Inayatullah Faizi

جلے ہوئے زخم کا علاج

داد بیداد

 

ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی
اُس روز ہسپتال میں ایمرجنسی تھی بیک وقت چار جگہوں سے جلے ہوئے زخمیوں کو لایا گیا تھا ہسپتال کے سربراہ نے مریضوں کا داخلہ بند کر دیا تھا لیکن 10گھنٹے یا 12گھنٹے پہلے جلے ہوئے زخموں کے ساتھ چیختے چلا تے مریضوں کو ہسپتال کے دروازے سے واپس کرنا ممکن نہیں تھا اگرچہ دو مریضوں کے داخلے کی گنجائش رہ گئی تھی مگر ہسپتال کے دروازے پر 24مریضوں کے ایمبولینس آئے ہوئے تھے مریض کراہ رہے تھے اور تیماردار مدد کے لئے پکار رہے تھے اس ہسپتال کا یہ پہلا دن نہیں تھا یہاں پر ہر روز ایک انار سو بیمار والی صورت حال نظر آتی ہے

یہ خیبر پختونخوا کا واحد ہسپتال ہے جہاں جلے ہوئے زخمیوں کا علاج ہوتا ہے اس ہسپتال کا نام برن اینڈ پلا سٹک سرجری سنٹر ہے یہاں جلے ہوئے زخمیوں کا علاج بھی ہوتا ہے دور دراز اضلاع اور پڑوسی ملکوں سے آنے والے ڈاکٹر وں اور نر سوں کو جلے ہوئے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کی تر بیت بھی فراہم کی جا تی ہے جلے ہوئے زخموں کے علاج کی بات جہاں کی جاتی ہے وہاں تین بڑے مسائل سامنے آتے ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جلے ہوئے مریض کو ایک گھنٹے کے اندر سپیشلائزڈ ہسپتال میں پہنچانا چاہئیے یہ تب ممکن ہوگا جب مضافا تی علا قوں میں برن سینٹر موجود ہوں

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال کا ہرڈاکٹر اور ہر نرس یا ٹیکنیشن جلے ہوئے مریض کا علاج نہیں کرسکتا یہ الگ سپیشیلیٹی ہے اور بیحد اہم سپیشیلیٹی ہے اس کی با قاعدہ تر بیت ہوتی ہے اور تربیت کے ساتھ سرٹیفیکیٹ بھی دیا جاتا ہے تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے میں سماجی کارکنوں، سیاسی کارکنوں اور ہسپتالوں کے عملہ کو جلے ہوئے مریض کے بارے میں مکمل آگاہی دینی چاہئیے خدا نا خواستہ ایسا واقعہ ہو جا ئے تو سماجی اور سیاسی کار کنوں کو کیا کرنا چاہئیے ہسپتال کے عملے کو فوری طور پر کس قسم کی ابتدائی طبی امداد کے لے ہر وقت تیار اور مستعد رہنا چاہئیے تر قی یا فتہ ملکوں میں لوگوں کے اندر اس قدر آگا ہی پھیلی ہوئی ہے کہ وہ ریشم ، پلا سٹک اور جلد آگ پکڑنے والے کپڑے نہیں بناتے اگر ایک آدھ کپڑا موجود بھی ہو تو گھر کے اندر ایسے کپڑوں کو نہیں پہنا جاتا یہ ایسی احتیاطی تدبیر ہے جو آگ لگنے کی صورت میں نقصان کے امکانات کو کم سے کم کرنے میں مدد دیتی ہے متاثرہ مریض کے جسم کا 5فیصد یا 10فیصدجلا ہوا ہو تو اس کے بچنے کی اُمید کی جا سکتی ہے اگر جسم کا 30فیصد یا 40فیصد یا اس سے زیا دہ حصہ جلا ہوا ہو تو مریض کے بچنے کے مکانات بہت کم ہو تے ہیں

خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار 2009 میں جرمن حکومت، جرمن فاونڈیشن اور نامی تنظیم کے ذریعے صو بے کے 4ہسپتا لوں میں جلے ہوئے زخمیوں کے لئے سپیشلائزڈ سہو لیات کے ساتھ برن، ٹراما اینڈ پلا سٹک سرجری کے لئے خصو صی مرا کز قائم کئے گئے اس طرح کے 3مرا کز پڑوسی ملک افغا نستان میں بھی قائم ہوئے تھے ان میں سے ہمارے ہاں پشاور کے مر کز صحت میں سہو لیات کے ساتھ افرادی قوت کی تر بیت کے لئے تما م سہو لیات فراہم کی گئیں ڈیرہ اسماعیل کے مر کز کو ایک مخیر شخصیت نے ڈھا ئی کروڑ روپے کی مشینری اور دیگر سامان خرید کر دی چترال اور ہزارہ میں قائم مرا کز صحت 2013 میں تعمیراتی کام کی تکمیل کے بعد بند پڑے ہیں تکمیل کی سند متعلقہ شعبے میں جمع کی گئی تھی صوبائی حکومت میں اختیارات محکمے کے افیسر وں سے لیکر ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان کو دیدیے گئے فنڈ بھی غیر متعلقہ لو گوں کو دیدیے گئے اس لئے محکمہ بے دست وپا ہے جن کے پا س فنڈ اور اختیارہے ان کی مثال رہٹ کے بیل کی طرح رہٹ کا بیل ہانکنے کا انتظار کرتا ہانکانہ گیا تو رہٹ نہیں چلے گا بیل اپنی جگہ کھڑا رہے گا

ہمارے لئے یہ بھی شرم کا مقام ہے کہ افغانستان میں برن اینڈ پلا سٹک سر جری کے مرا کز ٹھیک ٹھاک کام کر رہے ہیں خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع چترال سمیت ان اہم مراکز صحت کو سہو لتیں نہیں دیں نگران حکومت کو وقت ضا ءع کئے بغیر برن اینڈ پلا سٹک سر جری کے مرا کز کو تمام مطلوبہ سہو لتیں فراہم کرنی چاہئیں نیز ایک اہم کام یہ ہے صوبے میں برن ، ٹراما اینڈ پلا سٹک سرجری کے لئے خود مختار اتھارٹی قائم کر کے جلے ہوئے مریضوں کے علا ج اور ان کی بحالی کا سارا کام مجوزہ اتھارٹی کے سپرد کی جا ئے یہ سپشیلائزڈ طریقہ علاج ہے اس کا تمام کام خود مختار اتھارٹی کے پاس ہونگے تو اس ناگہانی آفت کے نقصانات کو کم سے کم کرنے میں مدد ملیگی ورنہ موجودہ ڈائریکٹر ڈاکڑ تحمید اللہ صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد پشار کا مر کز بھی بند ہو جا ئے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest