مستوج بروغل روڈ ردی کی ٹوکری میں


شیر ولی خان اسیر

اس تحریک میں میری کوئی شمولیت نہیں تھی۔ جب کوئی ڈھائی تین سال پہلے تحریک مستوج بروغل روڈ کا آغاز ہوا تھا، کیونکہ اس تحریک کے کرتا دھرتا مقامی سیاسی لوگ تھے، اور سیاست سے مجھے نفرت ہے (سچی سیاست اور سچے سیاستدانوں سے معافی چاہتا ہوں)۔ میں اپنی 78 سالہ زندگی کے دوران اپنے ملک کی سیاست سے کوئی اجتماعی قومی فائدہ ہوتے نہیں دیکھا، بلکہ ملک کا بٹوارہ، رشتوں کا بٹوارہ، ملکی اتحاد کا بٹوارہ ہی دیکھا ہے۔ میرے اس نظریے پر میرے جمہوری دوست سیخ پا ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے جذبات کا بھی احترام ہے۔

ڈیڑھ دو سال پہلے یارخون کے سب سے بڑے اور تاریخی گاؤں بریپ میں “تحریک مستوج بروغل روڈ” کا بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ میرے عزیز شاگرد میر رحیم خان آف بریپ، عزیزم احمد محمد علی آف چپاڑی اور سبحان الدین آف میراگرام 2 میرے گھر آئے اور مجھے اس جلسے میں شرکت کی درخواست کی۔ میں ان عزیزوں کی درخواست کو نہیں ٹال سکا اور اس جلسے میں شریک ہوا۔ مجھے عزت دی گئی۔ اس جلسے کا واحد ایجنڈا مستوج بروغل روڈ تھا۔ اجلاس کی صدارت پی ٹی آئی کے ضلعی صدر شہزادہ اسکندر الملک نے کی، جبکہ راقم الحروف کو خصوصی مہمان کی نشست پر بٹھا کر عزت افزائی کی گئی۔

جوان اور بزرگ حضرات نے تقریریں کیں، اور ہر ایک نے اپنی گوناگوں مشکلات کا ذکر کرنے کے بعد صرف اور صرف روڈ کا مطالبہ کیا، کیونکہ سب کے نزدیک علاقے کی پسماندگی کی بہت بڑی وجہ کشادہ پکی سڑک کی عدم موجودگی تھی اور ہے۔ میرے عزیز شاگرد منیجر (ر) سید جمال شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے استعفیٰ دینا ہوگا، ورنہ ہم میں اتفاق نہیں ہو سکتا، اور اتفاق کے بغیر اپنا مطالبہ نہیں منوا سکتے۔

میں نے اپنی گفتگو کی باری آنے پر جمال شاہ کی تجویز کی بھرپور حمایت کی۔ مجھے معلوم تھا ہماری دیہی سیاست اس تحریک کا گلہ گھونٹ دے گی۔ اس جلسے کے بعد تحریک کی قیادت بدل گئی۔ سابقہ صدر نے اپنے لیے ملازمت پیدا کرائی۔ تحریک کا دوسرا اجلاس بانگ میں ہوا۔ اس اجلاس میں بھی ہم سب نے وہی “روڈ صرف روڈ” کا مطالبہ دھرایا۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بوگس پی سی ون کی نقل ہمیں دکھا کر ٹرخایا گیا۔ نئی قیادت نے اپنی سی کوشش جاری رکھی، ساتھ ساتھ تحریک کے اندر سیاست بھی جاری رہی، جس نے اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ اس وجہ سے میں نے اپنے آپ کو اس تحریک سے الگ کر لیا۔

ہمارا صوبائی بجٹ 2026-27 آیا تو پتہ چلا کہ مستوج بروغل کے عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے، نہ ان کی تحریک کا کوئی وزن ہے۔ قومی بجٹ میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ یہ لوگ کسی قطار شمار میں نہیں آتے ہیں۔ یہ لوگ کسی بھی بنیادی جمہوری حق کے حقدار نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ہم مٹھی بھر عوام پی ٹی آئی، پی پی پی، پی ایم ایل این، جے آئی، جے یو آئی اور اے این پی وغیرہ پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم بوقت ضرورت ان کے ووٹوں میں اضافہ کرکے ان کو جتوائیں گے۔

اس کے بعد وہ ہمیں بھول جائیں گے اور مقامی لیڈر بہت معمولی ذاتی فائدے حاصل کرکے خوش رہیں گے۔ یہ ہے ہماری اوقات! جو پاکستان کے حساس ترین سرحد کے باشندے ہیں اور ماضی میں ان کے آبا و اجداد اس وادی اور چترال کی حفاظت میں اپنا تاریخی کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ان کی اولاد پاکستان کے وفادار ترین اور پر امن ترین شہری ہیں۔ پاکستان بننے کے 79 برس گزرنے کے باوجود یہ سڑک جیسی بنیادی حق سے محروم ہیں۔ ان کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کس مذہب اور ملکی آئین میں جائز ہے؟ ہمارے قومی نمائندے اس کا جواب دیں۔


1 thought on “مستوج بروغل روڈ ردی کی ٹوکری میں”

  1. “سیاست سے نفرت”—یہ پاکستان کا سب سے کامیاب سیاسی نعرہ ہے۔ ہر ناکام تحریک کے بعد ایک بزرگ ضرور مل جاتا ہے جو اعلان کرتا ہے کہ “میرا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔” پھر وہ اگلے بارہ سو الفاظ میں ثابت کرتا ہے کہ اس سے زیادہ تعلق شاید کسی کا نہیں تھا۔
    شیر ولی خان اسیر صاحب کی تحریر بھی اسی قومی روایت کا تازہ شاہکار ہے۔ پہلے خود کو سیاست سے پاک صاف قرار دیا جاتا ہے، پھر آدھا مضمون سیاستدانوں، سیاسی جماعتوں، سیاسی فیصلوں اور سیاسی قیادت پر صرف کر دیا جاتا ہے۔ یعنی سیاست سے اتنی نفرت ہے کہ صبح کا ناشتہ بھی اسی کے نام پر کرتے ہیں۔
    صاحب فرماتے ہیں کہ سیاست نے ملک کو تقسیم کیا۔
    کیا واقعی؟ گویا 79 سال کی تمام ناکامیوں کا واحد مجرم سیاست ہے، اور باقی سب فرشتے تھے۔ بیوروکریسی معصوم، ریاستی منصوبہ بندی معصوم، ادارہ جاتی نااہلی معصوم، مقامی اشرافیہ معصوم، اور عوام بھی معصوم۔ بس ایک بےچاری سیاست ملی تھی، اسے پھانسی دے دی۔

    یہ ایسا ہی تجزیہ ہے جیسے کوئی ڈاکٹر ہر بیماری کا علاج “گرمی سردی” بتا کر فیس وصول کر لے۔
    پھر ایک عجیب اخلاقی برتری کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ سیاست سے نفرت بھی ہے، مگر جلسے میں خصوصی مہمان کی کرسی بھی قبول ہے۔ تقریر بھی کرنی ہے، تجاویز بھی دینی ہیں، قیادت پر تبصرہ بھی کرنا ہے، اور آخر میں کہنا بھی ہے کہ “میں تو اس تحریک سے الگ تھا۔” واہ!
    یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے کوئی کرکٹ میچ کے بعد کہے: میں تو ٹیم کا حصہ نہیں تھا، بس اوپننگ بھی میں نے کی، کپتانی پر مشورہ بھی دیا، اور ڈریسنگ روم میں بھی بیٹھا رہا۔
    پھر وہ لازوال جملہ آتا ہے کہ “ہماری کوئی حیثیت نہیں۔” حیثیت؟ جناب، حیثیت فیس بک پر نوحہ لکھنے سے نہیں بنتی۔ حیثیت اس دن بنتی ہے جب لوگ جذباتی تقاریر کے بجائے منظم دباؤ پیدا کرتے ہیں، جب تحریک شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ بن جاتی ہے، جب ہر اختلاف کو غداری اور ہر تنقید کو سازش کہنا بند کیا جاتا ہے۔
    لیکن ہمارے ہاں ہر ناکام تحریک کا پوسٹ مارٹم ایسے ہوتا ہے جیسے اصل لاش سڑک نہیں، سیاست ہو۔ پھر مقامی لیڈروں پر طنز ہے کہ وہ ذاتی فائدے لے کر خوش ہو گئے۔ ممکن ہے۔
    مگر یہ سوال کون پوچھے گا کہ وہ لیڈر پیدا کس معاشرے نے کیے؟ مریخ سے درآمد ہوئے تھے یا اسی جلسے کی پہلی صف میں بیٹھے تھے جہاں ہر تقریر کے بعد تالیاں بج رہی تھیں؟
    ہمیں ہر بار ایک ولن چاہیے ہوتا ہے تاکہ آئینے سے نظریں نہ ملانی پڑیں۔
    اور آخر میں وہی جذباتی کارتوس: “ہمارے آباؤ اجداد نے سرحدوں کی حفاظت کی۔” بالکل کی۔ مگر ریاست ترقیاتی منصوبے خاندانی شجروں پر نہیں، سیاسی ترجیحات، بجٹ اور عوامی دباؤ پر دیتی ہے۔ اگر صرف وفاداری سے سڑکیں بنتیں تو پاکستان کا ہر دور افتادہ گاؤں موٹروے کے کنارے ہوتا۔
    اصل المیہ مستوج بروغل روڈ نہیں۔ اصل المیہ یہ ذہنیت ہے جو ہر ناکامی کے بعد فلسفہ گھڑ لیتی ہے تاکہ ذمہ داری سے جان چھوٹ جائے۔ ہم سیاست کو گالی دیتے ہیں، مگر سیاست سے ترقی چاہتے ہیں۔ ہم قیادت کو برا کہتے ہیں، مگر قیادت خود نہیں کرتے۔ ہم تنظیم سے بھاگتے ہیں، پھر شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری آواز کمزور کیوں ہے۔
    اور جب سب ناکام ہو جائے تو ایک جذباتی مضمون لکھ کر سمجھتے ہیں کہ تاریخ نے ہمارا مؤقف ریکارڈ کر لیا۔ تاریخ مؤقف نہیں، نتائج لکھتی ہے۔ اور نتائج کا ایک بے رحم اصول ہے: جو قومیں سیاست کو گالی بنا دیتی ہیں، ان کے مسائل پھر ہمیشہ تقریروں میں زندہ رہتے ہیں، سڑکوں پر نہیں۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest