faizi

بل، بار اور بیئر

داد بیداد

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

آج میرے پاس چار کہانیاں آگئی ہیں اور یہ کہانیاں اخبار کے قارئین کی طرف سے بھیجی گئی ہیں کہانیوں کا تعلق عوام کی مشکلات اور حکومتی نظم ونسق کی عجائبات سے ہے۔

پہلی کہانی حیات آباد پشاور سے حاجی شیرعالم خان نے بھیجی ہے، جو ممتاز بینکر کی حیثیت سے اندرون ملک اور بیرون ملک یکساں شہرت رکھتے ہیں یہ بجلی کے بل کی کہانی ہے اور بیحد دلچسپ ہے، کہانی یہ ہے کہ صارف کوگھریلو بجلی کا بل آیا ہے جس میں صرف شدہ یونٹوں کی قیمت 4 لاکھ 77 ہزار روپے ہے، بل میں 4 لاکھ 22 ہزار روپے کے ٹیکس شامل کرکے واجب الوصول بل 9 لاکھ سے زیادہ لکھا گیا ہے۔

دوسری کہانی گوجرانولہ کی بستی نوشہرہ ورکان سے ڈاکٹر عامر منیر نے بھیجی ہے یہ بھی خاصی دلچسپ ہے یہ سوئی سدرن کمپنی کی طرف سے بھیجا گیا بل ہے اس میں صرف شدہ گیس کی قیمت 35 ہزار سے اوپر ہے۔ بل میں ایک لاکھ 77 ہزار روپے کے مختلف ناموں والے ٹیکس شامل کرکے صارف سے کہا گیا ہے کہ 7 دنوں کے اندر ایک لاکھ77 ہزار روپے دائیں ہاتھ سے بینک میں جاکر بھرو ورنہ کنکشن کاٹ دیا جائے گا دونوں مئی 2026 کے بل ہیں

اس مہینے کا ایک بل دینین چترال سے ایک دوست نے بھیجا ہے بل میں صرف شدہ بجلی کی قیمت 12 ہزار روپے لکھی گئی ہے مختلف مدوں میں جو ٹیکس شامل کئے گئے ہیں وہ 17 ہزار روپے بنتے ہیں اس طرح 2 چار کمروں کے کچے مکان کا پورا بل 29 ہزار روپے آیا ہے تینوں بلوں کے پس منظر میں ایک ہی کہانی ہے۔ گوجرانولہ میں روزانہ 20 گھنٹے گیس کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ پشاور اور چترال میں روزانہ 16 گھنٹے بجلی نہیں آتی صرف بل آتا ہے

اس تلخ حقیقت کے اظہار کے لیے ایک دوست نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے ایک بار (میخانے) کی رسید بھیج کر بیان کیا ہے دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے کہتے ہیں کہ ایک شخص نے فرینکفرٹ کے مشہور بار میں داخل ہوکر بیئر (bear) کا آرڈر دیا، بار کے منشی نے کہا 20 یورو لگینگے، گاہک نے کہا کل تک 3 یورو میں آتا تھا، منشی بولا آج 20 یورو میں بکتا ہے۔ گاہک نےمنشی کو کریڈٹ کارڈ پیش کیا، منشی نے صرف 17 یورو وصول کرکے کارڈ واپس کی، اور رسید بھی تمھادی رسید میں لکھا تھا بیئر کی قیمت 3 یورو، یوکرین جنگ کے لئے خصوصی لیوی 3 یورو، برطانیہ کی امداد کے لئے لیوی 4 یورو، یورپی یونین کی امداد کے لئے لیوی 4 یورو، بلقان کے لیے امدادی لیوی 3 یورو، اور یورپ میں گیس کی سبسڈی کے لیے خصوصی فنڈ 3 یورو رسید دیکھ کر گاہک بولا مگر آپ نے 3 یورو کم لئے، منشی بولا آج ہمارے پاس بیئر نہیں ہے۔

وطن عزیز میں بجلی اور گیس کی صورت حال بھی فرینکفرٹ کے بار میں بیئر کی طرح ہے کمپنی کے پاس بجلی اور گیس دستیاب نہیں بل میں اس کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں، اور نہایت بے شرمی یا ڈھٹائی کے ساتھ قیمت بھی وصول کی جاتی ہے حالانکہ سہولت نہیں دی گئی۔ اس لحاظ سے جرمن بار کا منشی نسبتاً زیادہ انصاف پسند معلوم ہوتا ہے اس نے بیئر کی قیمت واپس کرکے صرف ٹیکس وصول کی اور گاہک سے معذرت کی کہ بیئر دستیاب نہیں،

مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ گیس اور بجلی کی کمپنیوں کو اکیسویں صدی کی ایجادات کا علم کیوں نہیں، گلگت بلستان اور چترال میں مقامی تنظیموں نے 500 کے وی اور 700 کے وی کے بے شمار پن بجلی گھر قائم کئے ہیں ان بجلی گھروں سےصارفین کو 3 روپے یونٹ کے حساب سے بجلی دی جاتی ہے اور بل پیشگی وصول کی جاتی ہے دیہی تنظیموں نے بجلی کی قیمت کو موبائل فون کمپنی کی طرح ایزی لوڈ سے منسلک کیا ہے صارف اپنے اکاونٹ میں بیلنس ڈالتا ہے بیلنس ختم ہونے پر بجلی بجھ جاتی ہے دوبارہ بیلنس ڈال کر اپنی بجلی بحال کرتا ہے، بغیر لوڈشیڈنگ کے اچھی معیاری بجلی تمام گھریلو مقاصد کے لئے استعمال کرے تو صارف کا مہینہ بھر کا خرچہ تین ہزار روپے سے زیادہ نہیں آتا، بل، بار اور بیئر والے ٹیکسوں کا کوئی چکر نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest