A. K. Zaman
Peshawar, July 28, 2026: The Khyber Pakhtunkhwa government has issued the notification of a new law governing the salaries, allowances, privileges and immunities of the provincial Assembly Speaker and Deputy Speaker.
The new la grants them a range of additional benefits and legal protections.
Under the Khyber Pakhtunkhwa Province Speaker and Deputy Speaker’s (Immunities, Privileges, Salaries and Allowances) Act, 2026, both the Speaker and Deputy Speaker will be entitled to two official vehicles each.
The Speaker will additionally have access to an armoured vehicle. The law provides both officeholders immunity from arrest or detention. It also bars law-enforcement agencies from searching, entering or raiding their official residences.
For official foreign travel, the Speaker and Deputy Speaker will be entitled to business-class air tickets for themselves and their children. They may also be accompanied by two private attendants, whose travel will be covered on an economy-class basis.
The Speaker has also been authorised to use a government helicopter, aircraft or Pakistan Air Force helicopter for official duties.
The law further provides accommodation-related benefits. If an official residence is not provided, the Speaker and Deputy Speaker will receive an alternative accommodation allowance as determined by the Finance Committee. They may retain their official residences during their tenure and for 15 days after retirement.
The Speaker may continue using the official residence until a new Speaker is elected by the succeeding Assembly.
The Finance Committee has been empowered to increase the salaries of the Speaker and Deputy Speaker. The law also provides financial compensation, as approved by the committee, to the officeholder in case of injury and to legal heirs in the event of death in an accident.
Some benefits proposed in earlier drafts, including the appointment of a Grade-17 secretary, cook and driver for the Speaker and Deputy Speaker, were not included in the final notified law.
The new legislation has brought the privileges and immunities of the KP Assembly’s top officeholders under a dedicated legal framework.
Related:


واہ رے جمہوریت! آخر وہ دن آ ہی گیا جب عوام کی خدمت کے لیے عوام کا نہیں، بلکہ خدمت گاروں کا معیارِ زندگی بلند کرنا لازم قرار پایا۔ برسوں سے ہم غلطی پر تھے کہ ریاست اسکول بناتی ہے، ہسپتال چلاتی ہے، سڑکیں بناتی ہے۔ اب معلوم ہوا کہ ریاست کا اصل مقصد یہ ہے کہ معزز نمائندہ اگر صبح چائے پینا چاہے تو کیتلی بھی سرکاری ہو، کپ بھی سرکاری ہو، اور اگر ممکن ہو تو بھاپ بھی قومی خزانے سے نکلے۔
ثریا بی بی جب سرکاری ہیلی کاپٹر میں اپر چترال کی فضاؤں پر جلوہ افروز ہوں گی تو پہاڑ بھی شاید پہلی مرتبہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جائیں۔ بونی کی وادیاں نیچے رہ جائیں گی اور مراعات کا معیار اوپر اڑتا رہے گا۔ اوی منداغ میں اترتے ہی سرکاری افسر سلامی دیں گے اور مقامی سیاست دان اپنی کھٹارا گاڑیوں میں ایسے قطار بنائیں گے جیسے غربت بھی آج وی آئی پی پاس لے کر آئی ہو۔
یہ دو سرکاری گاڑیوں والی شق تو سیاسی فلسفے کی معراج ہے۔ ایک گاڑی شاید عوامی مسائل اٹھائے گی اور دوسری پہلی گاڑی کا حوصلہ بڑھائے گی۔ اگر ایک خراب ہو جائے تو عوام کی خدمت بند نہیں ہونی چاہیے۔ آخر قومیں اسی دور اندیشی سے ترقی کرتی ہیں۔
پھر قانون کی نزاکت دیکھیے۔ ڈپٹی اسپیکر کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔ سرکاری رہائش گاہ پر چھاپہ نہیں پڑے گا۔ قانون بھی دروازے پر آ کر پہلے اجازت مانگے گا، پھر معذرت کرے گا، اور آخر میں سلام کر کے واپس چلا جائے گا۔ انصاف کی آنکھ پر پٹی تو پہلے ہی بندھی تھی، اب غالباً اس کے ہاتھ بھی باندھ دیے گئے ہیں تاکہ کہیں غلطی سے مساوات نہ ہو جائے۔
بزنس کلاس میں صرف صاحب ہی کیوں جائیں؟ بچے بھی جائیں گے۔ قوم کی خدمت اگر وراثت ہے تو آسائش بھی وراثت ہونی چاہیے۔ دو ذاتی معاون بھی ساتھ ہوں گے، کیونکہ قومی خدمت کا جذبہ پانی خود ڈال کر پینے سے مجروح ہو جاتا ہے۔
سرکاری ہیلی کاپٹر، سرکاری جہاز، ضرورت پڑے تو پاک فضائیہ بھی حاضر۔ عوام اگر ایمبولینس کے انتظار میں دم توڑ دیں تو اسے وسائل کی کمی کہتے ہیں، لیکن اگر معزز شخصیت کو ٹریفک سگنل پر ایک منٹ رکنا پڑ جائے تو اسے قومی بحران قرار دیا جاتا ہے۔
قانون پڑھتے ہوئے ایک عجیب احساس ہوتا ہے۔ ہر صفحے پر کسی نہ کسی صاحب کی سہولت درج ہے، مگر لاکھ ڈھونڈنے کے باوجود عوام کہیں نہیں ملتے۔ شاید عوام قانون کا حصہ نہیں، بلکہ اس کی فنانسنگ کا ذریعہ ہیں۔
کہتے ہیں ابتدائی مسودے میں باورچی، ڈرائیور اور گریڈ سترہ کے سیکریٹری کی سہولت بھی شامل تھی، مگر نکال دی گئی۔ سبحان اللہ! ایسی کفایت شعاری پر تو اقوامِ متحدہ کو خصوصی قرارداد منظور کرنی چاہیے۔ محل ویسے کا ویسا رہا، صرف دروازے کا پردہ سادہ لگا دیا گیا۔
ہم ایک عجیب ملک میں رہتے ہیں۔ یہاں سرکاری اسکول کی چھت گر جائے تو اسے حادثہ کہتے ہیں، ہسپتال میں دوا نہ ملے تو اسے مجبوری کہتے ہیں، نوجوان بے روزگار ہو تو اسے قسمت کہتے ہیں؛ لیکن اگر کسی معزز شخصیت کے پروٹوکول میں ایک گاڑی کم ہو جائے تو اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا جاتا ہے۔
کہتے ہیں جمہوریت میں عوام بادشاہ ہوتے ہیں۔ شاید ہوتے ہوں گے، مگر ہمارے ہاں وہ ایسے بادشاہ ہیں جن کے سر پر تاج نہیں، بجلی کا بل رکھا جاتا ہے؛ جن کے ہاتھ میں عصا نہیں، ٹیکس کی رسید ہوتی ہے؛ اور جن کے تخت کا نام قطار ہے۔
اب انتظار صرف اس دن کا ہے جب اگلے بجٹ میں اعلان ہوگا کہ عوام کو صبر کرنے کے لیے مزید صبر دیا جائے گا، جبکہ نمائندوں کو صبر نہ کرنا پڑے، اس کے لیے ایک نئی مراعاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ قوم تالیاں بجائے گی، خزانہ بل ادا کرے گا، اور جمہوریت ایک بار پھر ثابت کرے گی کہ اس ملک میں سب برابر ہیں—بس کچھ لوگوں کی برابری کا معیار باقیوں سے کئی ہزار فٹ بلند پرواز کرتا ہے۔