bashir

ایک کتاب کی رونمائی

مکتوب چترال

بشیر حسین آزاد

چترال پریس کلب اپنے آراستہ و پیراستہ ہال اور ٹیلیویژن سٹوڈیو کی وجہ سے لوئر چترال کے بیڈ کوارٹر میں ادبی، سیاسی، ثقافتی اور سماجی تقریبات کا مرکز بن چکا ہے۔ ایسی ہی تقریب ایک کتاب کی رونمائی کے لئے چترال پریس کلب میں منعقد ہوئی۔ کتاب کھوار زبان میں تھی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے اٹلی، سپین اور قطر کا سفر کیا تو ایک ساتھ دو الگ الگ سفرنامے دو زبانوں میں لکھے۔ اردو سفر نامے کا نام “وسعت صحرا” تھا، جسے فینکس پبلشرز نے اسلام آباد سے شائع کیا۔ کھوار سفر نامہ سئیل دویو ادبی تنظیم مئیر کے زیر اہتمام چترال پرنٹنگ پریس نے پشاور سے حال ہی میں شائع کیا۔ پروفیسر ممتاز حسین نے تقریب کی صدارت کی، ڈی پی او چترال لوئر محمدخالد خان تمغہ شجاعت، تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، امتياز الدین نے کمپئرنگ کی، محکم الدین محکم نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔

چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب کتاب کے پبلشر ادبی تنظیم مئیر اور چترال پریس کلب کے اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے سئیل دویو کو چترال کی زبان کھوار کے سفرناموں میں پہلا سفرنامہ قرار دیا اور امید ظاہر کی ہے کہ دوسرے سفرنامے بھی عنقریب منظرِ عام پر آئیں گے۔

ادبی تنظیم مئیر کے صدر فرید احمد رضا نے تنظیم کی 16 سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم نے کھوار کے نثری ادب کی ترویج واشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اب تک سالانہ کیلنڈر میں کھوار مخصوص مہنیوں کے 34 نام محفوظ کیے گئے ہیں۔ 12 نام کیلنڈر کے اندر اور 22 نام حاشیہ میں لائے گئے۔ کھوار کا پہلا ناول انگریستانو، مبارک خان کا کلام غزینہ اور کھوار کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ فریدہ سلطانہ فری کا مجموعہ کلام ژنو دشمن پہلے شائع ہوچکی ہیں۔ سئیل دویو چوتھی کتاب ہے۔ ہم نے کھوارنامہ نام سے شش ماہی مجلہ بھی جاری کیا، جس میں صرف نثر پارے شائع ہوتے ہیں۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے صالح ولی آزاد نے سئیل دویو کو افسانوی اسلوب میں منفرد اور دلچسپ سفرنامہ قرار دیا۔ کتاب سے مثالیں پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھوار زبان کے بھلائے ہوئے الفاظ، تراکیب، محاوارت کو کتاب میں محفوظ کیا گیا ہے اور اس کا روزمرہ بھی ٹکسالی کھوار کا نمونہ ہے۔ نثر میں شاعری کی عمدہ مثال ہے، گویا مصنف پر مصرعوں کی جگہ جملوں کی آمد ہوتی ہے۔ تاہم، انہوں نے کتاب کے مختصر ہونے کا گلہ کیا۔

صفی اللہ آصفی نے کتاب کے اسلوب اور نثری ہئیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے مابعد جدیدیت کے اسالیب کی روشنی میں سفرنامے پر جامع تبصرہ کیا۔ پروفیسر ظہور الحق دانش نے فن تنقید کی معروف اصطلاح سٹریم آف کانشس نس (Stream of Consciousness)، شعور کی رو، کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے تبصرے کا نام “خیال رو” رکھا تھا۔ انہوں نے کہا، مصنف، روم، فلورنس، غرناطہ، قرطبہ، مالاگا اور دوحہ میں سیر کرتے ہوئے اپنے مشاہدات اور تجربات کو ہزاروں میل دور اور اپنے گاوں کے پیمانے پر ناپتا ہے۔ بات یورپ اور خلیجی ریاست کی ہو رہی ہے، مگر ضرب المثل، گیت اور برجستہ اشعار آرہے ہیں۔ یہ خیال کی رو یا شعور کی رو ہے، جو انگریزی ادب میں نمایان، اردو میں سجاد ظہیر کا ناول لندن کی ایک رات اس کا پہلا نمونہ تھا، جو 1938 میں شائع ہوا۔ انہوں نے کتاب سے منتخب اقتباسات بھی سنائے۔

سینئر ادیب، شاعر اور محقق محمد عرفان نے ماحولیاتی تناظر میں کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شمال میں ہندوکش اور ہندوراج کے دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع وادی لاسپور سے نکل کر اطالیہ کے پہاڑی سلسلہ ڈولومایٹ، بحر احمر، اندلس، غرناطہ، قرطبہ، وادی الکبیر اور علامہ اقبال، شیخ سعدی اور میرزا محمد سیر کے فکری سلسلوں کو جوڑتا ہے۔ مسجد قرطبہ، اندلس اور مسلم ہسپانیہ کی خوشبوں میں بسی ہوئی کتاب ہمارے ہاتھوں میں تھمایاہے۔

مولانا خلیق الزمان نے کھوار تحریر کی ابتدا کا ذکر ہفت روزہ تریچمیر چترال سے شروع کرکے موجودہ دور تک لایا اور مصنف کو مبارک باد دی۔ مصنف ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے ادبی تنظیم مئیر، چترال پریس کلب، مہمان خصوصی اور صدر مجلس اور مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ مہمان خصوصی محمد خالد خان پی اس پی نے مصنف کے ہمراہ اپنے ایک سفر کا احوال سنا کر سامعین سے داد حاصل کی۔ انہوں نے کتاب کو کھوار ادب کے ذخیرے میں انمول اضافہ قرار دیا۔

صدر مجلس پروفیسر ممتاز حسین نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ موجودہ دور اختصار کا دور ہے۔ کتاب بھی سوشل میڈیا کے پیغام کی طرح مختصر ہونا چاہیے۔ کتاب ختم ہو، تشنگی باقی رہے؛ کتاب کی خوبی یہ ہوتی ہے، اور سئیل دویو اس معیار پر پوری اترتی ہے۔

دعا، ریفریشمنٹ اور گروپ فوٹو کے ساتھ تقریب اختتام کو پہنچی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest