی، جسے دوستوں کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں۔ میں نہ مستنصر حسین تارڑ ہوں اور نہ چترال کے عنایت اللہ فیضیؔ جو لکھیں تو میٹھاس میں لپٹی ہو۔ کہیں چٹخارے دار تو کہیں شکر ریز، تفصیلات سے لبریز، دانائی میں مغنی خیز، فلسفہ
جب میں نے یاد ماضی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا تھا تو ایک چند دوستوں نے اشاروں کنایوں میں کہا تھا کہ کیا سب کچھ لکھ پاؤگے؟ میں نے کہا تھا کہ جو واقعہ یا تجربہ بھی یاد آئے گا لکھنےمیں کنجوسی نہیں دکھاؤں گا۔ انسان کی زندگی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ
غالباً 1965 تک مڈل سٹنڈرڈ کا امتحانی سنٹر ہائی سکول چترال ہی تھا۔ لوٹکوہ اور سب ڈویژن مستوج کے سارے امیدوار یہاں امتحان دیا کرتے تھے۔یہ 1964 کے فروری کا مہینہ تھا۔ گھر سے چترال روانگی کی تاریخ یاد نہیں آرہی ہے۔ مجھے اتنا یاد ہے کہ 26 فروری کو ہمارا مڈل سٹنڈرڈ کا امتحان
Here is a leaf from how they have embarked on a journey to promote their language in social media. They are curious and have found some similarity between their own language and Pashto. We endorse it and apprise them of relation that Pashto and Yidgha both are Indo-Aryan and belong to the same family.–Ejaz Ahmed