ذاتی مکتوب کی نوعیت اور اہمیت

میری ڈائری کے اوراق سے


تحریر شمس الحق قمر ؔ
خط کو نصف ملاقات کہا جاتا ہے۔ کچھ خطوط ایسے ہوتے ہیں جو خالصتاً نجی اور ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ خطوط عموماً دو افراد کے درمیان دل کی بات کہنے اور حالات واضح کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایسے خطوط کا دائرہ صرف بھیجنے والے اور پانے والے تک محدود رہتا ہے۔ہمیں بچپن میں اسکولوں اور گھروں میں یہ بات سکھائی جاتی تھی کہ کسی کے خط کا بند لفافہ کھولنا اتنا ہی غلط ہے جتنا کسی کے گھر میں بغیر اجازت جھانکنا۔

اسی طرح یہ بھی سمجھایا جاتا تھا کہ اگر کوئی شخص ہمیں رقعہ یا پیغام بھیجے اور اس میں اس کی یا ہماری نجی زندگی سے متعلق باتیں ہوں تو انہیں دوسروں تک پہنچانا بدگمانیوں کو جنم دیتا ہے۔ یہی بدگمانیاں آگے چل کر نفرتوں کو مضبوط کرتی ہیں اور پھر معمولی باتیں بڑے بڑے فسادات کا سبب بن جاتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات ہمیں صرف نماز اور عبادات ہی نہیں سکھاتیں بلکہ زندگی گزارنے کے وہ اصول بھی دیتی ہیں جن سے انسان اخلاق کے اعلیٰ درجے تک پہنچتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اخلاق، برداشت اور درگزر کا عملی نمونہ ہے۔ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو اپنی استطاعت کے مطابق نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ کیا تاریخ میں کہیں یہ ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات سے متعلق تکلیف دہ باتیں عام لوگوں میں بیان کی ہوں؟ حالانکہ آپ ﷺ پر طعن و تشنیع کی گئی، اذیتیں دی گئیں، مگر آپ ﷺ نے صبر اختیار کیا اور ذاتی معاملات کو ذاتی ہی رکھا۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کہیں آپ ﷺ کی امت، محبت میں آ کر، کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہی حکمت ہے کہ چنگاری کو اسی وقت بجھا دیا جائے جب وہ آگ بننے سے پہلے ہو۔ ہمارے معاشرے میں آئے دن ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں ایک چھوٹی سی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پہاڑ کھودنے کے بعد اگر چوہا نکلے تو نقصان صرف وقت کا نہیں بلکہ تعلقات کا بھی ہوتا ہے۔

ایک اچھا انسان اور پھر ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو نجی باتوں کا ڈھنڈورا نہ پیٹے، کسی کا راز فاش نہ کرے اور اپنے بھائی بہن کی پردہ داری کو اپنا اخلاقی فرض سمجھے۔ اگر خدانخواستہ کسی کی بات سے دانستہ یا نادانستہ دل آزاری ہو جائے تو بہتر یہی ہے کہ معاملے کو عقل، تحمل اور امن کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے۔ بڑائی اسی میں ہے کہ انسان معافی کی عادت اختیار کرے، خاص طور پر وہ لوگ جو خود دوسروں کے لیے رہنمائی کا مقام رکھتے ہوں۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر کسی نے تلخ الفاظ استعمال کیے ہوں اور وہ بات ذاتی خط یا نجی پیغام تک محدود ہو، تو اسے عام کرنا مسئلے کا حل نہیں بنتا۔ اس سے نفرت کا دائرہ پھیلتا ہے، بچوں تک بات پہنچتی ہے، خاندان متاثر ہوتے ہیں اور پھر یہ آگ معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم الفاظ کے استعمال میں احتیاط کریں، نجی باتوں کو نجی رکھیں اور اختلاف کی صورت میں صبر، درگزر اور حکمت کا راستہ اختیار کریں۔ یہی رویہ ہمیں ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest