بنو قابل: نوجوان نسل کے لیے امید اور ترقی کا پیغام

بشیرحسین آزاد۔
حافظ نعیم الرحمن نے چترال میں الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جاری ملک گیر تعلیمی و فلاحی پروگرام “بنو قابل” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام ہوچکی ہے، تعلیم مہنگی اور طبقاتی نظام کا شکار ہے جبکہ ہر شعبے میں کرپشن اور اقربا پروری نے نوجوان نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو نئی نسل کا ہاتھ تھام کر انہیں جدید تعلیم، ہنر اور باوقار روزگار کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چترال کے تاریخی پولو گراؤنڈ میں منعقدہ اس بڑے پروگرام میں ہزاروں طلبہ و طالبات نے “بنو قابل” کے تحت مفت آئی ٹی کورسز میں داخلے کے لیے ٹیسٹ دیا۔ امتحان میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو مختلف دورانیے کے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگراموں میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ تقریب میں نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا اور دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے طلبہ نے بھرپور انداز میں شرکت کرکے یہ ثابت کیا کہ چترال کے لوگ علم اور تعلیم سے گہری محبت رکھتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ “بنو قابل” اب ایک گیم چینجر بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے اس پروگرام میں اب تک چودہ لاکھ پچاس ہزار سے زائد نوجوان رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے اب صرف آئی ٹی ہی نہیں بلکہ مختلف ٹیکنیکل کورسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہزاروں آئی ٹی لیبارٹریز قائم ہوچکی ہیں اور “بنو قابل” کو مزید وسعت دے کر اب “زی کنیکٹ” کا نام دیا جا رہا ہے، جس میں نوجوانوں کی اخلاقی تربیت، کھیلوں کے فروغ اور شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دین سے تعلق مضبوط کریں اور جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر ملک و قوم کی خدمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عظیم قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا تھا مگر افسوس کہ قیام پاکستان کے مقاصد آج تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے موجودہ نظام کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ، جاگیردار اور وڈیرے مختلف جماعتوں کا لبادہ اوڑھ کر مسلسل اقتدار پر قابض ہیں جبکہ عام آدمی انصاف، تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے چترال کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جماعت اسلامی پرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھے گی۔ اس موقع پر عنایت اللہ خان، وقاص انجم جعفری اور وجیہ الدین سمیت, مغفرت شاہ، عبدالحق، شاہد اقبال، عمیر ادریس اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
پولو گراؤنڈ میں تقریب کے لیے تقریباً بیس ہزار کرسیاں لگائی گئی تھیں، تاہم طلبہ کی تعداد منتظمین کی توقعات سے کہیں زیادہ نکلی۔ نشستوں کی کمی کے باوجود کئی طلبہ نے زمین پر بیٹھ کر بھی ٹیسٹ دیا۔ یہ منظر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ چترال کے نوجوان جدید تعلیم اور ہنر سیکھنے کے لیے کس قدر سنجیدہ اور پُرجوش ہیں۔
بعض حلقوں کی جانب سے اس پروگرام کو سیاسی پاور شو قرار دیا گیا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ “بنو قابل” نوجوانوں کے لیے ایک مثبت اور تعمیری اقدام ہے۔ بے روزگاری کے اس دور میں جب بہت سے نوجوان مایوسی، نشے اور بے مقصد سرگرمیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں، ایسے پروگرام انہیں امید، ہنر اور باعزت روزگار کا راستہ دکھاتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی مثبت تعلیمی اور فلاحی سرگرمی کو محض سیاسی چشمے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اختلافِ رائے کو تہذیب اور شائستگی کے دائرے میں رہنا چاہیے۔
“بنو قابل” دراصل نوجوانوں کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، سائبر سکیورٹی اور دیگر جدید کورسز مفت سکھائے جاتے ہیں تاکہ نوجوان گھر بیٹھے آن لائن روزگار حاصل کرسکیں۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو مالی مشکلات کی وجہ سے مہنگے اداروں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے، ان کے لیے یہ پروگرام ایک سنہری موقع بن چکا ہے۔
یہ پروگرام اس وقت کراچی، لاہور، پشاور، نوشہرہ، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں جاری ہے جبکہ اسے پورے پاکستان، بشمول پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک توسیع دی جا رہی ہے۔ چترال میں اس پروگرام کے کامیاب انعقاد کا سہرا نوجوان رہنما وجیہ الدین، عبدالحق اور ان کی پوری ٹیم کے سر جاتا ہے جنہوں نے انتہائی محنت اور بہترین انتظامات کے ذریعے ہزاروں طلبہ کے لیے ایک یادگار موقع فراہم کیا۔
چترال میں “بنو قابل” کا یہ عظیم الشان اجتماع اس حقیقت کا اعلان تھا کہ یہاں کے نوجوان حالات سے مایوس نہیں بلکہ تعلیم، ہنر اور محنت کے ذریعے اپنے مستقبل کو روشن بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایسے مثبت اور تعمیری پروگراموں کا تسلسل برقرار رہا تو یقیناً پاکستان کا نوجوان نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest