چترال (بشیر حسین آزاد) — چترال گول کنزروینسی کے عوام نے شکار کے پرمٹ جاری ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
گہریت گول کنزرویشن کمیٹی کے صدر فیض الرحمن کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے مقامی افراد نے ڈی ایف او وائلڈ لائف رضوان اللہ یوسف زئی کا شکریہ ادا کیا اور چترال گول نیشنل پارک کے چیئرمین سلیم الدین کی شبانہ روز محنت اور موثر قیادت کو سراہا۔مقامی افراد کے مطابق چیئرمین سلیم الدین کی کوششوں کے نتیجے میں چترال گول کنزروینسی کو تاریخ میں پہلی بار ایکسپورٹ ایبل شکار کی اجازت ملی ہے۔ اس کامیابی پر چیف کنزرویٹر محسن فاروق اور کنزرویٹر نیشنل پارکس حسین احمد کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ اس سال بولی دینے والے شکاری اگست میں چترال آئے تھے اور مختلف مقامات کا معائنہ کرنے کے بعد کنزروینسی میں شکار کے لیے گہری دلچسپی ظاہر کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی نہ صرف مقامی کمیونٹی کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے بلکہ اس سے علاقے کی معیشت کو سہارا ملے گا اور جنگلی حیات کے تحفظ کے عمل کو بھی تقویت ملے گی۔

