ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی
زمین کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے۔ ماحول کے بنیادی عناصر، مٹی، پانی اور ہوا، کا زمین سے گہرا تعلق ہے۔ جہاں بھی ماحول کے تحفظ اور پائیدار ترقی کا ذکر آتا ہے، وہاں دھرتی ماں ہی یاد آتی ہے۔
یونیورسٹی آف چترال میں پائیدار ترقی اور ابھرنے والے معاشرے کی خصوصیات اور پاکستان میں دونوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کے موضوع پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تو ایسا محسوس ہوا کہ دانشوروں کو دھرتی ماں کی یاد ستا رہی ہے اور سب اس فکر میں ہیں کہ عالمی حدت اور موسمیاتی تغیر کے موجودہ بحرانی دور میں دھرتی ماں کو کس طرح تحفظ دے کر پہلے سے بہتر حالت میں آنے والی نسل کو منتقل کیا جائے۔
کانفرنس کا عنوان ’’پائیدار ترقی اور ابھرتا ہوا معاشرہ‘‘ تھا۔ یہ عنوان دو الفاظ، پائیداری اور لچک پذیری، کے گرد گھومتا تھا۔ مہمانِ خصوصی مظفرآباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے دونوں تصورات کو یکجا کرکے بصیرت افروز خطاب کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ترقی کے نام پر ماحول کے عناصر، مٹی، پانی اور ہوا، کو آلودہ نہ کیا جائے تو یہ پائیدار ترقی کہلائے گی۔ پائیداری کے فلسفے میں ترقی کہلائے گی۔ ابھرنے کی صلاحیت کیا ہے؟ یہ اقبال کے فلسفۂ خودی، رومی کے فلسفۂ انسانِ کامل اور خوشحال خان خٹک کے فلسفۂ حریت کی تشریح ہے۔ بندہ گرنا قبول نہ کرے، گرنے کے بعد ابھرے اور گرتے ابھرتے اپنی شناخت اور پہچان کو برقرار رکھے، اپنی مٹی سے جڑا رہے اور دھرتی ماں سے چمٹا رہے تو یہی ابھرنے کی صلاحیت ہے۔
’’مجھے کرک پر فخر ہے، تمہیں چترال پر فخر ہے۔ ہم دونوں ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم دونوں خود کو گرنے نہیں دیں گے، ہم دونوں ابھرتے رہیں گے۔‘‘
آج کے بحرانی دور میں پائیدار ترقی اور ابھرنے کی صلاحیت پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرکے چترال یونیورسٹی نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔
ڈاکٹر ناصر جمال خٹک کے خطاب کے دوران بار بار آڈیٹوریم تالیوں سے گونجتا رہا۔ گویا انہوں نے لوگوں کے اندر نئی روح پھونک دی اور انہیں اپنے جذبے اور ولولے سے سرشار کردیا۔
تین روزہ کانفرنس کی مختلف نشستوں میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے سات محققین نے مقالے پیش کیے، ملک بھر سے 12 دانشوروں نے تحقیقی مقالے پڑھے، جبکہ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے 51 مقالات پیش کیے۔ اس طرح 70 مقالوں میں سب سے زیادہ شرکت یونیورسٹی کی تھی، جو بے حد خوش آئند امر ہے۔
کانفرنس کے موضوع کو مزید دس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا گیا تھا، جو پائیدار ترقی اور ابھرتے ہوئے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مثلاً ’’پائیدار ترقی اور موسمیاتی تغیر‘‘، ’’پائیدار ترقی کے لیے تعلیم کے تقاضے‘‘، ’’سیاحت اور پائیدار ترقی‘‘، ’’موسمیاتی تغیر اور لوک ورثہ‘‘، ’’موسمیاتی تغیر اور بنیادی ڈھانچہ‘‘، ’’موسمیاتی تغیر اور حیاتیاتی تنوع‘‘، ’’پائیدار ترقی اور انسانی وسائل‘‘ اور ’’پائیدار ترقی اور کاروبار کا فروغ‘‘ وغیرہ۔
اسلامی مالیات اور پائیدار ترقی پر ڈاکٹر ارشاد علی یفتانی نے مقالہ پیش کیا، جبکہ سمرینہ اور محسن حیات نے لوک گیت ’’غور و‘‘ پر مقالہ پڑھا۔
ارشاد علی یفتانی کا تحقیقی مقالہ بہت دلچسپ تھا۔ اسی طرح علی اکبر قاضی نے یوگینڈا سے آن لائن مقالہ پیش کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے عالمی اور مقامی تقاضوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ عالمی تصور کہتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک ہی دائرے میں واقع ہیں اور دونوں کے درمیان ہمسایوں جیسے تعلقات ہونے چاہئیں۔ مقامی تصور یہ بنتا ہے کہ چترال کے لوگوں کو تاجکستان اور افغانستان جیسے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ تجارت کی آزادی نہیں، بروغل، دوراہ اور اراندو کے تینوں دروں سے آمدورفت کی اجازت نہیں۔ یہ وقت اور حالات کا جبر ہے۔
آسٹریلیا سے آن لائن مقالہ پیش کرتے ہوئے چترال کی بیٹی ڈاکٹر ممتاز بیگم نے معاشرے کی ابھرنے کی صلاحیت اور پائیدار ترقی میں ابتدائی بچپن کی تعلیم و نشوونما کے بنیادی کردار کو مثالوں اور مستند حوالوں کی مدد سے اجاگر کیا۔
ان کی تحقیق کا لبِ لباب یہ ہے کہ ڈھائی سے تین سال تک کی عمر میں بچے یا بچی کا ذہن سیکھنے، سوال کرنے، جواب ڈھونڈنے اور نئے تصورات پر کام کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اس عمر میں والدین اور اساتذہ کی توجہ مل جائے تو ننہالوں کے لیے بامقصد تعلیم کا حصول آسان ہوگا اور یہ تعلیم معاشرے کو سنبھالنے کے قابل بنائے گی۔
ترقی یافتہ ممالک نے ابتدائی بچپن کی تعلیم کو قومی دھارے میں شامل کیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک اور چترال جیسے پہاڑی علاقے میں اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ماں، باپ اور اساتذہ کے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس میں وقت لگے گا، مگر یہ ہوکر رہے گا۔
نازش امیر نے چترال کی لوک کہانیوں کے تناظر میں ماحولیاتی تحفظ، خواتین کے کردار اور ابھرتے معاشرے کے باہمی ربط و تعلق پر دلچسپ مقالہ پیش کیا۔
ڈاکٹر حفیظ اللہ کے تحقیقی مقالے کا عنوان ’’لوٹکوہ کے جنگلی پودوں میں حیات بخش اور غذائیت سے بھرپور جڑی بوٹیاں‘‘ تھا، جبکہ ڈاکٹر شاہ فہد علی خان کا تحقیقی کام دودھ پلانے والے جانوروں کے تحفظ پر تھا۔
ڈاکٹر ثناء اللہ نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم میں آن لائن معاونات کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
نصیر اللہ ناصر کا مقالہ بھی دلچسپ تھا۔ انہوں نے کنڑ اور چترال کی سرحد پر واقع گاؤں اراندو کے تناظر میں جنگ زدہ سرحدات میں آباد کمیونٹی کے مسائل پر گفتگو کی۔
کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر شاہ فہد علی خان، ڈاکٹر حفیظ اللہ، نازش امیر، کوثر، فتح الباری اور ان کی ٹیم کا کردار بہت نمایاں تھا۔
آخری سیشن میں جامعہ چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ نے شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے اور گروپ فوٹوگرافی کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔


جامعہ چترال میں پائیدار اور لچک دار معاشروں کے نام پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہوئی۔ نام پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ لگا کہ چترال کے گلیشیئر اب محفوظ ہیں، دریا صاف بہیں گے، جنگلات کلہاڑی سے بچ جائیں گے، پہاڑ تودے نہیں گرائیں گے، سرحدیں تجارت کے لیے کھل جائیں گی، نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور موسمیاتی تبدیلی شاید چترال کا راستہ بھول جائے گی۔ پھر کانفرنس کی روداد پڑھی تو معلوم ہوا کہ مسئلہ وہیں ہے، البتہ اس پر بات کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ستر مقالے۔ سات غیر ملکی محققین۔ بارہ ملکی دانشور۔ جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ کے اکیاون مقالے۔ تین دن۔ تالیاں۔ سرٹیفکیٹ۔ گروپ فوٹو۔ اور آخر میں وہی چترال۔ پہاڑ اپنی جگہ، مسائل اپنی جگہ اور کانفرنس اپنی جگہ۔
پائیدار اور لچک دار معاشرے کوئی گڈی گڈا کا موضوع نہیں۔ اس میں موسمیاتی تبدیلی، پانی، جنگلات، گلیشیئر، آفات، بنیادی ڈھانچہ، خوراک، روزگار، مقامی معیشت، صحت، حکمرانی اور سماجی بحالی جیسے سنجیدہ سوال آنے چاہییں۔ مگر ہمارے ہاں پائیداری ایسا ہمہ گیر لفظ بن چکا ہے کہ اب ہر چیز اس میں سما سکتی ہے۔ اسلامی مالیات؟ پائیداری! لوک گیت؟ پائیداری! لوک کہانی؟ پائیداری! جڑی بوٹی؟ پائیداری! بچوں کی تعلیم؟ پائیداری! دودھ پلانے والے جانور؟ پائیداری! آن لائن تعلیم؟ پائیداری! کل کوئی چترال کی چائے پر مقالہ پڑھ دے تو شاید عنوان ہوگا: چائے نوشی اور معاشرتی لچک: ایک بین الاقوامی مطالعہ۔ اور اگر ساتھ بسکٹ بھی ہوں تو اسے جامع پائیدار ترقی قرار دینے میں بھی شاید کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ موضوعات بُرے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کانفرنس کے مرکزی موضوع سے براہِ راست علمی تعلق کہاں ہے؟ یہ سوال پوچھنا شاید کانفرنس کی پائیداری کے خلاف سمجھا گیا۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی روداد پڑھیں تو ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: تنقید کہاں ہے؟ ہر شخص عظیم۔ ہر مقالہ دلچسپ۔ ہر خطاب بصیرت افروز۔ ہر شرکت خوش آئند۔ ہر منتظم نمایاں۔ جناب، کانفرنس تھی یا حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ؟ علمی رپورٹ میں تھوڑی سی چھری بھی ہونی چاہیے۔ یہاں تو قلم نے چھری دیکھتے ہی استغفار پڑھ لیا۔ کسی نے کیا کہا، بہت اچھا۔ کسی نے کیا پڑھا، بہت دلچسپ۔ کسی نے آن لائن شرکت کی، بہت خوش آئند۔ کسی نے انتظام کیا، بہت نمایاں۔ مگر کسی نے یہ نہیں پوچھا: تحقیق کہاں ہے؟
مثلاً اسلامی مالیات اور پائیدار ترقی پر مقالہ پیش ہوا۔ بہت خوب۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلامی مالیات کو چترال کی موسمیاتی تباہ کاری، مقامی کاروبار، سیلاب زدہ خاندانوں یا ماحولیاتی منصوبوں سے کیسے جوڑا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی عملی مالیاتی ماڈل پیش ہوا؟ کیا کوئی قابلِ عمل سفارش سامنے آئی؟ اگر ہاں، تو اسے نمایاں کیجیے۔ اگر صرف اسلامی اور پائیدار دو لفظ ایک ہی جملے میں آگئے اور ہم نے تالیاں بجا دیں تو یہ تحقیق کم اور لفظوں کی شادی زیادہ ہے۔
لوک گیت غور و پر تحقیق ہوئی۔ بہت خوب۔ لوک گیت بچنے چاہییں، ثقافت بچنی چاہیے۔ مگر گیت میں ماحول کا ذکر ہو تو ماحول محفوظ نہیں ہوجاتا۔ گیت میں عورت کا ذکر ہو تو عورت بااختیار نہیں ہوجاتی۔ اور گیت میں پہاڑ کا ذکر ہو تو پہاڑ موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ نہیں ہوجاتا۔ شاعری کو پالیسی بننے میں ابھی چند مرحلے باقی ہیں۔ لوک کہانیوں میں خواتین، ماحول اور ابھرتے معاشرے کا تعلق تلاش کیا گیا۔ اچھی بات ہے۔ مگر اصل سوال پھر وہی ہے: یہ تعلق مقالے میں ثابت کیا گیا ہے یا صرف عنوان میں؟ ہمارے ہاں عنوان لکھنے کا فن اتنا ترقی کرچکا ہے کہ اندر کا مواد کم بھی ہو تو عنوان آدمی کو متاثر کر دیتا ہے۔ درخت آگیا؟ ماحول۔ عورت آگئی؟ صنفی پائیداری۔ پہاڑ آگیا؟ موسمیاتی لچک۔ لوک گیت آگیا؟ ثقافتی مزاحمت۔ بس! چترال بچ گیا۔
جنگلی پودوں کی غذائی اور حیات بخش خصوصیات پر تحقیق یقیناً اہم ہوسکتی ہے۔ مگر علمی کانفرنس میں اگلے سوال بھی تو ہونے چاہییں: سائنسی تصدیق کتنی ہے؟ تحفظ کا منصوبہ کیا ہے؟ مقامی لوگوں کو فائدہ کیسے ہوگا؟ تجارتی امکان کیا ہے؟ اور پودے کو بچانے کی عملی حکمت عملی کیا ہے؟ اگر جواب موجود ہے تو یہ واقعی قابلِ قدر تحقیق ہے۔ اگر جواب صرف یہ ہے کہ یہ پودا مفید ہے تو پھر اسے پائیدار معاشرے تک پہنچانے کے لیے ابھی کئی پہاڑ عبور کرنے ہیں۔
دودھ پلانے والے جانوروں کے تحفظ پر تحقیق بھی ہوئی۔ جانور بچانے چاہییں، بالکل بچانے چاہییں۔ مگر پائیدار معاشرے کی بحث میں انسان، چراگاہ، جانور، سیاحت، معیشت اور ماحول کا باہمی تعلق بھی سامنے آنا چاہیے۔ ورنہ جانور اپنی جگہ محفوظ۔ مقالہ اپنی جگہ محفوظ۔ سرٹیفکیٹ اپنی جگہ محفوظ۔ اور انسان؟ وہ پھر بھی غیر محفوظ۔- آن لائن تعلیم کے مثبت اور منفی پہلو بھی زیر بحث آئے۔ یہ بھی خوب ہے۔ مگر چترال کے جس بچے کے پاس بجلی نہیں، انٹرنیٹ نہیں، مناسب آلہ نہیں، اسے آن لائن تعلیم کے فوائد سمجھانا ہمارے عہد کا خاصا پائیدار لطیفہ ہے۔ اس بچے سے بھی پوچھ لیتے: بیٹا، تمہارے پاس آن لائن آنے کے لیے کیا ہے؟ شاید جواب آتا: سر، دعا ہے۔
اراندو کا مسئلہ البتہ کانفرنس کے موضوع سے واقعی جڑتا ہے۔ سرحد، تجارت، آمدورفت، روزگار، بنیادی سہولیات اور مقامی معیشت—یہ سب معاشرتی لچک کے حقیقی سوال ہیں۔ لیکن یہاں بھی مسئلہ بیان کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ اراندو کا آدمی اپنے مسئلے سے واقف ہے۔ اسے یہ بتانے کے لیے مقالے کی ضرورت نہیں کہ راستہ بند ہے، تجارت مشکل ہے یا حالات خراب ہیں۔ اسے حل چاہیے۔ تحقیق کی عزت تب ہے جب وہ مسئلے کو ناپے، وجہ تلاش کرے، شواہد فراہم کرے اور حل کی طرف لے جائے۔ ورنہ مقامی آدمی کی تکلیف کو علمی زبان میں دوبارہ لکھ دینا بھی ایک طرح کی علمی سیاحت ہے۔
اور یہی شاید پوری کانفرنس کے بارے میں سب سے بڑا سوال ہے۔ کانفرنس کے بعد کیا بچا؟ کیا کوئی نیا مسئلہ دریافت ہوا؟ کیا کوئی پرانی بات غلط ثابت ہوئی؟ کیا کوئی قابلِ پیمائش سفارش سامنے آئی؟ کیا کوئی پالیسی بنے گی؟ کیا کوئی منصوبہ شروع ہوگا؟ کیا جامعہ، ضلعی انتظامیہ یا کسی اور ادارے نے کسی سفارش پر عمل کا وعدہ کیا؟ یا تین دن بعد سب کچھ ویسا ہی ہوگا جیسے تین دن پہلے تھا؟ مہمان آئے۔ مائیک چلا۔ پروجیکٹر چلا۔ مقالے پڑھے گئے۔ تالیاں بجیں۔ سرٹیفکیٹ بانٹے گئے۔ تصویر بن گئی۔ انتظامیہ کامیاب۔ مگر علم؟ علم کہاں گیا؟
کانفرنس منعقد کرنا آسان کام نہیں۔ منتظمین کی محنت کا اعتراف ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر شاہ فہد علی خان، ڈاکٹر حفیظ اللہ، نازش امیر، کوثر، فتح الباری اور پوری ٹیم نے ایک بڑی سرگرمی منعقد کی، تو اس کی محنت اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے۔ لیکن اچھی انتظام کاری اور اچھی علمی کانفرنس ایک ہی چیز نہیں۔ مہمان آ جانا علم نہیں۔ پروجیکٹر چل جانا علم نہیں۔ بین الاقوامی شرکت علم نہیں۔ سرٹیفکیٹ علم نہیں۔ اور گروپ فوٹو تو بالکل بھی علم نہیں۔ علم وہ ہے جو کسی سوال کو پہلے سے زیادہ واضح کرے، کسی دعوے کو شواہد سے مضبوط یا کمزور کرے، کسی مسئلے کی نئی جہت دکھائے یا کسی قابلِ عمل حل کی بنیاد فراہم کرے۔ ورنہ ہم تین دن تک مسائل کے خوب صورت عنوان بناتے رہیں گے اور چوتھے دن مسائل اپنی جگہ کھڑے ہوں گے۔
جامعہ کے انتظامی اور مالی معاملات سے متعلق جو سوالات اور الزامات زیرِ بحث ہیں، ان کا معاملہ الگ اور سنجیدہ ہے۔ کسی الزام کو جرم قرار دینا درست نہیں؛ متعلقہ فریق کو جواب کا حق ہے اور ضرورت ہو تو آزادانہ و شفاف تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں ایک اصولی سوال ضرور بنتا ہے۔ جو ادارہ دنیا کو پائیداری، لچک، شفافیت اور معاشرتی ذمہ داری پر گفتگو کے لیے جمع کرتا ہے، کیا اسے اپنے ادارے میں بھی انہی اصولوں کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟ اگر کسی معاملے پر سوال اٹھا ہے تو جواب دیا جائے۔ اگر الزام بے بنیاد ہے تو شواہد سامنے لائے جائیں۔ اگر غلط فہمی ہے تو دور کی جائے۔ اگر تحقیق ضروری ہے تو آزادانہ تحقیق کرائی جائے۔
اور اگر کسی عہدے یا مدت میں توسیع کا معاملہ ہے تو اس کا فیصلہ کانفرنسوں، تعریفوں، تصویروں اور تعلقات کی بنیاد پر نہیں بلکہ واضح قواعد، کارکردگی اور شفاف طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے۔ یہی تو پائیداری ہے۔ ورنہ دنیا کو لچک سکھانا اور خود سوال برداشت نہ کرنا خاصا دلچسپ تضاد ہے۔ دنیا کو شفافیت کا درس دینا اور اپنے ادارے کے بارے میں اٹھنے والے سوالات پر خاموش رہنا اس سے بھی زیادہ دلچسپ تضاد ہے۔ اور پائیدار معاشروں پر کانفرنس کرنا، جبکہ کانفرنس کے بعد کوئی واضح، قابلِ پیمائش اور قابلِ عمل نتیجہ سامنے نہ آئے، شاید سب سے دلچسپ تضاد ہے ۔ ڈاکٹر فیضی کی روداد میں تعریف اتنی پائیدار نظر آتی ہے کہ تحقیق شرما جائے۔ تنقید اتنی کم ہے کہ شک ہونے لگتا ہے کہ کانفرنس کے دروازے پر داخل ہوتے وقت ناقدین کو جوتوں کے ساتھ باہر تو نہیں اتار دیا گیا تھا۔
وائس چانسلر صاحب، دنیا کو پائیدار معاشرے کا فلسفہ سمجھانے سے پہلے اپنے ادارے کو پائیدار بنائیے۔ دنیا کو لچک سکھانے سے پہلے سوالات برداشت کرنے کی لچک پیدا کیجیے۔ دنیا کو شفافیت کا درس دینے سے پہلے اپنے ادارے کے فیصلوں اور معاملات میں شفافیت دکھائیے۔ اور اگر جامعہ کے بارے میں سوالات ہیں تو ان کا جواب تقریر سے نہیں، ریکارڈ سے دیجیے۔ چترال کے پہاڑوں کو ایک اور تقریر کی ضرورت نہیں۔ اس کے لوگوں کو ایک اور سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ اور جامعہ کو ایک اور گروپ فوٹو کی ضرورت نہیں۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ جو لوگ پائیداری کا درس دے رہے ہیں، وہ اپنے ادارے میں بھی کچھ پائیدار چھوڑ کر جائیں۔ مثلاً شفافیت۔ جوابدہی۔ قابلِ جانچ تحقیق۔ اور ایسا ریکارڈ جسے اگلا وائس چانسلر بھی شرمندگی کے بغیر کھول سکے۔ ورنہ یہ کانفرنس پائیدار ترقی پر نہیں تھی۔ یہ صرف پائیدار تعریفوں، لچک دار منطق اور تین دن کے علمی ڈرامے پر تھی۔