Bashir Hussain Azad
Chitral, July 21, 2026: A complete shutter-down strike was observed by traders in Chitral Lower and Upper on Tuesday against the proposed imposition of taxes in Malakand Division.
All major markets, shopping centres and business establishments remained closed throughout the day, bringing commercial activity to a complete halt.
The strike also received broad public support. All banks, including the state owned National Bank of Pakistan, remained closed in solidarity with the protest. Most medical stores also suspended operations, except those located on Hospital Road, leaving markets unusually deserted.
Representatives of various trader bodies, business associations and civil society organizations urged the government to retain the constitutional and legal tax exemption granted to Malakand Division and immediately withdraw the proposed taxes.
They said the people of the region were already struggling with unemployment, rising inflation and economic hardship, warning that the imposition of new taxes would further worsen their financial situation.
The protesting traders warned that if the government failed to address their demands, the protest movement would be expanded across Khyber Pakhtunkhwa, holding the authorities responsible for any consequences.



چترالیوں پر ٹیکس لگنا چاہیے۔ جی ہاں، ہر حال میں لگنا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ٹیکس کس پر لگے اور کیوں لگے؟ اس لیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ چترال میں دولت کے اصل مراکز کا پتا چلے۔ اب صرف اس آدمی کی جیب تلاش کرنا بند ہونا چاہیے جس کی آمدنی سب کو نظر آتی ہے، اور ان جیبوں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں برسوں سے دولت نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ٹیکس لگے گا تو شاید پہلی بار معلوم ہوگا کہ چترال میں اصل مالدار کون ہیں اور دولت کے یہ دریا کہاں سے بہہ رہے ہیں۔
سب سے پہلے ٹمبر مافیا کا حساب ہونا چاہیے۔ جنگلات نے صدیوں تک چترال کو سایہ، پانی اور زندگی دی، مگر کچھ لوگوں نے انہی جنگلات کو دولت بنانے کی مشین سمجھ لیا۔ درخت کم ہوتے گئے اور کچھ اکاؤنٹس موٹے ہوتے گئے۔ اگر لکڑی کے کاروبار میں دولت کے پہاڑ کھڑے ہوئے ہیں تو پھر ٹیکس کے ذریعے ان پہاڑوں کی اونچائی بھی ناپنی چاہیے۔
ہوٹل مافیا بھی اس حساب سے باہر نہیں رہ سکتا۔ چترال کی خوبصورتی قدرت کا تحفہ ہے، کسی فرد کی ذاتی جاگیر نہیں۔ سیاحت نے بہت لوگوں کو خوشحال کیا، جو اچھی بات ہے، مگر جب چند لوگ اس شعبے سے بے حساب دولت بنانے لگیں تو ریاست کو بھی اپنا حصہ مانگنا چاہیے۔ پہاڑ سب کے ہیں، لیکن منافع صرف چند لوگوں کا کیوں؟
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی کئی لوگوں نے خوب کمائی کی ہے۔ گاڑیاں چلتی رہیں، مسافر سفر کرتے رہے، اور کچھ لوگوں کی دولت بھی رفتار پکڑتی رہی۔ کاروبار کرنا جرم نہیں، مگر کاروبار کو ریاستی ذمہ داری سے آزاد سمجھنا بھی درست نہیں۔
پٹرول پمپ مافیا کا ذکر بھی ضروری ہے۔ پٹرول ایسی چیز ہے جس کے بغیر آج کی زندگی کا پہیہ نہیں گھومتا۔ جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر ہر گھر، ہر دکان اور ہر مزدور کی جیب تک پہنچتا ہے۔ اگر کہیں ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری یا عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کا کھیل چل رہا ہے تو پھر ان پٹرول پمپ مالکان سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ عوام کی گاڑیوں میں ایندھن بھرنے والوں کو عوام کی جیبیں خالی کرنے کا اختیار نہیں مل سکتا۔
اب ایک نیا میدان بھی سامنے آ رہا ہے — کان کنی۔ پہاڑوں کے اندر چھپے خزانے اب کئی لوگوں کی نظروں میں آ چکے ہیں۔ معدنیات کے نام پر اگر نئی دولت پیدا ہو رہی ہے تو اس کا حساب بھی ہونا چاہیے۔ پہاڑ صرف چند کمپنیوں یا طاقتور لوگوں کے لیے نہیں، یہ علاقے کے لوگوں کی امانت ہیں۔ زمین سے دولت نکالنے والوں کو زمین کے لوگوں کا حق بھی یاد رکھنا ہوگا۔
وکلا حضرات بھی اس قومی ذمہ داری سے باہر نہیں ہونے چاہییں۔ قانون کے محافظ اگر معاشرے میں اپنا مقام رکھتے ہیں تو انہیں ریاستی نظام میں اپنا حصہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ کچھ پیشہ ور افراد نے اپنی مہارت سے بہت دولت کمائی ہے، اب وقت ہے کہ وہ بھی اپنے حصے کا حساب دیں۔
ڈاکٹرز، کلینک مالکان اور دوا ساز ادارے بھی اسی دائرے میں آتے ہیں۔ صحت ایک مقدس شعبہ ہے، مگر مقدس ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ احتساب سے بالاتر ہو جائے۔ جب ایک عام مریض علاج کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرتا ہے تو بڑے طبی کاروباروں کی آمدنیوں کا شفاف حساب بھی ضروری ہے۔
نجی اسکولوں کا معاملہ بھی کسی سے چھپا نہیں۔ تعلیم کے نام پر بڑھتی ہوئی فیسوں نے والدین کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگر تعلیم کاروبار ہے تو کاروبار کے اصول بھی لاگو ہوں گے، اور اگر خدمت ہے تو پھر منافع کی حد بھی واضح ہونی چاہیے۔
اور ہمارے سیاست دان؟ ان کا حساب تو سب سے پہلے ہونا چاہیے۔ کچھ لوگ سیاست میں آنے سے پہلے عام حیثیت رکھتے تھے، مگر اقتدار کے راستے پر چلتے چلتے دولت کے ایسے دروازے کھل گئے جن کی چابیاں آج تک عوام کو نہیں ملیں۔ عوام کے ووٹ سے طاقت لینے والوں کو اپنی دولت کا حساب بھی عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔
پھر وہ لوگ بھی ہیں جو بڑے شہروں میں کماتے ہیں، مگر ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنی دولت مختلف جگہوں پر چھپا لیتے ہیں۔ اگر چترال کے بینکوں میں بڑی رقوم رکھی گئی ہیں تو یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور کس حساب سے آئی۔
بازار کے تاجروں کا بھی ذکر ضروری ہے۔ تجارت عزت کا پیشہ ہے، مگر عوام کی مجبوری کو منافع کا آسان راستہ بنا لینا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اگر عام آدمی ہر خریداری پر قیمت ادا کرتا ہے تو بڑے منافع کمانے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
بات بہت سیدھی ہے: ٹیکس لگے، ضرور لگے۔ مگر ایسا ٹیکس جو صرف کمزور کو نہ پکڑے، بلکہ طاقتور کے دروازے پر بھی دستک دے۔ چترال میں اب صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ کون ٹیکس دے گا۔ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ اب تک کون کون بچتا رہا؟ کیونکہ اصل مسئلہ ٹیکس نہیں، اصل مسئلہ وہ دولت ہے جس کا حساب آج تک کسی نے نہیں مانگا۔