faizi

مولانا حبیب اللہ یفتالی

داد بیداد

ڈاکٹر عنایت اللّٰہ فیضی

عربی میں مشہور مقولہ ہے، ”موت العالم موت العالم”، ایک عالم کی جدائی پوری دنیا کی جدائی کے برابر ہوتی ہے۔ مولانا حبیب اللہ یفتالی کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر میں نے ان کی سادگی، سادہ لوحی، بیباکی اور سچائی پر غور کیا تو ان کی 76 سالہ زندگی کا نقشہ کسی عکس کی طرح میری نظروں کے سامنے آ گیا۔ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال سے گلگت کے راستے پشاور، نوشہرہ، راولپنڈی اور کراچی میں حصول علم کی طویل جدوجہد، پھر اس علم سے مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا مسلسل سفر اور اعلائے کلمتہ الحق کا علم بلند رکھنے کا عزم، ان کی حیات مستعار کے تین دائرے تھے۔

مولانا حبیب اللہ یفتالی نے خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال کی وادی لاسپور کے آخری گاؤں سور لاسپور میں لگا شیرے قبیلے کے صوفی تاج الدین کے ہاں 1950 میں آنکھ کھولی۔ یہ گاؤں کمراٹ دیر، کالام سوات اور غذر گلگت کو جانے والے پہاڑی راستوں کے سنگم پر واقع ہے۔ ان کے باپ کا بشقار گول کے درے سے ہو کر کالام سوات بھی آنا جانا تھا، شندور کے درے سے ہو کر غذر گلگت بھی آنا جانا تھا۔ 8 سال کی عمر میں باپ نے ان کو دینی تعلیم کے لئے گلاپور گلگت کے مدرسے میں داخل کیا۔ وہاں یاسین کے قربان اور ہیر کوش کے حمایت الحق آپ کے ہم جماعت تھے۔ انہوں نے ابتدائی کتابیں پڑھنے کے بعد واپس چترال کا رخ کیا۔ دارالعلوم ربانیہ دروش، دارالعلوم سرحد اور جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں چند کتابیں پڑھنے کے بعد کراچی کے لئے رخت سفر باندھا۔ دارالعلوم کراچی کورنگی ٹاؤن میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے زیر سایہ چند سال تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا حبیب اللہ یفتالی کو کراچی کی مرطوب ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ اپنے استاد گرامی مولانا ظاہر شاہ کی رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے راولپنڈی کے مولانا غلام اللہ خان کے سامنے زانوے تلمذ تہیہ کیا۔ دورہ اول اور دورہ آخر کی تکمیل کے بعد مولانا غلام اللہ خان کے دست مبارک سے دستار فضیلت حاصل کی۔ ان کو عمر بھر اس بات پر فخر تھا کہ مجھے حدیث کی سند مولدنا غلام اللہ خان سے ملی ہے۔ یہ اس سند کا اعجاز تھا کہ آپ نے عملی زندگی میں عقیدہ توحید کا علم بلند کیے رکھا، ختم نبوت کے عقیدے کا ہر جگہ دفاع کیا، شرک اور بدعتوں کی تمام صورتوں کے خلاف شمشیر بےنیام بن کر جہاد کیا، اور اس حال میں اللہ پاک کے حضور میں حاضر ہوا کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں تھا۔

عملی زندگی میں آپ نے تدریس، خطابت اور امامت کے شعبوں میں دین کی خدمت کی۔ سند فراٖغ حاصل کرنے کے بعد آپ کو ایک ساتھ تین جگہوں سے ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ پاک فوج میں نائب خطیب، محکمہ جیل خانہ جات میں مدرس، پیش نماز (امام) اور محکمہ تعلیم معلم دینیات کے تین مواقع ہاتھ آنے کے بعد آپ نے معلم دینیات بننے کو ترجیح دی۔ ملازمت کے ابتدائی چند سال گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 پشاور شہر میں گذارے۔ اس اثناء میں بازار کریم پورہ کی قدیمی مسجد میں امامت اور خطابات کے فرائض انجام دیے۔ پھر آپ کی تبدیلی اپنے گاؤں سور لاسپور ضلع چترال میں ہوئی۔

2014ء میں آپ نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ ریٹائرمنٹ کے 12 سال بعد اجل کا بلا واآیا تو لبیک کہہ کر ابدی حیات کا راستہ اختیار کیا۔ آپ کی وفات کی خبر آئی تو شاہی مسجد چترال میں جمیتہ العلمائے اسلام لوئر چترال کے امیراور سابق ایم پی اے مولانا عبد الرحمن نے علماء کی مجلس میں فاتحہ خوانی کروائی اور آپ کی دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

اپر چترال کی وادی لاسپور 7 دیہات کی 15000 آبادی کا علاقہ ہے۔ اس علاقے میں مولانا حبیب اللہ یفتالی کو پہلے سند یافتہ عالم ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ آپ سے پہلے بے شمار علماء گذرے، مگر کسی ایک نے بھی فنون اور فقہی مسائل سے آگے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ ان کی اکثریت نے گلاپور کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔ مولانا امیر خان المعروف درزی استاد پشاور شہر کی نمک منڈی میں تالاب والی مسجد (تالاؤ جمات) میں مولانا اورنگ زیب المعروف تبرگئے استاد کے ہم جماعت تھے۔

مولانا حبیب اللہ یفتالی نے گاؤں آنے کے بعد کئی رسوم اور بدعات کا خاتمہ کیا۔ سور لاسپور میں انگریزوں کے ڈاک بنگلے سے متصل ناصر الملک کی بنائی ہوئی چھوٹی مسجد کو توسیع دے کر جامع مسجد رحمانیہ قائم کر کے گاؤں کی 5 دیگر مساجد کے نمازیوں کو جمعہ اور عیدین کے لئے یکجا ہونے کا موقع فراہم کیا اور پہلی بار گاوں میں اسلامی مدرسہ قائم کیا۔

آپ خوش آواز اور خوش لباس تھے۔ 6 فٹ قد تھا، سرخ و سفید چہرہ اس پر خوب سجتا تھا۔ تقریر اور نماز میں تلاوت کرتے تو سامعین پر وجد کی کیفیت طاری ہوتی تھی۔ عام گفتگو میں لطیف اور پُر بہار ظرافت سے کام لیکر دوستوں کو محفوظ کیا کرتے تھے۔ بڑے بھائی صوبیدار سرفراز شاہ کے ساتھ خوش طبعی کرتے تو مزہ آتا تھا۔ مہمان نوازی میں سب کو مات دیتے۔ دوسروں کے مہمان ہوتے تو پہلے گوشت کے بارے میں پوچھتے، لحماً طریا ہے یا لحماً شکیہ ہے؟

پشاور میں قیام کے دوران ماہنامہ جمہور اسلام میں دینی اور اصلاحی موضوعات پر مولوی حبیب اللہ یفتالی کے نام سے ہلکے پھلکے مضامین بھی چھپواتے تھے۔ اللہ پاک ان کی روح کو اگلے جہاں میں دائمی راحت اور سکون نصیب کرے اور ان کے خاندان کو شاد و آباد رکھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest