شاہ جی: کرسی سے اتر کر بھی بڑا رہنے والا آدمی

ذوالفقار احمد

سنہ 1998ء میں پشاور کی سڑکوں پر دو چیزیں بڑی بے خوفی سے چلتی تھیں: سرکاری گاڑیاں اور سید ابراہیم شاہ کی موٹر سائیکل۔ فرق صرف اتنا تھا کہ سرکاری گاڑی کو دیکھ کر لوگ راستہ دیتے تھے، شاہ جی کی موٹر سائیکل کو دیکھ کر راستہ بھی دیتے تھے، دعا بھی کرتے تھے اور کبھی کبھی کلمہ بھی۔

کوہاٹ روڈ پر اگر آپ نے کبھی ایک ہونڈا 125 کو اس اعتماد کے ساتھ ٹریفک چیرتے دیکھا ہو کہ سامنے بس، پیچھے ٹرک، دائیں رکشہ اور بائیں سائیکل۔سب کسی بین الاقوامی سازش کے تحت اس کے راستے میں کھڑے ہیں، تو یقین رکھیے وہ شاہ جی ہی تھے۔

قد آدمی کا مختصر تھا، مگر موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہی شخصیت کا قد اتنا بلند ہوجاتا کہ ٹریفک پولیس بھی نیچے دکھائی دیتی۔ شاہ جی موٹر سائیکل نہیں چلاتے تھے؛ وہ پشاور کی سڑکوں کو تربیت دیتے تھے کہ راستہ کیسے دیا جاتا ہے۔

ارباب روڈ پر ان کی سواری گزرتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے پٹرول ٹینکی میں نہیں، رگوں میں دوڑ رہا ہے۔مگر شاہ جی کی کہانی صرف موٹر سائیکل کی نہیں۔ یہ اُس نسل کی کہانی ہے جس میں سرکاری ملازمت نوکری بھی تھی، تعلق بھی، ذمہ داری بھی، اور دوستوں کے کام آنے کا ایک غیر اعلانیہ لائسنس بھی۔

شاہ جی سرکاری ملازم تھے اور محمد ایوب لالہ بھی پشاور سیکرٹریٹ میں تھے۔ دونوں کی یاری پرانی تھی، سو اسی یاری کے طفیل ہماری بھی شاہ جی سے جان پہچان ہوگئی۔ شام ڈھلتے ہی ایوب لالہ کے سول کوارٹر والے گھر میں محفل جم جاتی۔

کبھی کبھار محمد اکبر خان صاحب بھی آ بیٹھتے، جو اُن دنوں سیکشن آفیسر تھے اور آج کل ریٹائرمنٹ کے بعد خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رکن ہیں۔ اکبر خان صاحب ستار بھی بجاتے تھے، بلکہ باقاعدہ مشق کیا کرتے تھے۔ سو محفل کا اپنا ہی رنگ تھا۔چائے چل رہی ہے، ستار بج رہا ہے، گپیں لگ رہی ہیں، اور ساتھ ساتھ دنیا کے وہ سارے مسئلے حل ہو رہے ہیں جن کا حل نہ حکومت کے پاس تھا، نہ کسی اور کے پاس-

کسی شاعر کی شاعری کا پوسٹ مارٹم ہوتا، سیاست دانوں کے مستقبل کا فیصلہ وہ لوگ کرتے جنہیں اگلی صبح خود دفتر پہنچنے کا مسئلہ درپیش ہوتا، اور ملک کے انتظامی بحران کا ایسا علاج دریافت کیا جاتا جو بدقسمتی سے کبھی حکومت تک نہیں پہنچا۔ اور شاہ جی؟ شاہ جی ہر بحث میں ایسے شریک ہوتے جیسے سرکار نے انہیں ’’ہر معاملے میں رائے دینے‘‘ کا مستقل الاؤنس دے رکھا ہو۔

ان دنوں ڈاکٹر اسماعیل ولی صاحب انگریزی میں ایم فل کررہے تھے۔ ایم فل کے لیے انگریزی رسالے درکار تھے، اور رسالوں کے لیے پیسے۔ سرکاری ملازم کی تنخواہ میں اتنی گنجائش کہاں ہوتی تھی کہ آدمی علم بھی خریدے اور مہینے کے آخری ہفتے میں گھر بھی پہنچے۔

شاہ جی نے مسئلہ حل کردیا۔ سرکاری دفاتر میں آنے والے ٹائم میگزین اور دوسرے انگریزی جرائد شاہ جی کی نظر سے گزرتے۔ وہ انہیں برآمد کرتے، چھانٹتے اور سیدھا چترال ڈاکٹر صاحب تک پہنچاتے۔

آج یہ کام شاید معمولی معلوم ہو، مگر اُس زمانے میں گوگل نہیں تھا۔ گوگل کی جگہ دوست ہوتے تھے۔ اور دوستوں میں بھی کچھ ایسے ہوتے تھے جن کے پاس معلومات ہوتیں، کچھ کے پاس کتابیں، کچھ کے پاس رسالے، اور شاہ جی جیسے لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ معلومات، کتاب اور رسالہ—تینوں کہاں سے برآمد ہوسکتے ہیں۔

ایک دن ایوب لالا نے ہنستے ہوئے کہا: ’’شاہ جی! اگر آپ یہ انگریزی رسالے اسماعیل ولی صاحب تک نہ پہنچاتے تو شاید ان کا ایم فل ہی نہ ہوتا۔‘‘ محفل میں قہقہہ گونجا۔ لیکن مذاق کے اندر شاہ جی کی پوری شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ وہ دوست کی ضرورت کو ضرورت سمجھتے تھے، احسان کا موقع نہیں۔

آج کل ہم کہتے ہیں: ’’بھائی، کوئی کام ہو تو بتانا۔‘‘ اس جملے کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایسا کام بتانا جس میں ہمیں کچھ کرنا نہ پڑے۔ شاہ جی کا ’’بتانا‘‘ حقیقی بتانا تھا۔ رسالہ چاہیے؟ حاضر۔ کتاب چاہیے؟ حاضر۔ کسی دفتر میں کسی سے بات کرنی ہے؟ چلو۔ مشورہ چاہیے؟ بیٹھو۔

اور اگر مطلوبہ چیز کسی سرکاری دفتر کی الماری میں پڑی ہو تو پھر دوست کی قسمت اور شاہ جی کی سرکاری ملازمت دونوں ایک ساتھ آزمائش میں پڑ جاتے۔ وہ آدمی کم اور سہولت زیادہ تھے۔ فائل، کرسی اور شاہ جی۔

پھر وقت گزرتا گیا۔ سرکاری ملازمت میں وقت بڑی خطرناک چیز ہے۔ شروع میں آدمی فائل اٹھاتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ فائل آدمی کو اٹھانے لگتی ہے۔ شروع میں افسر کے دستخط کے لیے آدمی باہر کھڑا رہتا ہے۔ پھر ایک دن وہی آدمی دستخط کرنے والی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے اور باہر دس لوگ اس کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہیں۔ شاہ جی بھی اس قاعدۂ سرکار سے گزرے۔

وہی شخص جو کبھی کوہاٹ روڈ پر موٹر سائیکل اس رفتار سے چلاتا تھا کہ ہوا بھی پیچھے رہ جاتی تھی، سرکاری سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ڈپٹی سیکرٹری فنانس بن گیا۔ لیکن شاہ جی کی اصل کامیابی عہدہ حاصل کرنا نہیں تھی۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ عہدہ حاصل کرنے کے بعد بھی وہ شاہ جی ہی رہے۔

سرکاری عہدہ آدمی کو بدلنے کی بڑی کوشش کرتا ہے۔ کرسی کہتی ہے: ’’اب تم عام آدمی نہیں رہے۔‘‘ فائل کہتی ہے: ’’تمہارا وقت قیمتی ہے۔‘‘ مہر کہتی ہے: ’’تمہارے دستخط کی قیمت ہے۔ ‘‘ پروٹوکول کہتا ہے: ’’تھوڑا فاصلہ رکھو۔‘‘ اور کچھ لوگ ان سب کو دیکھ کر کہتے ہیں: ’’اچھا، تم اپنا کام کرو، میں اپنا کرتا ہوں۔‘‘ شاہ جی انہی لوگوں میں سے تھے۔

ملازمت کے دوران اپنی ذاتی کوششوں سے دورافتادہ بروغل ویلی میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین کا خصوصی ہارڈشپ الاؤنس بحال کروانے میں کردار ادا کیا۔ مستوج میں تقریباً تین کروڑ روپے کی خطیر رقم سے پولو گراؤنڈز کی تعمیر کے لیے بھی سرگرم رہے۔ مستوج پولیس اسٹیشن کی خستہ حالی دور کرنے کے لیے بھی کوششیں کیں۔

سرکاری فائل میں یہ سب شاید چند سطروں میں لکھا جائے گا۔ سرکاری فائل کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ تین کروڑ روپے بھی تین سطروں میں سما جاتے ہیں، اور کسی پورے علاقے کی ضرورت بھی ایک پیراگراف میں ختم ہوجاتی ہے۔ مگر جن لوگوں کے لیے یہ کام ہوئے، ان کے لیے وہ تین سطریں نہیں تھیں۔ وہ سہولت تھی۔ وہ حق تھا۔ وہ کسی دورافتادہ علاقے میں ریاست کی موجودگی کا ایک چھوٹا سا ثبوت تھا۔ اور شاید سرکاری ملازمت کی اصل معنویت بھی یہی ہے کہ فائل کے پیچھے انسان کو دیکھا جائے۔ شاہ جی فائل کے آدمی ضرور تھے، مگر صرف فائل کے آدمی نہیں تھے۔

کھوار ادب سے بھی ان کی وابستگی رہی اور انجمن ترقی کھوار، حلقہ پشاور کے بانی ارکان میں شامل رہے۔ یعنی دن کو فنانس، شام کو ادب، محفل میں سیاست، دوستوں کے لیے کام، اور باقی وقت موٹر سائیکل۔ اب سمجھ آیا کہ موٹر سائیکل اتنی تیز کیوں چلاتے تھے۔ وقت بچانا ضروری تھا۔

شاہ جی شاید جانتے تھے کہ زندگی بہت مختصر ہے اور کام بہت زیادہ۔ اس لیے ایک طرف سرکاری فائلیں تھیں اور دوسری طرف ادبی محفلیں۔ ایک طرف بجٹ کے اعداد تھے، دوسری طرف لفظوں کے معنی۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو سرکاری ملازمت کو اپنی شخصیت نہیں بننے دیتے۔ ملازمت ان کا ایک تعارف تھی؛ وہ خود اس سے کہیں بڑے آدمی تھے۔

پھر وہ دن بھی آگیا جس سے ہر سرکاری ملازم کو ایک نہ ایک دن گزرنا پڑتا ہے۔ دفتر ختم ہوگیا۔ کرسی کسی اور کی ہوگئی۔ فائلیں کسی اور میز پر چلی گئیں۔ مراسلات کسی اور کے نام آنے لگے۔ دستخط کا اختیار بھی وہیں رہ گیا جہاں سرکار نے رکھا تھا۔

سرکاری فائل میں اب ان کا نام ’’سابق ڈپٹی سیکرٹری فنانس‘‘ کے ساتھ لکھا جائے گا۔ سرکار کے نزدیک شاید یہی ریٹائرمنٹ ہے۔ مگر دوستوں کی ڈائری میں؟ وہاں ایسی کوئی ریٹائرمنٹ نہیں۔ وہاں اب بھی وہی شاہ جی ہیں جو پشاور کی سڑکوں پر موٹر سائیکل چلاتے تھے اور ٹریفک کو اس طرح خاطر میں نہیں لاتے تھے جیسے ٹریفک ان کی خاطر میں نہ آنے کے جرم میں پیدا ہوئی ہو۔

وہی شاہ جی جو دوست کے ایم فل کے لیے رسالے ڈھونڈ لاتے تھے۔ وہی شاہ جی جو محفل میں خاموشی کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے تھے۔ وہی شاہ جی جو فائل کے پیچھے آدمی کو دیکھتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر، وہی شاہ جی جو عہدے کے باوجود آدمی رہے۔

مجھے البتہ ایک خدشہ ہے۔ اگر کل کوئی پرانا دوست آکر کہہ دے: ’’شاہ جی، ٹائم میگزین چاہیے۔‘‘ تو معلوم نہیں اب شاہ جی کس الماری کی طرف جائیں گے۔ سرکاری الماری؟ دوست کی الماری؟ یا سیدھا پشاور کی کسی پرانی کتابوں کی دکان کی طرف؟

ممکن ہے اب سرکاری مہر ان کے پاس نہ ہو، مگر یقین ہے کہ کوئی راستہ ضرور ہوگا۔ کیونکہ کچھ لوگوں کے پاس عہدہ ختم ہوجاتا ہے، راستے نہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس اختیار ختم ہوجاتا ہے، تعلق نہیں۔ اور کچھ لوگ ریٹائر ہوتے ہیں، مگر دوستوں کی ضرورتیں ان کے لیے ریٹائر نہیں ہوتیں۔ کوئی آج بھی رسالہ مانگے گا۔ کوئی کتاب۔ کوئی مشورہ۔ کوئی دفتر کا راستہ۔ کوئی پشاور کی پرانی شام۔ اور کوئی صرف چائے۔

سو شاہ جی کے لیے ریٹائرمنٹ کا مطلب بس اتنا ہے کہ سرکاری ملازمت ختم ہوگئی ہے۔ دوستی کی ملازمت بدستور جاری ہے۔ اور اس ملازمت میں نہ پنشن ہے، نہ گریجویٹی، نہ سالانہ چھٹی، نہ تبادلہ، نہ معطلی۔ اس میں صرف ایک چیز ملتی ہے: لوگ۔

وہ لوگ جن کے کام آپ نے کیے، جن کے ساتھ چائے پی، جن کے ساتھ بحث کی، جنہیں رسالے پہنچائے، جن کے لیے فائلیں چلائیں، جن کے ساتھ ہنسے، اور جنہیں آپ کے عہدے سے زیادہ آپ کی ذات یاد رہے گی۔

شاہ جی، ریٹائرمنٹ مبارک۔ سرکار نے آپ سے کرسی لے لی۔ فائلیں دوسروں کے پاس بھیج دیں۔ مہر واپس لے لی۔ اختیار بھی ختم کردیا۔ لیکن ایک چیز سرکار کے اختیار میں کبھی تھی ہی نہیں: آپ کے دوست۔ وہ آج بھی آپ کے پاس ہیں۔ اور شاید یہی کسی سرکاری ملازم کی سب سے بڑی پنشن ہے۔ کرسی چھوٹی چیز تھی۔ عہدہ بھی ایک دن کی چیز تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ آدمی کرسی سے بڑا رہے۔ شاہ جی، آپ بڑے رہے۔ اور یہی آپ کا اصل عہدہ ہے۔

چترال ٹوڈے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest