داد بیداد
ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
ایک ہفتے کی جنگ میں اگر ایران کو امریکی اتحاد کے مقابلے میں اکیلا ملک دکھایا جا رہا ہے، تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ ایران نے راتوں رات دوستوں کو ناراض کیا اور پڑوسیوں کی دشمنی مول لی، ایسا نہیں ہوا۔ مشہور شاعر قابل اجمیری کا ایک قطعہ ہے
“راستہ ہے کہ کٹتا جا تا ہے، فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا، وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔”
یہ حادثہ بھی کسی سہانی شام کو وقوع پذیر نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی اور محنت نظر آتی ہے۔
ایران اور امریکہ کی پہلی جنگ 1980 سے 1988 تک لڑی گئی۔ اُس وقت امریکہ نے عراقی صدر صدام حسین کو چابی دے کر ایران کے خلاف میدان میں اتارا تھا۔ امریکہ 8 سالوں کی جنگ میں بری طرح شکست کھا گیا، حالانکہ اُس وقت ایران کی انقلابی حکومت کو بنے ہوئے بمشکل ایک سال ہوا تھا، پھر بھی ایران نے امریکہ کو مات دیدی۔ اس جنگ سے سبق سیکھنے کے بعد امریکہ نے عرب ملکوں کو اس بات پر قائل کیا کہ ایران تمہارے لئے مستقل خطرہ ہے، میں تمہاری حفاظت کروں گا، تم مجھے فوجی اڈہ بنانے کے لئے سمندر اور زمین میں جگہ دے دو۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان، سعودی عرب، اردن وغیرہ نے امریکہ کو سمندر اور خشکی میں فوجی اڈہ بنانے کے لئے جگہ دے دی۔
لطف کی بات یہ ہے کہ امریکی اڈوں کے تمام اخراجات بھی عرب ملکوں نے اپنے ذمے لے لئے، کیونکہ تحفظ کا لالچ دیا گیا تھا۔ یہ صرف 38 سال پرانی بات ہے، تاہم یہ اس منصوبہ بندی کی ابتدا کا ذکر نہیں، منصوبہ بندی کی ابتدا 108 سال پہلے 1917ء میں ہوئی تھی۔ یہودیوں کی بڑی کونسل، ایلڈرز آف زیون نے 1917 میں اُس وقت کی عالمی طاقت برطانیہ کے سامنے تجویز رکھی کہ مسلمانوں کی اسلامی خلافت یعنی سلطنت عثمانیہ کو ختم کئے بغیر ہم دنیا میں سر نہیں اٹھا سکیں گے۔ سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے میں ہماری مدد کی جائے۔ برطانوی بادشاہت نے کرنل لارنس (لارنس آف عریبیہ) کے ذریعے سرزمین عرب میں ترکوں کے خلاف محاذ قائم کیا۔ اس محاذ کا مقصد ترکوں سے نفرت تھا۔ اس نفرت کو اتنا بڑھایا گیا کہ خلافت کے حصے بخرے کرنے پر مسلمانوں کو قائل کیا گیا۔
اگلا قدم یہ تھا کہ فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کے لئے عربوں کو آمادہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے دو بڑے کردار چن لئے گئے۔ ایک کو دریائے اردن کے مشرقی کنارے میں حکومت دینے کا معاہدہ کیا گیا، دوسرے کردار کو نجد و حجاز کی سرزمین کا بادشاہ بنانے کا معاہدہ ہوا۔ دونوں کرداروں نے باقاعدہ دستخط کرکے برطانیہ کو دے دیا کہ ہم فلسطینیوں کو نکال کر وہاں باہر سے آنے والے یہودی آبادکاروں کو بسائیں گے۔ جب یہودیوں کی آبادی وہاں مسلمانوں سے دگنی ہو جائے گی، تو ہم ان کی خودمختار ریاست قائم کرنے میں مدد دیں گے، جس کا نام حضرت یعقوب علیہ السلام کی کنیت سے لے کر اسرائیل رکھا جائے گا۔
چنانچہ 1923 میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے الگ ہوئے۔ معاہدہ کے ایک فریق کو دو بادشاہتیں دی گئیں۔ فلسطین میں روس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر ملکوں سے آنے والے یہودیوں کی آبادی مسلمانوں کے مقابلے میں دگنی ہو گئی، تو 1948 میں اسرائیل کے نام سے الگ یہودی ریاست قائم کر کے برطانیہ کو دی گئی۔ اُس وقت یہودیوں کے منصوبے میں صاف لکھا گیا تھا کہ ہم ارد گرد کی مسلمان آبادی کا صفایا کر کے ہندوستان اور چین کی سرحد تک اپنی حکومت کو توسیع دیں گے، مگر مسلمانوں کو اس کا علم نہیں تھا۔
اس مختصر پس منظر کو لے کر فروری اور مارچ 2026 میں امریکہ ایران جنگ کا منظرنامہ سامنے رکھیں اور سوچیں، 1945 میں امریکہ نے برطانوی سامراج کی جگہ لے کر دنیا کے ڈکٹیٹر کا خود ساختہ منصب حاصل کیا، یہودیوں کے عالمی مفادات کا ٹھیکہ لے لیا، پھر آپ کو تعجب نہیں ہو گا کہ کوئی مسلمان ملک فلسطینیوں کا ساتھ کیوں نہیں دیتا، کوئی مسلمان ملک ایران کا ساتھ کیوں نہیں دیتا؟ آپ کو اس پر حیرت نہیں ہو گی کہ آج پوری دنیا میں ایران کے حق میں شمالی کوریا، چین اور روس کے سوا کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یہ یہودیوں کی طویل اور خاموش منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔
مسلمان ملکوں نے دشمن کو فوجی اڈے دیے ہوئے ہیں، ان اڈوں سے ایران پر حملہ ہوتا ہے۔ بقول شاعر:
تیر کھا کے دیکھا جو کمیں گاہ کی طرف،
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی۔
بالفاظ دیگر
من از بیگانگاں ہر گز نہ نا لم،
بامن ہر چہ کردآں آشنا کرد۔

