Shahzada Khalid Pervez all smiles at a gathering held in Drosh to return to PPP along with Ghulam Muhamamd on Nov 11, 2025..

Shahzada Pervez’s Political Shift Brings Him Back to PPP

DROSH, Nov 11, 2025: Chitral’s key political figures Shahzada Khalid Pervez and former Member of Provincial Assembly (MPA) Ghulam Mohammad formally rejoined the PPP here today.

Shahzada Pervez had joined the PPP after parting ways with Musharraf’s APML in Jan 2022. He left the PPP and also resigned as the elected Tehsil Nazim of Drosh to join the breakaway party of PTI’s Pervez Khattak before the 2024 general elections. Ghulam Muhammad and Shahzada Pervez contested the elections for the provincial assembly seats of PK-1 and PK-2, respectively, but lost.

Though local PPP leaders have strongly resisted the return of the two, especially Shahzada Pervez, their re-entry is seen as a significant political shift in the region. Hundreds of supporters of Shahzada Pervez and Ghulam Muhammad were also present at a gathering in Drosh to join the PPP.

Khyber Pakhtunkhwa Governor Faisal Karim Kundi was chief guest. In his address, he underscored Chitral’s essential role in Pakistan’s future growth. He described Chitral as the “bright face” of Pakistan and a “guarantor” of the country’s prosperity, stressing that its development was inseparable from the nation’s overall progress.

Kundi said both Shahzada Pervez and Ghulam Mohammad’s re-entry into PPP would have a lasting impact on the party’s ability to address local issues. Their decision to re-align with PPP sends a clear message of confidence in the party’s leadership and its vision for the future.

Governor Kundi used the occasion to emphasize PPP’s commitment to Chitral’s long-term development. He reiterated the party’s focus on critical infrastructure projects, particularly the Chakdara-Lower Dir-Chitral Road, which he described as a cornerstone for regional development. He also drew attention to the potential of the Wakhan Corridor, which Kundi said would create new trade opportunities with Central Asia, marking a new era of economic prosperity for not just Chitral, but for the entire province.

Reflecting on PPP’s historical ties to Chitral, Kundi reminded the crowd of the deep-rooted support the party had received in the region, particularly from the people of Chitral who had consistently stood by the Bhutto family.

Related:

Shahzada Pervez parts ways with PPP to join Khattak’s new party.

APML leader Shahzada Khalid Pervez joins PPP.

Shahzada Khalid Pervez returns to PPP.

1 thought on “Shahzada Pervez’s Political Shift Brings Him Back to PPP”

  1. چترال کی سیاست کی حقیقت یہی ہے کہ یہاں دو قسم کے لوگ ہیں—وہ جو اقتدار کے لیے ہر بار چہرہ بدل کر واپس آتے ہیں، اور وہ جو کبھی بھی کسی سیاسی جماعت کے وفادار نہیں رہ سکتے، کیونکہ ان کی وفاداری صرف اور صرف اقتدار کے ساتھ ہے۔ اور اب یہی کچھ ہو رہا ہے۔ غلام محمد اور پرویز جیسے سیاستدان، جو چترال کی سیاست میں ہمیشہ چمکتے ہوئے ستارے بننے کا خواب دیکھتے ہیں، وہ ایک مرتبہ پھر اپنے گندے چکر چلانے کے لیے میدان میں ہیں۔
    مگر چترال کے عوام اب ان کی ہر چال، ہر حرکت اور ہر نیا وعدہ جان چکے ہیں۔ وہ اب ان سیاستدانوں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، جو اقتدار کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
    پرویز صاحب کی سیاسی کہانی اتنی پرانی اور قابلِ رحم ہے کہ اب سننے والا بھی ترس کھا لیتا ہے۔ کبھی پرویز مشرف کی اے پی ایم ایل میں، کبھی پی ٹی آئی کے رنگ میں، پھر پی پی پی میں، پھر کہیں اور—اور اب دوبارہ واپس پی پی پی میں!
    یہ وفاداریاں نہیں، سیاسی جمناسٹک ہے، جو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں نظریہ نہیں، صرف اقتدار چاہیے۔
    پرویز صاحب، عوام اب تھک گئے ہیں۔ آپ کے قلابازیاں دیکھ کر اب لوگ محض مسکراتے ہیں۔ چترال کے لوگ اب وہ معصوم ووٹر نہیں رہے جو بڑے ناموں کے دھوکے میں آ جائیں۔
    غلام محمد صاحب بھی کمال کے آدمی ہیں۔ ایک طرف خود کو عوامی نمائندہ کہتے ہیں، دوسری طرف ہر بار جب ہار کا سامنا ہوتا ہے تو پارٹی بدل لیتے ہیں۔
    ان کے لیے سیاست بس ایک ذریعہ ہے—عزت کا نہیں، اثر کا۔
    پی پی پی میں واپسی کے باوجود، اب ان کے لیے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر خود ان کے خلاف مزاحمت ہے۔ مقامی قیادت واضح کہہ چکی ہے کہ “اب کی بار سبق سکھایا جائے گا”۔ اور سچ کہوں تو یہ سبق بہت دیر سے واجب تھا۔
    اور اب آتے ہیں جناب طلحہ محمود پر، کوہستان کے “مہربان” سیاستدان، جو اس وقت چترال میں اپنے بیٹے کے لیے ووٹ خریدنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ آٹے کے تھیلے، نقدی، اور امداد کے نام پر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ عوام بکاؤ ہیں۔
    مگر یہ لکھ دیا جائے: طلحہ محمود کا یہ کھیل انجام کو پہنچنے والا ہے۔ چاہے وہ زرداری صاحب سے اپنے تعلقات استعمال کریں، یا اپنے پیسے سے زمین خریدنے کی کوشش کریں—چترال کے عوام اب ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔
    وہ دن دور نہیں جب “اسلام آباد کے یہ جناب” اپنی ساری “سیاسی سرمایہ کاری” کے بعد مٹی چاٹنے پر مجبور ہوں گے۔
    مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ پی پی پی کے اندر ایک نئی حکمتِ عملی جنم لے رہی ہے۔ پارٹی نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ اگلے انتخابات میں ایک نیا مگر معتبر چہرہ سامنے لایا جائے گا—اپر چترال کے ایک سابق ایم پی اے کے بیٹے کو، جو اگلے دو سال میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔
    یہ صاحب، ایک تجربہ کار بینکار ہیں، جو چترال کے طول و عرض میں احترام رکھتے ہیں۔ پی پی پی کو یقین ہے کہ ان کے ذریعے وہ چترال میں اپنی پرانی شان و شوکت دوبارہ حاصل کرے گی۔
    اور جب یہ بینکار میدان میں اترے گا، تو غلام محمد، پرویز اور طلحہ محمود کے لیے صرف ایک ہی پیغام رہ جائے گا:
    “پیک اپ کر لو۔ کھیل ختم۔”
    غلام محمد صاحب، سیاست چھوڑ کر ٹھیکیداری کرو۔ کم از کم وہاں آپ کو بولی لگانے کا تجربہ تو ہے۔
    پرویز صاحب، آپ اپنے پرانے کاروبار—ٹمبر—پر واپس آ جائیں۔ لکڑی کا کام آپ کے مزاج کے قریب ہے، سیاست کی طرح اس میں روز درخت نہیں بدلنے پڑتے۔
    اور طلحہ محمود صاحب، آپ کے لیے تو سب سے سیدھا راستہ ہے: اسلام آباد واپس جاؤ، اور وہیں اپنی بیٹریوں کا کاروبار سنبھالو۔ سیاست کی بیٹری تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
    چترال کی سیاست اب بدل رہی ہے۔ عوام ان چہروں سے تنگ آ چکے ہیں جو ہر پانچ سال بعد نیا لبادہ اوڑھ کر انہی وعدوں کے ساتھ واپس آتے ہیں۔
    وقت آ گیا ہے کہ غلام محمد، پرویز اور طلحہ محمود جیسے “سیاسی مہاجر” یہ سمجھ لیں کہ عوام اب ان کی چکنی چپڑی باتوں پر نہیں، ان کے اعمال پر ووٹ دیتے ہیں—اور ان کے اعمال کی فائلیں عوام کے ذہنوں میں اچھی طرح محفوظ ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest