داغِ جگر

سلمان ہاشمی

وہ ایک غیر معمولی حساس انسان ہونے کے  باوجود بھی ہسپتال کی بدبودار ہوا اُسے محسوس نہیں ہو رہی تھی۔حالانکہ جب وہ ایسی جگہوں سے گزرتا جن میں گندگی کے آثار ہو تو وہ ان سے حد الامکان دور بھاگنے کی کوشش کرتا۔ لیکن آج ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی ذات سے بے خبر ہے، اُسے بہت زیادہ بے چینی لاحق تھی ۔ جب بھی آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلتا ایک عجیب سی آواز اُس سے نکلتی اور احمر کے کانوں سے ٹکرا جاتی۔ لیکن اس کا اثر سیدھے دل پہ ہوتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آہستہ آہستہ کوئی اس کا دل نوچ رہا ہو ۔ ہر اُس شخص اور ہسپتال کے عملے  کو وہ غور سے دیکھتا جو آپریشن تھیٹر سے نکلتا لیکن آس پاس کے گزرنے والوں سے وہ بے خبر تھا ۔ اس وقت اس کی پوری دنیا آپریشن تھیٹر کے اندر محدود ہو کے رہ گئی تھی ۔ پچھلے اٹھارا گھنٹوں سے وہ اس اضطراری کیفیت میں مبتلا تھا۔ کھانا کھانا تو دور کی بات ان اٹھارا گھنٹوں میں ایک نوالہ بھی اٌس کے حلق سے نہیں اترا تھا ۔ ہزاروں قسم کے وسوسے اس کے ذہن میں جگہ بنا چکے تھے ۔ جو اس کی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔ اتنے میں پھر سے آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ایک ڈاکٹر منہ ڈھانپے، ہاتھوں میں دستانے پہنے اور مخصوص لباس میں ملبوس  اس کی طرف تیز قدموں کے ساتھ آنے لگی۔ قریب پہنچ کر ماسک ہٹانے سے ڈاکٹر کے چہرے کی مسکراہٹ آشکارا ہو گئی۔ جس کی وجہ سے اس کی بے چینی اور بھی بڑھ گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ کچھ بولنے ہی والا تھا اتنے میں سامنے سے ڈاکٹر بولی۔

” مبارک ہو آپ کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے “

ایک دم سے اس کی آنکھیں چمک اٹھی۔

” ڈاکٹر صاحبہ ماں کی طبیعت کیسی ہے ؟”

“اللّه کے فضل و کرم سے ماں بیٹی دونوں بخیریت ہیں “

 اِس وقت اُس کی خوشی دیدنی تھی ۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ کب وہ اللّه تعالی کی رحمت کو گلے سے لگا لیں، کب اپنی شریک حیات کی خوشیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لے ۔ خدا خدا کر کے وہ لمحہ بھی گزر گیا ۔ اس نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے اٹھایا اور گلے سے لگا لیا ۔ اسے اٹھا کر اپنی آنکھوں کے قریب لا کر اسے دیکھتا اور غور سے دیکھتا ۔ آج اس کی خوشیاں لفظوں کے محتاج نہیں تھیں ۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو اور وہ صدیوں سے بہت بڑی رحمت سے محروم تھا۔ 

انہوں نے اپنی شریکِ حیات اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کو وارڈ میں منتقل کیا اور جلدی سے باہر نکلا ۔ ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں لکھی تھی جلدی سے وہ لانے کے بعد وہ پھر سے تیز قدموں کے ساتھ باہر نکلا ۔ راستے میں ملتے بھیک منگوں کی آج بھاچھیں کھل گئی تھیں۔

احمر تھوڑی دیر بعد ہاتھوں میں کچھ پلاسٹک کے تھیلے لیے واپس آیا تھیلوں سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس میں مٹھائیاں ہوں گی۔ اس نے پہنچتے ہی تھیلے کا گرہ کھولنے کی کوشش کی لیکن شاید ہاتھ میں لیے آنے کی وجہ سے گرہ کھولنے میں خاص توجہ چاہیے تھی اور وقت بھی لگ سکتا تھا اِس لیے اُس نے تھیلا ہی پھاڑ دیا کیوں کہ وہ بہت بے چین تھا ۔ اسے لگ رہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی بیٹی کو دل سے لگا لے اسے جلدی سے لے کر گھر  چلا جائے ۔ اس نے جلدی جلدی ہسپتال میں موجود سب لوگوں  کو مٹھایاں کھلائی۔ اور ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تا کہ اسے گھر جانے کی اجازت ملے ۔ ڈاکٹر کی اجازت کے بعد وہ جلدی سے سامان سمیٹے گھر کو نکل پڑا ۔ وہ خوش خوش اپنی بیوی سے باتیں کرتا جارہا تھا ۔ ہر ایک منٹ بعد اپنی بیٹی اور بیوی کی طرف مڑتا ایسا لگ رہا تھا جیسے برسوں بعد احمر کو ان کا دیدار نصیب ہو رہا ہو ۔ آخر کار گھر کے قریب پہنچ گیا ۔ گھر والوں کو پہلے سے یہ مژدہ مل چکا تھا اسی لیے وہ گھر کے باہر جہاں  گاڑی رکنی تھی وہاں ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ ان کے پہنجتے ہی گھر والوں نے اپنی محبّتیں ان پر نچھاور کرنی شروع کیں۔ سب نے اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ بچی پے صدقہ کیا اور محلّے والوں کے بچوں کی جھولیاں تو مٹھا ئیوں سے بھر گئیں ۔ آج محلے کے بچے بھی بہت خوش تھے ۔ ایک طرف ہوا میں بندوق کی نالی سے نکلتا ہوا دھواں  رقص کر رہا تھا ۔ آج پہلی مرتبہ احمر بندوق کی نالی سے نکلتے دھویں کو دیکھ رہا تھا ۔ اِس سے پہلے بندوق کی آواز کے ڈر سے وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونستا تھا۔ لیکن آج اُسے باالکل بھی خوف نہیں آرہا تھا۔ پورے ایک ہفتے تک  رشتہ دار ، دوست اور جان پہچان کے لوگ اسے خوشی کی مبارک باد دینے آتے رہے اور انہوں نے بھی ان کی خوب خاطر مدارت کی اور دل سے کی ۔ 

دن گذرتے گئے پہلے احمر نے اپنی اکلوتی بیٹی کو سکول اور اس کے بعد کالج میں داخلہ کرایا ۔ احمر کی پوری دنیا اس کی اکلوتی بیٹی تھی ۔ وہ اس کی ہر فرمائش کو خوشی سے قبول کرتا تھا اور کسی نہ کسی طرح اس کی تکمیل یقینی بناتا تھا ۔ اب وہ سیکنڈ ائیر میں پڑھتی تھی ۔ دوسری لڑکیوں کے ساتھ اس کی دوستیاں بھی بن گئی تھی۔  لیکن وہ ان کی نسبت بہت سلجھی ہوئی لڑکی تھی ۔ اس کی تربیت بہت اچھی طرح سے کی گئی تھی ۔ ایک دن کالج میں منعقد کسی تقریب کی وجہ سے گھر لوٹتے اسے دیر ہوگئ اور وہ اپنے بابا کے ساتھ جانے کی بجاۓ دوستوں کے ساتھ گھر جانے کی ٹھان لی۔ اس کی دوست نے اس سے موبائل لے کر اپنے بھائی کو کال کی کہ وہ ان کو لینے کالج آجائے۔ کیوں کہ ان کا اپنا موبائل تقریب میں زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے بند ہوگیا تھا۔ دوست اسے گھر چھوڑ کر چلے گئے ۔اس کے بعد یہ معمول سا بن گیا۔ وہ اکثر اپنے دوست کے ساتھ اس کے بھائی کی گاڑی میں آنے لگی ۔ 

رات دیر تک مطالعہ کرنا عرشی کی عادت تھی۔ ایک رات حسبِ معمول مطالعہ کرتے وقت اس کے موبائل میں نا معلوم نمبر سے مسیج موصول ہوا۔

ہیلو 

جی؟ 

کیسے ہیں آپ؟

آپ کی تعریف؟

میں وہ ہوں جس کے ساتھ آپ آج کل کالج سے آتی ہو؟ 

اچھا، کوئی کام تھا؟

نہیں بس آپ کو میسج کرنے کا دل کر رہا تھا۔

اچھا دوبارہ اس نمبر پر میسج مت کرنا۔

کیوں؟ 

اس کے بعد کافی میسجز موصول ہوئیں پر عرشی نے جواب نہیں دیا۔ اور بار بار تنگ کرنے کی وجہ سے موبائل ہی بند کر دی۔ اس دن کے بعد یہ معمول کی بات بن گئی روزانہ رات کو عرشی کو میسجز آتے لیکن وہ ان کی طرف دھیان نہ دیتی ۔ اور نا ہی اس سے متعلق گھر والوں کو بتاتی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میسجز میں صرف عرشی کی حسن و نزاکت اور تعریف بھری باتیں ہوتی اور  ان سے عرشی کو طمّانیت کا احساس ہورہا ہوتا ۔ کیوں کے اس کے علاوہ کوئی اور بات سمجھنے کےلیے تھی ہی نہیں۔ وہ صرف اپنی تعریفیں سننے کے لیے ان میسجز کو سہتی تھی ۔ رفتہ رفتہ عرشی کو اس کی عادت پڑ گئی۔ اور کبھی کبھار تو وہ یاد کرنے میں بھی پہل کرنے لگی ۔ اب وہ کھوئی سی لگتی تھی اس کے چہرے کی تازگی اداسی میں بدل گئی تھی وہ پہروں سوچوں میں گم  رہتی ، تنہائی سے اسے محبت سی ہونے لگی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جذبات کی اور بہہ رہی ہے ۔ اور یہ ساری ایسی تبدیلیاں تھی جن کو گھر کا ہر فرد محسوس کر رہا تھا  خاص کر احمر ۔  

رفتہ رفتہ دونوں کو ایک دوسرے کی لت پڑ گئی۔ اور اب تو وہ کالج سے اکثر گھومنے جاتے اور کبھی كبهار تو دیر بھی لگ جاتی لیکن عرشی دوستوں کے گھر جانے کا بہانہ بناتی ۔ ان گزرے دنوں میں عرشی کی تمام راز و نیاز کی باتوں کے ساتھ اس کی تصاویر بھی اس لڑکے کے پاس جمع ہو گئیں تھیں ۔ جن میں ان دونوں کی ساتھ نکالی گئی تصویریں بھی تھیں۔ اب تو لڑکے کا ارادہ پکّا تھا کہ عرشی سے وہ ہر قسم کا تعلق پیدا کر سکتا ہے سواۓ شریک حیات کے ۔ وہ اپنی ہوس کی آگ بھجانا چاہتا تھا اسے اور کوئی غرض ہی نہیں تھی۔ وہ عرشی سے روح کے بجاۓ جسمانی رشتہ بنانا چاہتا تھا ۔ اور ایک دن اس کا برملا اظہار کرنے پر عرشی کو سخت غصّہ آیا۔ اور وہ ہمیشہ کے لیے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن لڑکا اپنی مقصد کے حصول کے بغیر کسی حال میں بھی چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا ۔ اور اب تو وہ دھمکیوں پر اتر آیا تھا۔ کہ اگر عرشی نے اس کی بات نہیں مانی تو وہ اس کے ساتھ لی گئی تصویریں اس کے گھر والوں کو بھیج دے گا ۔ 

یہ سب عرشی زندگی میں پہلی مرتبہ سہہ رہی تھی وہ بہت نازک اندام ہونے کے ساتھ حساس بھی تھی ۔ ان واقعات نے عرشی کی ذات کو ایسے جھنجھوڑا کہ اس کی زندگی کے سارے سپنوں کے ساتھ زندگی کی جڑیں بھی کمزور پڑ گئی ۔ وہ خود سے نفرت کرنے لگی تھی اسے جب اپنی رسوائی کا خیال آتا تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ۔ اسے اپنے بابا کی عزت پر حرف آنے کا خوف آتا تو خود سے گھن آنے لگتی۔ وہ اتنی پریشان تھی جیسے پرندہ شکاری کے جال میں پھنسنے سے ہوتا ہے جو اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود بھی شکاری کا جال نہیں توڑ سکتا اور اس امید میں تڑپ رہا ہوتا کہ شاید وہ اپنی ناتواں پروں سے اس کی قید۔ سے چھٹکارا حاصل کرلے ۔ لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں تھا ۔ اس کو معاشرے کے لوگ یاد آنے لگے ۔ اور وہ سوچنے لگی  کہ اگر واقعی میں وہ  ہوس پرست میری عزّت پر داغ لگانے میں کامیاب ہوگیا تو وہ معاشرے کی نظر میں کتنی حقیر بن جاۓ گی ۔ یہ سارے ایسے خیالات تھے جو عرشی کو رفتہ رفتہ زندگی سے نا امید اور خود سے بدظن کر رہے تھے۔ اسے اپنی ذات سے بے زاری محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنی زندگی سے نفرت ہوتی تھی ۔ وہ اپنی حماقت پر پچھتا رہی تھی لیکن اب اس کا مداوا ممکن دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ زندگی گزارنے کے سارے راستے اس پر بند دکھائی دے رہے تھے ۔ وہ اب زندگی سے فرار چاہتی تھی۔ وہ بدلہ لینا چاہتی تھی زندگی سے جس نے اس کی پہلی غلطی کی سزا ہی اس کو عبرت ناک دی تھی ۔ وہ آزادی چاہتی تھی معاشرے کے ظالم اور ہوس پرست لوگوں سے ۔ وہ جینا چاہتی تھی لیکن اِس کے لیے دکھاوے کی زندگی سے چھٹکارا پانا تھا ۔ اس نے سب اپنے رب کے حوالے کیا تھا کیوں کہ دنیا اور اس میں بسنے والوں سے اس کی آس ٹوٹ گئی تھی۔ اُسے نہ دنیا کی پروا تھی نہ اس میں رہنے والوں کی ۔ اسے صرف اس دنیا سے گلو خلاصی کی فکر تھی ۔ 

ایک رات پھر سے اسے دھمکی آمیز پیغامات موبائل کے ذریعے کسی نا معلوم نمبر سے موصول ہوئیں۔ جن کی تاب لانا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔ وہ موبائل میز پر رکھ کر اٹھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہ رہا ہوتا ہے ۔ آنکھیں بھر آنے کی وجہ سے ٹھیک سے اسے دکھائی بھی نہیں دیتا لیکن دامن سے آنکھیں پونچھ کر وہ اپنے ڈوپٹے کو سر پر لیے دھبے اور ننگے پاؤں وہ اپنے رب کے پاس روانہ ہوگئی۔ اسے کچھ دکھائی نہیں دے ر ہا تھا اور نہ ہی کسی کی پروا اس کو تھی لیکن جب اس کے بابا کا خیال اسے آتا تو ایسا لگتا جیسے اسے زندہ درگور کیا جارہا ہو ۔ وہ اپنے رب سے مخاطب تھی ۔ لیکن اس کی باتیں سنائی نہیں دے رہی تھی ۔ یہ رات کا شاید وٌہ پہر تھا جس وقت قانون نافذ کرنے والے تاریکی میں پناہ لے رہے تھے، علما و واعظین دن بھر اپنی دنیا اور آخرت کی فکر میں ڈوڑتے سست پڑ گۓ تھے، عوام کے نمائندے عوام کے پیسوں سے بناۓ اپنے محلوں میں محوِ خواب تھے۔ رات جس پے تھی وُہ عرشی تھی۔  وُہ آخر کار دریا کی بے رحم موجوں کے پاس جا کر رک گئی، آنکھیں پونجھی اور اپنے رب کی طرف نظریں اٹھا کر اپنی بےبسی کا اظہار کر کے خود کو بے رحم موجوں کے حوالے کر گئی۔  

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest